اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم کی سزاکالعدم قرار دیدی۔ عدالت نے کسی دوسرے کیس میں عدم مطلوب ہونے پر ملزم یاسر اورنگ زیب کو رہا کرنے کابھی حکم جاری کردیا۔ 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت کی عدالت نے نومبر 2015 میں یاسر اورنگ زیب کو دھماکہ خیز مواد رکھنے کے جرم میں سات 7 سال قید بامشقت اور انسداد دہشت ایکٹ کے تحت 14 سال کی قیدبا مشقت کی سزا سنائی تھی،عدالت نے قرار دیا کہ گواہان کے بیانات میںتضاد ہے،ایف آئی آر کی تحریر پر متعدد سوالات اٹھتے ہیں، ایک یہ کہ پانچ مسلح اہلکار کی موجودگی میں دو غیر مسلح اشخاص کیونکر فرار ہوگئے، دوسرا یہ کہ جب چھاپہ مار پارٹی کو خفیہ اطلاع ملی تھی تین افراد پیراشوٹ اور دھماکہ خیز مواد کے ہمراہ راولپنڈی سے لاہور آرہے تھے تو کسی ایجنسی نے بس میں سوار ہونے یا اترتے وقت انھیں چیک کیوں نہیں کیا، تین میں سے دو افراد فرار ہوگئے لیکن اہلکاروں نے انھیں گرفتار کرنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی، ایف آئی آرسے پراسیکیوشن کی کہانی میں بڑا جھول نظر آتا ہے،ریکوری بھی مشکوک نظر آتی ہے، اس کیس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پولیس دوسرے فرار ہونے والے مشکوک ملزمان کی گرفتاری کیلئے پریشان نہ ہوئی جو دھماکہ خیز مواد والے پیراشوٹ لئے ہوئے تھےیہ بات بھی بہت حیران کن ہے چھاپہ مار پارٹی کے پاس تینوں مبینہ ملزمان کے نام تک نہیں تھے جو بذریعہ بس راولپنڈی سے لاہور آرہے تھے،دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواستگزار پولیس کسٹڈی میں تھا یا پھر کسی اور کیس میں کسی ایجنسی کے پاس زیر تفتیش تھا،اس کیس میںعدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دستاویزی ثبوتوں کو نظر انداز کرکےٹرائل کورٹ نے بے قاعدگی اور غیر قانونیت کا ارتکاب کیا ہے،لہٰذا 13 مئی 2015 کی ایف آئی آر جھوٹی ہے، درخواستگزار کو اغوا کیا گیا پھر اس کی گرفتاری ظاہر کرنے کیلئے اے کیس میں ملوث کیا گیا،ملزم ریکارڈ یافتہ بھی نہیں ہے،پراسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم کی سزاکالعدم قرار دیدی



