سپریم کورٹ کا مقصد تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا ہر گز نہیں تھا، جسٹس منیب اختر

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا مقصد تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا ہر گز نہیں تھا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی ف±ل کورٹ نے کیس کی سماعت کی جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل کے جواب میں ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامدرضا کو ٹاور کا نشان دیا ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد کیا.

جسٹس منیب اختر نے دریافت کیا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد کسی امیدوار کو اختیار ہے کہ اپنی پارٹی تبدیل کرلے؟ کیا کوئی امیدوار کہہ سکتاہےکہ فلاں پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی کا ٹکٹ لینا چاہتا ہوں؟.
جسٹس منصورعلی شاہ نے بتایا کہ ہمارے سامنے کاغذات نامزدگی کا کیس ہے ریٹرننگ افسران کے پاس امیدوار کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکٹ ہوتا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن میں جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے، پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا. چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص اگر شادی کرنا چاہے تو لڑکی کی بھی رضامندی ضروری ہے نا، جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ مختلف شہروں کے ریٹرننگ افسران ہوتے ہر ریٹرننگ افسر اپنے طریقے سے کام کرئے گا نا؟ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے، اگر ڈیکلریشن، سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزاد امیدوار ہوتا ہے اس پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا آپ کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیا جائے.
ا س پر جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں اسی کا سرٹیفیکٹ بھی دے لیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزادامیدوار ظاہر کردیا ہو؟ وکیل نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ کیا ان 81 امیدواروں میں کوئی ایک ہے جس نے جماعت سے وابستگی اور سرٹیفکٹ بھی دیا؟ کیا ایسے ہیں جنہوں نے وہ کاغذات واپس نہیں لیے مگر پھر بھی اسے آزاد ڈیکلئیر کردیا ہو؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ 81 لوگ ہیں تو ان کا مختلف مختلف حساب ہے.
اس پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ آپ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کا جواب جو چارٹ آپ نے جمع کرایا اس میں موجود ہے جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ چارٹ کے مطابق 81 میں سے 35 نے وابستگی کو خالی رکھا کیا یہ ریکارڈ نہیں دکھاتا کہ پی ٹی آئی امیدواروں کا رویہ غیر سنجیدہ ہے؟جسٹس میاں محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سیریل 12 اور 20 والے امیدواروں کے وابستگی اور ڈیکلیریشن دونوں پی ٹی آئی کے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ جب یہ دونوں چیزیں موجود تھیں تو امیدوار کو پی ٹی آئی کا کیوں نہ سمجھا گیا؟ الیکشن کمیشن نے اس کے بعد انتخابی نشان سے کنفیوژ کیوں کیا؟ جن امیدواروں نے پارٹی کا سرٹیفکٹ بھی دیا انہیں اس جماعت کا تصور کیوں نہ کیا گیا؟ آپ اس معاملے میں انتخابی نشان کہاں سے لے آئے؟.
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ سیریل 22 والے امیدوار کو بھی دیکھیں جس امیدوار نے وابستگی برقرار رکھی اسے آزاد کیسے ڈیکلئیر کیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کا جواب مجھے کلک نہیں کر رہا جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائے گا نا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آزادامیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں تحریک انصاف کی بات ہورہی جو قومی جماعت ہے الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملے گا سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کردیں.
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہر گز نہیں تھا” بلے“ کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی ہے لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا 22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟وکیل نے بتایا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا نگراں حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟ کیا کسی نگراں حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگراں حکومت اتنی ہی آزاد ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟دنیا بھر کی باتیں کررہے ہیں اس کو بھی دیکھیں جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ انتخابات میں عوام کی منشا دیکھی جاتی ہے، اگر کوئی انتخابات پر سوال اٹھائے تو الیکشن کمیشن کے پاس معاملہ جاتاہے جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ سیاسی نشان بعد کی بات ہے، امیدوار انتخابات میں حصہ لیتا ہے، پارٹی نہیں، امیدوار صرف پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرتا، امیدوار کا حق ہے کہ اسے انتخابات کے لیے نشان ملے، وابستگی کا معاہدہ امیدوار اور جماعت کے درمیان ہوتا ہے ، آپ کوئی ایک قانون کی شق دکھا دیں الیکشن کمیشن نے انہیں کیسے آزاد ڈیکلیئر کر دیا؟.
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اس کا جواب یہی ہے نا کہ آپ نے بس انتخابی نشان نہ ہونے پر اس جماعت کو الیکشن سے باہر رکھا؟ بس ہمیں یہ بتا دیں الیکشن کمیشن نے کب کہاں بیٹھ کر یہ سوچا؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہوا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کر کے اہم پارٹی کو الیکشن سے نکال دیا، اب انتخابی نشان کا فیصلہ دینے والا بینچ آپ کو خود بتا رہا ہے آپ کی تشریح غلط تھی.
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ صرف آبزرویشن ہیں ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں آیا انتخابی نشان والے فیصلے کے خلاف نظر ثانی زیر التوا ہے چند امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے اور آزادامیدوار خود کو ظاہر کیا آزادامیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے دیکھنا ہوگا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے آزادامیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے.
اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آزادامیدوار نے خود کو امیدوار ظاہر نہیں کیا الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن کہہ رہا کیسے شامل ہوسکتے؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزادامیدوار کہا اور اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتاہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کچھ حقائق واضح ہوتے جس کے لیے آپ کا یا میرا بولنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن کے عدالت کو مہیا کیے گئے دستاویزات میں تنازع ہے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فارم 33 الیکشن کمیشن بناتا ہے جس میں امیدوار اپنا سرٹیفیکٹ دیتا ہے بعد ازاں عدالت نے سماعت پیر کی صبح 11 بج کر 30 منٹ تک ملتوی کردی گئی۔



  تازہ ترین   
صدرِ مملکت اور وزیرِاعظم کی ملاقات، ملکی صورتحال اور خطے کے امور پر مشاورت
حکومت کی کفایت شعاری مہم میں 13 جون 2026ء تک توسیع
بنوں پولیس چوکی حملہ: افغان ناظم الامور دفترخارجہ طلب، احتجاجی مراسلہ دیا گیا
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی، بلوچستان سے خودکش بمبار خاتون گرفتار
صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی منصوبے پر ایران کا جواب مسترد کردیا
ایران نے یورینیم افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کر دی: امریکی اخبار
غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، ضرورت پڑنے پر بھرپور جواب دینگے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ہمارا مسودہ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے نہیں، ایران کا امریکہ کو دوٹوک جواب





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر