راولپنڈی(نیشنل ٹائمز)مفتی شاہ نواز نے کہا کہ میری بیگم بچیوں کے مدرسہ کی انچارج ہے۔وہاںکسی بھی مرد کو جانے ی اجازت نہیں۔مسکان مجھ پر الزام لگا رہی ہے۔زیادتی کیس کے نامزد ملزم مفتی شاہ نواز نے بتایا لگایا کہ مسکان کا کسی سے چکر تھااور سہولت کار ٹیچر عشرت نےخط پکڑا۔ مسکان کی والدہ کو بلایا گیا تو انہوں نے کہا میری دوسری شادی ہے اس لیے جو مدرسے میں دن گزار دیے جائیں وہ سکون کے ہیں۔میری خاموشی کی وجہ یہ بھی تھی کہ میرے پاس بہت سے بچے پڑھتے ان پر برا اثر نہ پڑے۔میڈیا کو میری طرف سے دعوت ہے کہ مدرسہ آئیں اور لیڈیز رپورٹر دیکھیں میری بیوی بچیاں کیسے تعلیم دے رہیں۔یہ گلیاں بہت تنگ ہیں وہ چیخیں مارتی رہی اور اتنی تنگ گلیوں میں کسی نے نہیں سنا۔مدرسہ کے نیچے دکانیں موجود۔الزام تو حضرت یوسف پر بھی لگا۔رہائی کے بعد گھر پہنچا تو اہل علاقہ گلے لگ کر روے۔مسکان نےرات ٹی وی چینل پر دو کزنوں لا نام بھی لیا مایں اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہتا۔مسکان اور اسکی ماں روبینہ کہتی ہےکہ پولیس انکو کچھ نہ بولے اور عشرت اور مفتی کو رسوا کرے۔ نہ تو میری بیوی نے سکان کو کہا اسلام بچانے کے لیے معاف کرو نہ ہی پیسوں کی آفر۔سوالات مجھ سے اور عشرت سے بھی ہو رہے اور وہ بھی خاتون ۔ہم شور نہیں مچا رہے۔ہم نے اور ساتھیوں نے دھمکیاں نہ دی یہ اپنے آپکو نمایاں کرنے کےلیے ۔۔تھانہ پیرودھائی کا علاقہ کاروباری ہے ہر جگہ کیمرہ موجود دیکھ لیں کس نے پولیس وین کیساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔چیف جسٹس آف پاکستان اور آئی جی پنجاب سے اپیل کے تفتیش میرٹ پر کی جائے ۔آئندہ کسی پر ایسا الزام نہ لگے۔لوگوں نے اپنے مفادات کے لیے کاروبار بنا لینا ہے ورنہ۔۔۔میڈیا پر ایک سائیڈ کا بیان چلتا رہا۔پولیس بھی دباؤ میں آگئی اور تین بار مجھے گرفتار کیا گیا۔میڈیا کے لیے میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں ہر جوب دینے کے لیے تیار ہوں۔میرا اور مسکان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے اور پولی گرافی ٹیسٹ بھی کروایا جائے۔میڈم عشرت کو ضمانت کے باوجود رات ایک بجے گھر سے اٹھایا گیا۔میرے ساتھ زیادتی کی گئی ہے بےگناہ ہوں کیس میں پھنسایا گیا۔جج صاحب کی نگرانی میں کمیٹی بنائی جائے ۔جو شفاف تحقیقات کرے۔
میری بیگم بچیوں کے مدرسہ کی انچارج ہے، وہاں کسی بھی مرد کو جانے کی اجازت نہیں، مسکان مجھ پر الزام لگا رہی ہے



