اسلام آباد / تہران(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں، علاقائی سطح پر متفقہ اور مربوط لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان میں قیام امن، کا فائدہ پورے خطے کو یکساں طور پر ہو گا، پاکستان، افغانستان میں اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کا حامی ہے ۔وزیر خارجہ نے صدر رئیسی کو وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے انہوں نے شکر یئے کے ساتھ قبول کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تہران میں صدارتی محل میں ایران کے صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ملاقات کی جس میںوزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق ،ایران میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی اور ڈائریکٹر جنرل افغانستان آصف میمن بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔وزیر خارجہ نے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی قیادت کی جانب سے حالیہ صدارتی الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی۔اس دوران مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان، ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے پر عزم ہے، وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایرانی قیادت بالخصوص رہبرِ اعلی آیت اللہ خامنہ کی جانب سے پاکستان کے موقف کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔وزیر خارجہ نے ایرانی صدر کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے، پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا ۔وزیر خارجہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں، علاقائی سطح پر متفقہ اور مربوط لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ افغانستان میں قیام امن، کا فائدہ پورے خطے کو یکساں طور پر ہو گا۔پاکستان، افغانستان میں اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کا حامی ہے ۔افغانستان میں قیام امن سے خطے میں تجارت اور روابط کے فروغ میں مدد ملے گی۔ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے وزیر خارجہ کو ایران آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے، خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی عملی کاوشوں کو سراہا۔وزیر خارجہ نے صدر رئیسی کو وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے انہوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔
وزیر خار جہ کا افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں، علاقائی سطح پر متفقہ اور مربوط لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور



