اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ حکومتیں غیر زمہ دارانہ طرز عمل سے نہیں مستقل مزاجی سے چلتی ہیں۔روٹی روزگار رہائش چھین کر ملک کو غرببوں کا سمندر (قبرستان) بنانے کے زمہ دار عمران خان اپنے گریبان میں جھانکیں۔ امیر ترین کابینہ مالیاتی معاونین اور وزیراعظم کا اشرافیہ دوست نہ” تبدیل ہونے والا” مائنڈ سیٹ کھل کر آشکار ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہر دور میں روزگار فراہمی کے زریعے ہزاروں خاندانوں کے چولہے جلائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی زریعے غریبوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بے نظیر پروگرام دیا گیا اور ملازمتوں اور گھروں کے جھوٹے دعویداروں نے لوگوں سے روزگار بجھنے اور بے گھر کیا ہے ۔نیر بخاری نے مزید کہا ہے کہ غُربت قرض اور خیِرات سے نہیں اِنصاف سے ختم ہوگی ۔وزیراعظم بتائیں کنٹینر پر کھڑے ہوکر ٹیکس اکٹھا کر کے دکھاوں گا والے عمران خان کی حکومت میں ایف بی آر کے کتنے چیرمین تبدیل ہوئے ؟کتنے حکومتی خاندانی قابل ٹیکس دوستوں کو ایمنسٹی سکیموں کے زریعے مالی فوائد پہنچائے گئے ہیں اور غریبوں کی تکالیف بڑھانے کیلئے بجلی گیس پٹرول اشیاء ضروریہ میں کتنی بار اضافہ کیا گیا؟ نیر بخاری نے کہا کہ قوم سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کہاں ہے کنٹینر والا عمران خان جو کہتا تھا لوگ ایماندار کو ٹیکس دیتےہیں۔انہوں نے وزیراعظم سے استفسار کیا ہے کہ کیا لوگ آج ٹیکس اس لئے نہیں دیتے کہ وزیراعظم ایماندار نہیں ۔نیر بخاری نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعویدار یو ٹرن ماسٹر عمران خان کے لئے چین رول ماڈل بن گیاہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ تبدیلی بٹن دبانے سے نہیں آسکتی وزیراعظم نے حکومتی نااہلیت کا ایک اور اعتراف کر لیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمران بین الاقوامی اداروں کے زمہ داران کے سامنے تین سالہ حکومتی کارکردگی کی ایک مثال بھی پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔نیر بخاری نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کی کامیابیوں کی مثالیں دینے والے وزیراعظم اپنے ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے راہ فرار کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں ؟
کہاں ہے کنٹینر والا عمران خان جو کہتا تھا لوگ ایماندار کو ٹیکس دیتےہیں؟ نئیر بخاری کی شدید تنقید



