ملا عمر کا وائس آف امریکہ کو دیا گیا انٹرویو۔

(یہ انٹرویو The Gaurdian میں 26 ستمبر 2001 کو شائع ہوا۔میری طرف سے اس کا اردو ترجمہ احباب کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔) وائس آف امریکہ: آپ اسامہ بن لادن کو نکال کیوں نہیں دیتے؟ ملا عمر: یہ مسئلہ اسامہ بن لادن کا نہیں ہے۔ یہ اسلام کا مسئلہ ہے۔اسلام کا وقار خطرے میں ہے۔افغانستان کی روایات خطرے میں ہیں۔ وائس اف امریکہ: کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ملا عمر: میرے پیش نظر دو وعدے ہیں۔ایک وعدہ اللہ کا ہے اور دوسرا بش کا۔اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ میری زمین وسیع ہے۔اگر تم اللہ کے راستے پر چلو تو تم اس زمین پر کہیں بھی سکونت اختیار کر سکتے ہو اور تمھاری حفاظت کی جائے گی۔ بش کا وعدہ یہ ہے کہ زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں تم چھپ جاو اور میں تمہیں تلاش نہ کرسکوں۔ہم دیکھیں گے کہ ان دو میں سے کون سا وعدہ پورا ہوتا ہے۔ وائس آف امریکہ: کیا آپ اپنی ذات، اپنے لوگوں، طالبان اور ملک کے بارے میں خوف زدہ نہیں ہیں۔ ملا عمر: اللہ رب العزت اہل ایمان اور مسلمانوں کی مدد فرما رہا ہے۔اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ کفار سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔دنیوی معاملات کے اعتبار سے امریکہ بہت طاقتور ہے۔امریکہ اگر اس سے بھی دو گنا زیادہ طاقتور ہوتا تو ہمیں شکست نہ دے سکتا۔ ہم مطمئن ہیں کہ اگر اللہ ہمارے ساتھ ہے تو کوئی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔وائس آف امریکہ: آپ مجھے بتارہے ہیں کہ آپ فکر مند نہیں ہیں حالانکہ افغانی تو پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں تشویش میں مبتلا ہیں۔ ملا عمر: ہم بھی فکر مند ہیں۔آنے والے دنوں میں ہمیں بڑے مسائل کا سامنا ہوگا۔لیکن ہم اللہ کی مہربانی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ہمارے نکتہ نظر کو سمجھیئے۔آج اگر ہم اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے دیں تو مسلمان جو آج ہمیں ایسا کرنے کو کہہ رہے ہیں یہی ہمیں برا بھلا کہیں گے۔ ہر کوئی امریکہ سے خوف زدہ ہے اور اسے خوش کرنا چاہتا ہے۔تاہم امریکہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے قابل نہیں ہوپائے گا جس طرح کا واقعہ ابھی ہوا ہے۔کیونکہ امریکہ نے اسلام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اگر آپ مسلم ممالک کا جائزہ لیں تو لوگ مایوس ہیں۔وہ شکایت کررہے ہیں کہ اسلام مٹ چکا ہے لیکن لوگ اسلامی عقائد پر پختگی کے ساتھ قائم ہیں۔ان میں سے بعض اس تکلیف اور مایوسی میں خودکش حملے کرتے ہیں۔ان کا احساس ہے کہ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ وائس آف امریکہ: یہ کہنے سے آپ کی کیا مراد ہے کہ امریکہ نے مسلم دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے؟ ملا عمر: امریکہ مسلم ممالک کی حکومتوں کو کنٹرول کرتا ہے۔لوگ اسلام پر چلنے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن مسلم حکومتیں ان کا یہ مطالبہ نہیں مانتیں کیونکہ وہ امریکہ کےپنجہ استبداد میں گرفتار ہیں۔اگر کوئی اسلام کے راستے پر چلتا ہے تو مسلم ممالک کی حکومتیں اسے گرفتار کرلیتی ہیں۔ اسے اذیت دیتی ہیں یا قتل کردیتی ہیں۔ یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے ۔امریکہ اگر ان مسلم حکومتوں کی مدد نہ کرے اور مسلمانوں کو خود ان سے نمٹنے دے تو پھر اس طرح کے واقعات نہیں ہوں گے۔امریکہ نے ایسا شر پیدا کردیا ہے کہ اب وہ اسی پر حملہ آور ہے۔یہ شر میرے،اسامہ یا کسی اور کے مرنے سے ختم نہیں ہو جائے گا۔امریکہ کو پیچھے ہٹ جانا چاہئیے اور اپنی پالیسی کا جائزہ لینا چاہیئے۔امریکہ کو اپنی سلطنت جبرا دوسرے ممالک اور خصوصا مسلم ممالک پر نافذ نہیں کرنی چاہیئے۔وائس آف امریکہ: مطلب کہ آپ اسامہ بن لادن سے دست بردار نہیں ہوں گے؟ ملا عمر: نہیں۔ ہم یہ نہیں کرسکتے۔اگر ہم ایسا کریں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔اور یہ کہ اسلام مٹ چکا ہے۔اگر ہم حملوں سے ڈرتے تو ہم اسے اس وقت حوالے کرچکے ہوتے جب پہلے ایک دفعہ ہمیں دھمکیاں دی گئیں اور ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔چنانچہ امریکہ ہم پر حملہ کرسکتاہے۔ویسے اس دفعہ تو ہمارا کوئی دوست بھی نہیں ہے۔ وائس آف امریکہ: اگر آپ اپنی پوری طاقت سے امریکہ کے خلاف لڑیں- کیا طالبان کے لیئے ایسا کرنا ممکن ہے؟کیا امریکہ آپ کو سزا نہیں دے گا؟آپ کے لوگ زیادہ تکلیف کا سامنا کریں گے۔ ملا عمر: مجھے پورا یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔برائے کرم آپ یہ نوٹ کرلیں۔اللہ پر بھروسے سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اگر آدمی اللہ پر توکل کرتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ اس کی مدد کرے گا۔ اس پر مہربانی فرمائے گا اور کامیابی اسی کی ہوگی۔



  تازہ ترین   
پاکستان کا امن مشن ناکام نہیں ہوا، بھارت ہمارے ساتھ اپنے تعلق کا فیصلہ کر لے: عراقچی
صدر شی ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر متفق ہیں: ٹرمپ
ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین
سینیٹ نے مفت اور لازمی تعلیم کے ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد، گیس، بجلی کے نرخ میں تبدیلی شامل
سعودیہ کی مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز
چین آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کا مخالف، ہمارا مؤقف بھی یہی ہے: مارکو روبیو
ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، دفاع کیلئے لڑنے کو تیار ہیں: عباس عراقچی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر