سڈنی (شِنہوا)یونیورسٹی آف سڈنی کے پروفیسرڈومینک ڈوئیر نے کہا ہے کہ کوویڈ19کے ماخذ کے بارے میں لیبارٹری سے وائرس کے خارج ہونیکا مفروضہ غلط ہے۔ سڈنی مارننگ ہیرالڈ میں شائع اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ کلیدی نقص یہ ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں وبا شروع ہونے سے پہلے سارس-کووی2کا وائرس موجود تھا۔جنوری میں چین کا دورہ کرنے والی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کی ٹیم کے رکن پروفیسر ڈومینک ڈوئیر نے کہا کہ لیبارٹری سے اخراج ،اس کے ماخذ ہونے کے لئے۔اس کا مطلب ہے کہ وبا کے آغاز کے لئے ان کے پاس وائرس کا موجود ہونا لازمی تھا،لیکن ہمارے پاس اس چیزکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ڈوئیر نے کہا کہ کورونا وائرس پر تحقیق کرنے والے ایک ” مناسب ممتاز تحقیقی انسٹی ٹیوٹ” کی حیثیت سے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے پاس اگر کوئی وائرس تھا بھی تواسے چھپانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ چین نے کوویڈ19کے ماخذ کی تحقیقات میں کچھ نہیں چھپایا اوربھرپور تعاون کیا ۔جتنے مقامات کا ہم نے دورہ کرنے کا کہاان کا ہمیں دورہ کرایا گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ چین نے ہمارے ساتھ کھلا تعاون کیا۔ڈبلیو ایچ اوکی ٹیم کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ وائرس کی جانوروں کی ایک نسل سے دوسرے جانوروں اور پھر انسانوں میں منتقلی کوویڈ19کی سب سے زیادہ امکانی صورت ہے اور کسی لیبارٹری سے اس کے اخراج کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔
کوویڈ19کا ووہان کی لیبارٹری سے خارج ہونیکا مفروضہ غلط ہے:ڈبلیو ایچ اومحقق



