لاہور(نیشنل ٹائمز)آئی جی پنجاب انعام غنی نے پنجاب پولیس کے سنیئر افسران پر واضع کر دیا کہ وہ اپنے فرائض سے غفلت برتنے کے مرتکب نہ ہوں ۔اگر کسی افسر نے کوتاہی کا ارتکاب کیاتو اسے معاف نہیں کیا جائیگا ۔اب صوبائی افسران یعنی ڈی ایس پی حضرات ہی نہیں بلکہ (PSP) افسران کے خلاف کارروائی کی جائیگی ۔آئی جی پنجاب کے اس حکم کے بعد پولیس کے اعلی افسران میں بے چینی پھیل گئی ۔بتایا گیاہے کہ حال ہی میں ہونے والی آر پی او کانفرنس میں پہلی بار سخت لہجے میں آئی جی پنجاب نے تمام آر پی او ز، سی سی پی اوز اور ڈی پی اوزکو دوٹوک الفاظ میں گریٹر اقبال پارک میںجو شرمناک واقعہ ہوا ہے ان سے پولیس افسران نے بروقت رسپانس دیا اور نا ہی بروقت مقدمہ درج کیا ۔جس سے صورتحال خراب ہوئی ۔حکومت ،میڈیا اور عوام کی جانب محکمہ کو سخت تنقید اور دباؤکا سامنا کرنا پڑا۔آر پی او کانفرنس میںآئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ پولیس افسران گریٹر اقبال واقعہ کا فوری مقدمہ درج کرنا چاہیے تھا اگر افسران اپنے فرائض سے پہلو دہی نہ کرتے تو ایسے حالات پیدا ہی نہ ہوتے ۔پولیس کوئی واقعہ ہونے کی صورت میں مقدمہ درج نہیںکرتی ان کو مقدمات کے اندراج سے کس نے روکا ہے ؟۔ آئی جی پنجاب نے لاہور پولیس کی ٹیم کے بارے سخت الفاظ کہے اور تمام افسران کو وارننگ دی کہ آئندہ کوئی افسر کوتاہی کا مرتکب ہوا تو صرف ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی نہیں کرونگا بلکہ سنیئر پولیس افسران کے خلاف بھی مثالی کارروائی ہو گی۔
اگر کسی افسر نے کوتاہی کا ارتکاب کیاتو اسے معاف نہیں کیا جائیگا



