دردانہ بٹ کی زندگی کے چند وہ لمحات، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

پاکستان کے اسٹیج، ٹی وی اور فلم کی اداکارہ دردانہ بٹ گزشتہ روز وفات پا گئیں ہیں، وہ گزشتہ چند برسوں سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور وفات سے قبل ونٹیلیٹر پر تھیں۔
آج ہم اپنی اس اسٹوری میں اپنے دور کی مشہور اداکارہ دردانہ بٹ کی زندگی کے چند وہ لمحات شیئرکر رہے ہیں، جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
پاکستان کی نامور کامیڈین دردانہ بٹ کی پہچان تو سلور اسکرین تھی لیکن پس منظر میں وہ ایک استاد تھیں، انہوں نے ہوا بازی بھی کی اور ایک مرتبہ تو انہیں پولیس میں بھرتی ہونے کی پیشکش بھی ہو ئی تھی۔
ایک نجی ٹی وی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں دردانہ بٹ کا کہنا تھا کہ جوانی کے دور میں بہت ٹام بوائے قسم کی لڑکی تھی، اور اسی لیے میں پولیس میں جانا چاہتی تھی لیکن اللہ کو کچھ اور بھی منظور تھا۔
دردانہ بٹ کی ایک بہن اور ایک چھوٹا بھائی ہے جبکہ دردانہ دوسرے نمبر پر تھیں،دردانہ کہتی تھیں کہ میری بڑی بہن بہت خوبصورت ہیں جبکہ چھوٹا بھائی امی کا دلارا ہے جبکہ والد صاحب مجھ سے زیادہ پیار کرتے تھے، توجہ حاصل کرنے کے چکر میں میں ٹام بوائے بن گئی تھی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ میں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود کو بھی نقصان پہنچاتی تھی، ہم جو کہہ دیتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو، یہ رسی آرام سے نہیں آتی۔ اس رسی کے لیے بہت محنت، لگن ضروری ہے۔ ہم اپنے بچوں کو قران ختم کرنے پر خوش ہوتے ہیں، قرآن ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنے بچوں کو ترجمہ کے ساتھ اسے سکھائیں۔ قرآن شریف کے ایک لفظ پر اگر روز سوچوں کہ یہ کیا ہے تو اس کے ایک لفظ کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔
زندگی سے متعلق دردانہ کہتی تھیں کہ زندگی ایک تکلیف دہ سفر ہے، اور اس تکلیف کو برداشت کرنا سیکھیں۔ میری تکلیف کا مرحم میرا مرشد ہے، صحیح مرشد ملنا خوش قسمتی ہے۔ اللہ کا کرم اسی وقت ہوتا ہے جب بندہ خود اللہ کی طرف آںے کے لیے جدوجہد کرے۔ میں بہت طاقتور ہوں مگر میں حساس بھی ہوں۔ لیکن میرے آپریشن نے مجھے رُلا دیا تھا، میں بہت روئی تھی۔ ہم جب بھی گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں وہ ایمان کی کمزوری ہوتی ہے۔دردانہ بٹ موت سے متعلق کہتی تھیں کہ ہم موت کے آںے کو یاد نہیں کرتے، سب سے بڑا ڈر یہی ہے کہ موت نے آنا ہے۔ مگر ہم مانتے نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا تھاکہ مجھے بہت ڈر لگتا تھا موت سے، مگر اب نہیں لگتا۔ لیکن صرف ایک دعا ہے اللہ سے کہ مجھے آزمائشوں والی موت نہ دینا۔
انہوں نے کہاکہ لوگوں کی وفات پررونے کے بجائے ، ہمیں فاتحہ خوانی کرنی چاہیے، قرآن خوانی کرائیں۔ جو بھی آرٹسٹ جاتا ہے اس دنیا سے، اس کے لیے فاتحہ خوانی کرائیں، سب آرٹسٹس کو ۔
دردانہ بٹ اپنے بچپن کے بارے میں بتاتی تھی کہ ان کے والد برطانیہ میں پاکستان کے سفارتخانے میں ایجوکیشنل اتاشی تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم وہاں ہی حاصل کی اس کے بعد ان کے والد کا تبادلہ ہوگیا اور وہ واپس پاکستان آگئے۔
ایک مرتبہ سرکاری چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں دردانہ بٹ نے بتایا تھا کہ جب ان کی فیملی وطن واپس آئی تو ان کی عمر صرف 11 سال تھی۔
ان کی رہائش لاہور میں تھی جہاں کاکرروچ اور مچھر دیکھ کر وہ چلاتی تھیں اور والد سے کہتی تھیں کہ واپس انگلینڈ لیکر جائیں جس کے بعد ان کا مری میں مشنری سکول میں داخلہ کرایا گیا۔ اس کے بعد ان کا کانووینٹ لاہور میں داخلہ ہوا۔
انہوں نے اس انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان دنوں ان کی اردو بہت خراب تھی اور ان کے والد انہیں اردو سکھاتے تھے۔



  تازہ ترین   
افغانستان اپنی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے استعمال سے روکے: عاصم افتخار
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا ریڈیو سے وابستہ افراد کو خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف کی بنگلہ دیشی عوام اور طارق رحمان کو مبارکباد
شہباز شریف کی صدر زرداری سے ملاقات، پارٹی سطح پر مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب، پانی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: دفتر خارجہ
بانی پی ٹی آئی کی بینائی صرف 15 فیصد باقی ہے: بیرسٹر سلمان صفدر
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر