کراچی ،کوئٹہ،گوجرانوا لہ (نیشنل ٹائمز)ملک میں شدید گرمی میں بجلی کی بد ترین لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بلوں میں اضافے پر شہریوں کا پارہ ہائی ہو گیا، گرمی کے ستائے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہیں بلاک کر دیں۔تفصیل کے مطابق کوئٹہ میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف زمیندار ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے کوئٹہ پنجاب قومی شاہراہ اور کوئٹہ کے پی کے قومی شاہراہ قلعہ سیف اللہ کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دی۔نوشکی ،منگچر، مستونگ، قلعہ سیف اللہ میں بھی زمینداروں نے احتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہوں کو بلاک کردیا۔زمیندار ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث ہماری فصلیں تباہ ہوگئی ہیں،واپڈا والے ہوش کے ناخن لیں ،ہمیں آخری اقدام اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔دوسری جانب پنجاب میں گوجرانوالہ میں جماعت اسلامی کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے گیپکو ہیڈ کوارٹرز کے سامنے دھرنا دے دیا۔کارکن اور عام شہریوں کی بڑی تعداد ریلی کی صورت میں احتجاج میں شرکت کیلئے پہنچی،کارکنوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بجلی کے بلوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔احتجاج کے باعث گیپکو ہیڈ کوارٹرز سے ملحقہ روڈ بند کر دی گئی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ پر قابو پانے کیلئے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے مظاہرے کئے گئے ۔ادھر کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کے الیکٹرک ہیڈ آفس کے باہر احتجاج کیا گیا پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے ہالوں میں بیٹھ کر باتیں ہورہی ہیں لیکن عوام کے لیے باہر نہیں نکلا جارہا،اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی صرف باتیں کررہے ہیں،آج غریب آدمی 52 روپے فی یونٹ ادا کررہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کے الیکٹرک نے اگر لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی توتمام اضلاع میں احتجاج ہوگا،انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ کے الیکٹرک کی جانب سے کی جانے والی لوڈشیڈنگ پر از خود نوٹس لیں۔
شدید گرمی میں بدترین لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بلوں میں اضافے کیخلاف شہریوں کا پارہ ہائی،سندھ،بلوچستان اور پنجاب کے مختلف شہروں میں مظاہرے، سڑکیں بلاک کردی گئیں



