ہر شعبہء زندگی کے ریٹائرڈ لوگوں کی خدمت میں۔

تحریر: عابد حسین قریشی

ریٹائرمنٹ کے تقریباً دو سال بعد ایک طویل کالم / آرٹیکل لکھا کہ بعد از ریٹائرمنٹ زندگی بے مصرف نہیں۔ دوست احباب نے خاصی ستائش اور پزیرائی کی۔ آجکل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وایرل ہے، کہ جاپان میں لوگ ریٹائرڈ نہیں ہوتے ، بلکہ وہ سو سال کی عمر تک بھی کام کرتے ہیں اور active رہتے ہیں۔ ایک دوست نے جب وہ ویڈیو شیئر کی،تو میں نے اس پر لکھا، کہ ہمارے ہاں بھی لوگ ریٹائرڈ نہیں ہوتے، بس لوگ انہیں ریٹائرڈ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، اور،اسکا آغاز عمومی طور پر اس ریٹائرڈ آدمی کے گھر سے ہی ہو جاتا ہے۔ ایک اور ریٹائرڈ دوست نے ایک دن شکوہ کیا، کہ ریٹائرمنٹ کے بعد لوگ بدل جاتے ہیں اور قریبی نظر آنے والوں میں بھی دوریاں شروع ہو جاتی ہیں، تو میں نے عرض کیا کہ ریٹائرمنٹ پر لوگ نہیں بدلتے، انکے رویے بدل جاتے ہیں۔ لوگ تو وہی ہوتے ہیں، مگر وہ ویسے نظر نہیں آتے۔ پھر انہیں عرض کی، جب آپ بااختیار ہوتے ہیں، بر سر اقتدار ہوتے ہیں ، تو لوگ آپکے پاس نہیں آتے، بلکہ اس عہدے کے پاس آتے ہیں جو آپ استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کو اے، بی ،سی سے کام نہیں ہوتا، بلکہ اس عہدہ یا سیاسی و سماجی پوزیشن یا clout سے کام ہوتا ہے، جو وہ بندہ انجوائے کر رہا ہوتا ہے۔ جس دن لوگوں کو یہ یقین ہو جاتا ہے اب یہ ریٹائرڈ آدمی ہمارے کام کا نہیں رہا، فون کی گھنٹی بجنا بند ہو جاتی ہے، نگاہیں بدل جاتی ہیں اور آپ لوگوں کے لیے irrelevant ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔وہی لوگ جو کبھی آپ کو امرت دھارا سمجھتے تھے وہ بجھے ہوئے سگریٹ یا چلے ہوئے کارتوس سے تشبیہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس میں حیرانگی والی کوئی بات نہیں، کہ ہمارے complexed معاشرہ میں لوگ چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔لوگ ریٹائرڈ بندے کو دیکھ کر راستہ نہیں بدلتے،صرف تاثرات بدلتے ہیں۔ وہ سروس والی گرمجوشی نہیں رہتی۔ اور ایسا ہونا بالکل فطری ہوتا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے دوست احباب اور جوڈیشل سروس کے جونیئر دوستوں سے نا قابل یقین حد تک پیار اور پزیرائی ملی۔اس میں اللہ کریم کا خصوصی کرم اور رحمت کے ساتھ شاید اس سلوک اور شفقت کا بھی کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہے ، جو دوران سروس ان دوستوں کے ساتھ روا رکھا ہوتا ہے۔ مگر میں لوگوں کے عمومی رویوں کی بات کر رہا ہوں۔ جس دن ہمارے ریٹائرڈ دوستوں کو ان سب باتوں کا ادراک ہو گیا، اس روز سارا معاملہ آسانی سے سمجھ بھی آ جائے گا اور زندگی آسان بھی ہو جائے گی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ذہن کو جھٹکا دینا پڑتا ہے کہ بس اب ریٹائرڈ ہو گئے۔ اور وہ سارا کروفر جو طویل عرصہ انجوائے کیا اب ختم ہو چکا، اب عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنا ہوگی ، زندگی خود بخود آسان ہو جاتی ہے۔ اپنے معمولات زندگی بدلنا پڑتے ہیں۔ صرف سرکاری مراعات کے سہارے زندگی نہیں گزرتی، اسے باعزت طریقہ سے گزارنے کے لیے نئے حوصلہ، جزبہ اور ترنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لوگوں کے بدلتے رویوں پر شاقی ہونے کی بجائے اسے انجوائے کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔ ویسے ریٹائرڈ بندوں کے لوگ زیادہ گلے شکوے سنتے بھی نہیں۔ اگر اللہ کریم نے بعد از ریٹائرمنٹ اچھی صحت سے نوازا ہے، اہلیہ کے ساتھ مراسم خوشگوار ہیں، (جو عموماً ہوتے نہیں، ) اولاد کی طرف سے سکون و چین ہے، مالی طور پر کسی کے دست نگر نہیں، تو پھر صرف ہمہ وقت اللہ کا شکر ادا کریں، کہ بہت سے لوگ ان نعمتوں سے محروم ہوتے ہیں۔ سابق جج، سابق کمشنر یا سابق ڈی آئی جی کا تعارف کرانے سے بہتر ہے کہ لوگ آپکو نئے روپ میں قبول کریں بلکہ admire کریں، بشرطیکہ کردار میں کوئی روشنی کی کرن ہو۔ کچھ کرنے کی امنگ اور ترنگ ہو،سوچ مثبت ہو، دنیا میں سرخروئی کے ساتھ ساتھ کچھ آخرت کی فکر بھی ہو۔ کچھ معاف کرنے اور بہت سا در گزر کرنے کی سکت بھی ہو، ماضی کی یادوں میں پچھتاوا اور ناکام حسرتیں نہ ہوں، اور لوگوں کو اپنی زبان اور قلم سے زخم نہ لگائے ہوں، تو بعد از ریٹائرمنٹ زندگی پر لطف اور پر کیف ہے، بصورت دیگر گوشہ نشینی بہتر ہے۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر