تحریر: عابد حسین قریشی
یہ دل کیا ہے، دل نازک ہے، حساس ہے، محبت کا متلاشی ہے، چوٹ لگنے پر زیادہ حساس ہو تو ڈوب جاتا ہے، سخت ہو تو سہہ جاتا ہے، دل بخیل ہو تو انسان ضلالت و رذالت کی طرف گامزن، سخی ہو تو اوج ثریا کی طرف پرواز۔ دماغ کیا ہے، منصوبہ ساز ہے، پلانر ہے، چالیں چلتا اور دلوں کے معاملات خراب بھی کر دیتا ہے۔ یہ تعلقات کیا ہوتے ہیں۔ یہ دو طرفہ مفادات کا کھیل ہوتا ہے۔ جس میں خلوص کم اور غرض زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نیاز مندی کیا ہے۔ جس میں”” نیاز”” بھی ہو ورنہ پھر صرف مندی ہی ہوتی ہے۔ یہ جمہوریت کیا ہے۔ جمہوریت کی دنیا میں دو قسمیں ہیں۔ پاکستانی اور مغربی جمہوریت۔ مغربی جمہوریت تو کتابی سی اور آئینی سی ہے۔ اصل مزہ تو پاکستانی جمہوریت میں ہے۔ اس جمہوریت میں ووٹ ڈالنے والوں سے ووٹ گننے والے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ اور حکمرانی کا حق اسے ہی ہوتا ہے، جسے ووٹ گنننے والوں کی آشیرباد حاصل ہو۔ ضمیر کیا ہے، جو گناہ سے روکتا نہیں ہے، صرف اسکا مزا کرکرا کرتا ہے۔ضمیر زندہ ہو تو لاکھ کا اور مردہ ہو تو سوا لاکھ کا۔ جیسے اس وقت غزہ کے مظلوم و مجبور مسلمانوں کی حالت زار پر مسلم دنیا کے حکمرانوں کا ہے، ضمیر جاگا ہو تو بے چین کر دیتا ہے،سویا ہو تو موجاں ای موجاں۔ بزرگی کیا ہے۔ اسکا عمر کے ساتھ تعلق نہیں، جب آپکی اہلیہ آپ پر “شک” کرنا چھوڑ دے تو آپ بزرگ بن چکے۔ محبت کیا ہے۔ محبت دلوں پر راج کرتی ہے،یہ دلوں کا کھیل ہے، یہ ظرف والوں کا قرینہ ہے، کم ظرف محبت کی قدر کیا جانیں، محبت الفاظ سے زیادہ احساس کا نام ہے۔ادھوری محبت جان لیوا اور یکطرفہ محبت اس سے بھی خطرناک۔ یہ عشق کیا ہے۔ یہ محبت سے ذرا اوپر کی چیز ہے، عشق میں خود سپردگی، عشق لازوال ہے، عشق مکمل یکسوئی اور قربانی مانگتا ہے۔ یہ مقدر والوں کے حصہ میں آتا ہے۔ یہ افسر کیا ہوتا ہے۔ جو ماتحت پر ہمیشہ شک و شبہ کی نگاہ ڈالے، اپنے سے اوپر والوں سے ڈرے اور نیچے والوں کو ڈرائے۔ یہ ماتحت کیا ہوتا ہے۔ جو ہمہ وقت اپنے افسر کی نقل و حرکات پر نظر رکھے اور کام سے زیادہ اپنی مراعات پر غور و فکر جاری رکھے۔ یہ فہم و فراست کیا ہے۔ کسی دوسرے کی بات کو جلد سمجھ لینا تو فہم ہے، اور نامناسب بات کو روک لینا، لا حاصل بحث اور احمق کے وار سے بچنا فراست ہے۔ یہ حکمت کیا ہے۔ حکمت دانائی سے زیادہ کمیاب بلکہ نایاب جنس ہے۔ جہالت کیا ہوتی ہے۔ یہ اختیاری ہوتی ہے، ورثہ نہیں، جب کوئی قوم یا گروہ غور و فکر سے اجتناب کرے، غیر ضروری بحث و مباحثہ، دلیل اور لاجک کی بجائے ہٹ دھرمی اور عدم برداشت پر اتر آئے تو اسے جہالت ہی کہتے ہیں۔ اسکا تعلیم یا ڈگریوں سے تعلق نہیں ہوتا۔ (جاری ہے۔)



