پاکستان کے ہر مسئلے کا حل آئین ہے، جو اس سے باہر نکلے گا نقصان ہو گا، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر مسئلے کا حل آئین ہے، جو اس سے باہر نکلے گا نقصان ہو گا،عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ آزادانہ فیصلے دے،چین نے برادرانہ مشورہ دیا کہ ملک میں استحکام ہونا چاہیے، عدم استحکام ہو گا تو ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی،عزم استحکام جیسے آپریشن میں عوام کی حمایت ضروری ہے اگر کسی سیاسی جماعت کے تحفظات ہیں تو اسے دور کریں،حکومت کو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لانا چاہیے تا کہ عوام کی حمایت ملے،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر امریکہ کا بہت اثر ہے، امریکی ایوان نمائندگا ن کی قرارداد ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ امریکی قرارداد پر ہمیں تشویش ہونی چاہیے،امریکی قرارداد ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر امریکہ کا بہت اثر ہے،امریکی قرارداد نے پاکستان میں جمہوری اور معاشی حالات پر تشویش کا اظہار کیا،قرارداد کے معاملے کو سفارتی سطح پر ڈیل کرنا پڑے گا،ہمارے ہاں قرارداد کا شائد کوئی خاص اثر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ باتوں کو چھپانے اور دبانے سے مسائل حل نہیں ہوتے،جس کے ساتھ جو زیادتی ہوئی وہ غلط ہوا ،مسائل کو حل کرنا چاہیے،مخصوص نشستیں کسے ملنی ہیں، اس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا ہے،اگر ایک پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی تو سپریم کورٹ نے اس کی تشریح کرنی ہے،مخصوص نشستوں کا معاملہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، سپریم کورٹ نے واضح کرنا ہے،ماضی میں عدلیہ کے فیصلوں سے یہ تاثر بنا کہ عدلیہ آزاد نہیں ہے،میں سمجھتا ہوں کہ یہ تاثر ہی نہیں بننا چاہیے کہ عدلیہ کسی دبائو میں ہے،ماضی میں عدلیہ آزاد نظر نہیں آئی، آج کچھ آزاد نظر آرہی ہے،عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ آزادانہ فیصلے دے،عدلیہ کے فیصلے قانون کے مطابق اور آزادانہ ہونے چاہئیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین کی پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری ہے،چین نے برادرانہ مشورہ دیا کہ ملک میں استحکام ہونا چاہیے، عدم استحکام ہو گا تو ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی،عزم استحکام جیسے آپریشن میں عوام کی حمایت بہت ضروری ہوتی ہے،حکومت کو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لانا چاہیے تا کہ عوام کی حمایت ملے،عوام کی حمایت ملنے تک اس طرح کے آپریشن نہیں کرنے چاہئیں،عزم استحکام آپریشن پر اگر کسی سیاسی جماعت کے تحفظات ہیں تو اسے دور کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کو کسی نے نہیں بنایا بلکہ ہم اپنی جماعت خود بنا رہے ہیں،کسی خاص مقصد یا الیکشن کے وقت یہ جماعت قائم نہیں کی جا رہی،جمہوری سفر اور عوام تک پہنچنے کیلئے ہم اپنی جماعت سامنے لائے ہیں،الیکشن کے قریب جو جماعتیں قائم کی گئیں ان کے مقاصد پورے ہو گئے،پاکستان کے ہر مسئلے کا حل آئین ہے، جو اس سے باہر نکلے گا نقصان ہو گا،ہماری جماعت آئین کے مطابق رہتے ہوئے تمام کام کرے گی،ہماری جماعت فنڈ ریزنگ بھی کرے گی تو وہ آئین کے اندر رہتے ہوئے کرے گی،جمہوریت ایک سفر کا نام ہے، اصولوں پر کاربندرہیں گے،صرف الیکشن جیتنا کافی نہیں ہوتا، ملک کے حالات ٹھیک کرنا ہوتے ہیں،تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے الیکشن ضرور جیتا لیکن ملک کی تقدیر نہیں بدل سکیں۔



  تازہ ترین   
صدرِ مملکت اور وزیرِاعظم کی ملاقات، ملکی صورتحال اور خطے کے امور پر مشاورت
حکومت کی کفایت شعاری مہم میں 13 جون 2026ء تک توسیع
بنوں پولیس چوکی حملہ: افغان ناظم الامور دفترخارجہ طلب، احتجاجی مراسلہ دیا گیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی، بلوچستان سے خودکش بمبار خاتون گرفتار
صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب مسترد کردیا
ایران نے یورینیم افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کر دی: امریکی اخبار
غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، ضرورت پڑنے پر بھرپور جواب دینگے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ہمارا مسودہ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے نہیں، ایران کا امریکہ کو دوٹوک جواب





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر