اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ نوازشریف میں اخلاقی جرات ہوتی تو کہتے میں ہار چکا ہوں، ہار تسلیم کرنے سے قائد ن لیگ کا عزت و مرتبہ بہت بڑھ جاتا۔ ایک انٹرویو میں اسد قیصر نے شہباز شریف حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منتخب حکومت نہیں ہے، یہ لوگ جعلی مینڈیٹ سے بیٹھے ہیں، بچہ بچہ جانتا ہے کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی۔انھوں نے کہا کہ اس حکومت کے ساتھ کیسے بیٹھیں جس نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا، ہم دو تہائی اکثریت سے جیتے ہیں، یہ کس قانون کے تحت حکومت کررہے ہیں، پہلے یہ اپنی غلطی تسلیم کریں کہ غلط مینڈیٹ پر بیٹھے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کس طرح بانی پی ٹی آئی کو باہر نکالیں، کیونکہ عمران خان کو جیل میں رکھا تو ملک انارکی کی طرف چلا جائے گا۔پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ 5 جولائی کو مانسہرہ اور پھر 6 جولائی کو اسلام آباد میں جلسہ کر رہے ہیں۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد سے متعلق پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ مولانا کے ساتھ رابطے ہیں، ہم کمیٹی بنارہے ہیں، ابھی تک آفیشل میٹنگ نہیں ہوئی، خواہش ہے کہ مولانا اور ہماری ایک ساتھ فلائٹ ہو۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ایک پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو، امید ہے کہ فضل الرحمان کے ساتھ معاملات طے پاجائیں گے، بڑے مقصد کیلئے ذاتی مسائل کو پیچھے رکھ کر آگے بڑھیں گے۔
نوازشریف میں اخلاقی جرات ہوتی تو الیکشن میں ہار تسلیم کرتے، اسد قیصر



