عابد حسین قریشی
آجکل سوشل میڈیا پر ایک ناپسندیدہ ٹرینڈ چلا ہوا ہے۔ جس میں اسلامی شعار کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کبھی قربانی کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔ فلسفہ قربانی کو نظر انداز کرتے ہوئے قربانی کے عمل کو ہی متنازعہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی حج اور عمرہ پر جانے والوں کے ایمان و عمل کی باتیں ہوتی ہیں۔ اور کبھی مسلمانوں کے مجموعی اخلاق و کردار کو سامنے رکھ کر اسلامی عبادات کو ہی ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے کونسا مزہبی اور اخلاقی فریضہ انجام دیتے ہیں ،اس سے قطع نظر ایک بڑی اہم بات کو وہ نظر انداز کر جاتے ہیں۔ یہ کس دور میں اور کب ہوا کہ پورا معاشرہ ہی صالح ہو گیا۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ سابقہ امتوں اور قوموں کی ایسی ایسی کہانیاں بیان کی گئی ہیں کہ انسان ششدر رہ جاتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی منکر اور متکبر قوم سے لیکر حضرت شعیب علیہ السلام کی ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والی قوم تک۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تو واسطہ ہی بڑے سخت دل اور بد عہد اور بات بات پر مکرنے والی بنی اسرائیل کی قوم سے پڑا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تو اس بد ترین اخلاقی بیماری کا شکار تھی کہ اس پر کچھ لکھتے ہوئے بھی حجاب آتا ہے۔ کوئی پتھروں کو پو جتا تھا تو کوئی بت خانوں میں زندگی گزارتا تھا۔ یہ صرف منکر توحید ہی نہ تھے بلکہ سرکش اور متکبر بھی تھے۔ کسی قوم کو سیلاب کے پانی میں غرق کیا گیا اور کوئی خود پانی کی بے قابو لہروں کی نظر ہوا۔ کسی قوم پر پتھر برسائے گئے اور کوئی قوم زلزلہ سے تباہی سے دو چار ہوئی ۔ کسی کو ناقابل برداشت آسمانی چیخ سے ختم کیا گیا اور کسی پر شدید ٹھندی ہوا کا عزاب بھیجا گیا۔ تو کیا ان سب عذابوں اور آفات آسمانی کے باوجود زمین پر گناہ ختم ہو گیا۔ جب سے حضرت انسان کا وجود اس کائنات میں ظہور پزیر ہوا ہے، نیکی اور گناہ بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے ایک بیٹے نے نیکی کی کوشش کی تو دوسرے نے محض حسد میں اپنے بھائی کا قتل کر دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی پیغمبروں کے گھروں میں بیٹھ کر ہی حق اور انکی نبوت کے منکر تھے اور اپنے انجام کو پہنچے۔ نبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے قبیلہ قریش میں انکی بھرپور مخالفت ہوئی ۔ ابو جہل اور ابو لہب انتہائی قریبی رشتہ دار تھے مگر آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت اور تکلیف دینے میں پیش پیش تھے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تبلیغ ہی منکرین توحید و رسالت کے لیے تھی، مگر اسی معاشرہ میں منکرین زکوۃ اور منکرین ختم نبوت پیدا ہوئے، اور انکے قلع قمع کرنے کے لیے بڑی جدو جہد کرنا پڑی۔ جنگ بدر، احد و احزاب ان منکرین اور حق کی مخالفت پر کمر بستہ لوگوں کے خلاف ہی تو تھیں۔۔ تو اگر چودہ سو سال پہلے بھی منکرین حق اور گناہ گار لوگ موجود تھے تو آج بھی یقیناً ہوں گے۔ کسی معاشرہ میں گناہ گار لوگوں کی موجودگی یا غلط کاموں کا ہونے کا مطلب اس مزہب یا دین کی کمزوری نہیں ہوتا بلکہ یہ افراد کی کمزوری ، لالچ، خود غرضی، مزہب اور دین سے دوری کا نتیجہ بھی تو ہو سکتے ہیں۔ ہم سارے اس اکیسویں صدی میں بسنے والے انسان ہیں، ہم میں سے کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں کیا۔ تو پھر صرف گناہ کو highlight کرنا یا دینی شعار کا تمسخر اڑانا کونسا کار خیر ہے۔ کیا ہمارے ارد گرد خیر ختم ہو گیا ہے۔ ہم اسکا ذکر کیوں نہیں کرتے ۔ ہمارے اندر منفی جزبات کیوں فروغ پاتے ہیں۔ ہم جاپان اور مغرب کی ایمانداری کے قصے کیوں سناتے ہیں۔ کیا پاکستانی معاشرہ میں صرف شر ہی بچا ہے۔ ہمارے ہاں کیا لوگ مریضوں اور زخمیوں کو بغیر کسی لالچ اور طمع میں خون نہیں دیتے، کیا یہاں لوگ سڑک پر حادثہ کی صورت میں زخمیوں کو ہسپتال نہیں پہنچاتے، کیا یہاں روزانہ لاکھوں لوگوں کو ملک کے مختلف حصوں میں غریبوں اور حاجت مندوں میں کھانا اور لنگر مفت تقسیم نہیں کرتے۔ کیا یہاں بے شمار ادارے بشمول شوکت خانم ہسپتال ،سندس فاؤنڈیشن ,اخوت فاؤنڈیشن،اور دیگر کئی خیراتی ادارے اور ہسپتال ملک کے طول و عرض میں کام نہیں کر رہے ہیں۔ کیا بے شمار مدرسے، یتیم خانے، سکول، اور فلاحی ادارے زکوٰۃ اور صدقات پر نہیں چل رہے۔ یہ صدقات و خیرات کیا باہر سے لوگ آکر دیتے ہیں اور جو باہر سے بھیجتے ہیں ، کیا وہ پاکستانی نہیں۔ کیا عبداستار ایدھی کا انسانی خدمت کے لیے مسحور کن کردار تاریخ بھول پائے گی۔۔ پاکستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں مساجد، امام بارگاہیں ، اور اسطرح کے دیگر مزہبی مقامات ہیں ، کیا یہ سارے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نہیں چلا رہے۔ کسی محلہ میں لوگ بھوکے نہیں سوتے کہ آپ کسی کا در ہلائیں گے تو روٹی ضرور ملے گی۔ یہاں تو لوگوں کی بڑی تعداد کار خیر کے کاموں میں شرکت کو اپنے ایمان کا حصّہ سمجھتی ہے۔ لوگ نماز پڑھیں نہ پڑھیں مگر غریب مسکین کی مدد کر دیتے ہیں۔ ہزاروں یتیم اور بے آسرا بچیوں کی شادیاں ملک کے ہر حصہ میں ہو رہی ہیں اور انکے سارے اخراجات مقامی سطح پر مختلف فلاحی اور رفاعی تنظیمیں برداشت کر رہی ہیں۔ ہمارے دیہاتوں میں تو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سڑکیں، گلیاں اور سکول تعمیر کرا دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ بڑے بڑے نیکی کے کام اس ملک میں گمنامی میں رہ کر کر رہے ہیں۔
اگر یہ سب کچھ ہے اور یقیناً یہ خیر ہی خیر ہے اور ہمارے ارد گرد موجود ہے، تو پھر مایوسی کاہے کی۔
ہر وقت تنقید کس بات پر۔ 25 کروڑ عوام میں سارے فرشتے نہیں ہو سکتے۔ یہ گوشت پوست کے انسان ہیں۔ ان میں سے بہت سے سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انکی معاشی مجبوریاں بھی ہوں گی ، مگر کیا سارا معاشرہ غلط ڈگر پر چل پڑا ہے۔ کیا بدی نیکی پر غالب آ گئی ہے۔ کیا معاشرہ میں اچھے برے کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔ خدا را معاشرہ کی اچھائی کو ظاہر کریں۔ ہر وقت مایوسی اور ڈیپریشن پھیلانے والی باتیں ہی شیئر نہ کریں۔ مانا کہ اس وقت ملک میں شدید سیاسی گھٹن اور کشیدگی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور یہ گھٹن اور کشیدگی احسن طریقہ سے ختم ہو۔ اس تنازعہ کے تمام فریق عقل و فہم سے اسکا حل نکالیں، مگر ہر حال میں ہمیں مثبت اور اچھی سوچ سے آگے بڑھنا ہے۔ مایوسی کی باتیں کرنا اور انکی غیر ضروری تشہیر اور ترویج معاشرہ میں بد دلی پر منتج ہوتی ہے۔ چند لوگوں کے منفی کردار کو پوری قوم پر منطبق کرکے اخلاق و مزہب کا مزاق اڑانا نہایت نا پسندیدہ فعل ہے۔



