وفاقی حکومت کا مالی سال 2024-25کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے حجم کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی حکومت کا آئندہ مالی سال 2024-25کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے حجم کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ،بجٹ میں ایک سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے جبکہ گریڈ 17 سے 22تک کے افسران کی تنخواہوں میں 22 فیصد اضافے کی تجویزہے جبکہ پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویزہے ،مزدورکی کم سے کم اجرت 32ہزار سے بڑھا کر37ہزاروپے کردی گئی،آئندہ مالی سال دفاع پر 2122 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، صوبوں کو 7 ہزار 438 ارب روپے دیے جائیں گے،حکومت قومی بچتوں اور دیگر ذرائع سے 2 ہزار 662 ارب روپے آمدن حاصل کرے گی، بینکوں سے 5 ہزار 142 ارب روپے قرضہ لینے ،نجکاری سے 30 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے،سول حکومت کے اخراجات کے لیے 839 ارب روپے رکھے جائیں گے، ایمرجنسی اقدامات کے لیے 313 ارب روپے رکھے جائیں گے،پٹرولیم لیوی کا ہدف 1281 ارب روپے مختص کئے جائیں گے ،صحت کیلیے 27 ارب روپے بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے ،سولر انڈسٹری ،مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش کے لیے سیڈ اور فیڈ کی درآمد،زرعی آلات ،زرعی ادویات،کیمیکلز، پیمپرز،ادویات کا خام مال ،چاول اور آٹے پر ٹیکس میں رعایت دینے کی تجویز ہے،فاٹا پاٹا کو دی گئی انکم ٹیکس چھوٹ میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ کیا گیاہے ، سالانہ 6 لاکھ آمدن پر ٹیکس چھوٹ برقرار، ،ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر 2500 روپے انکم ٹیکس عائدہوگا، ٹیکس وصولی کا ہدف 13 ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے ، ترقیاتی بجٹ 1500 ارب ہے، شرح نمو کا ہدف 3.6 رکھا گیا ہے، ، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کیلئے 9775 ارب روپے خرچ ہوں گے، پنشنز کیلئے 1014 ارب روپے، سبسڈیز کیلئے 1363 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، فائلرز، نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرن جمع کروانے کے لیے الگ الگ سلیب متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے ،نان فائلرز، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کے لیے ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 2.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے،موبائل فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیاہے،ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم،انجن کی استعداد کے بجائے گاڑی کی قیمت کی بنیاد پر ٹیکس لینے کی تجویز ہے ۔ ایکسپورٹرز کی آمدن پر 29 سے 35 فیصد تک ٹیکس لگانے کی تجویز ہے ، تانبے، کوئلہ، کاغذ اور پلاسٹک کے سکریپ پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے ،شیشے کی درآمدی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی ختم، سٹیل اور کاغذ کی مصنوعات کی درآمدی ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے کی تجویز ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 27 فیصد اضافہ، 593 ارب مختص کئے گئے ہیں ،آئی ٹی سیکٹر کے لیے 89 ارب روپے مختص،کراچی میں اور اسلام آباد میں آئی ٹی پارک تعمیر کئے جائیں گے ،جعلی سگریٹس فروخت کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا فیصلہ ، سگریٹ فلٹر کی پیداوار میں استعمال ہونے والے مواد پر 44 ہزار روپے فی کلو ٹیکس لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بدھ کو سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا ۔اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اتحادی حکومت کا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2024-25کا بجٹ پیش کیا ۔ وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا معزز ایوان کے سامنے مالی سال 2024-25کا بجٹ پیش کرنا میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے، فروری 2024کے انتخابات کے بعد مخلوط حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے اور میں اتحادی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کی قیادت خصوصاً میاں نواز شریف ، بلاول بھٹو، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کی رہنمائی کیلئے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی اور معاشی چیلنجوں کے باوجود پچھلے ایک سال کے دوران اقتصادی محاذ پر ہماری پیش رفت متاثر کن رہی ہے، ہم سب نے معاشی استحکام اور عوام کی بہتری کیلئے تمام سیاسی قوتوں کے مل بیٹھنے کے مطالبات کی بازگشت کئی بار سنی ہے، آج قدرت نے پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر چلنے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے، ہم اس موقع کو ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، میں تمام معززاراکین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے حکومت کی کاوشوں میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ یک تفصیلات پیش کرنے سے پہلے میں اس بجٹ کے پس منظر کی وضاحت کرنا چاہوں گا، نواز شریف نے پاکستان میں 1990 میں جن معاشی اصلاحات کی بنیاد رکھی ان کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہوم گرائون ریفارم ایجنڈا کے ذریعے موجودہ معاشی مسائل پر قابو پا کر ترقی کی رفتار کو بڑھایا جائے گا، کچھ ہی عرصہ قبل پاکستان کی معیشت کو مشکل حالات کا سامنا تھا کیونکہ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 2 ہفتوں سے کم مدت کی درآمدات کیلئے ہی کافی تھے، محض ایک سال میں پاکستانی روپے کی قدر میں چالیس فیصد کمی واقع ہو چکی تھی، اقتصادی ترقی تقریباً صفر کے قریب تھی اور افراط زر اس سطح پر پہنچ گیا تھا کہ لوگ تیزی سے غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے تھے، ان حالات سے نکلنا خاصا مشکل نظر آرہا تھا، پچھلے سال جون میں آئی ایم ایف پروگرام اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا اور نئے پروگرام سے متعلق بہت غیر یقینی کیفیت تھی، نئے آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر انتہائی مشکلات پیدا کر سکتی تھی، مجھے وزیراعظم شہباز شریف کی گزشتہ حکومت کی تعریف کرنی ہو گی جس نے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی ایگریمنٹ معاہدہ کیا، اس پروگرام کے تحت لئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی اور غیر یقینی کی صورتحال اختتام کو پہنچی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں ہماری مسلسل کاوشوں کے نتائج ہمیں تسلی دیتے ہیں کہ ہم صحیح سمت میں گامزن ہیں، مہنگائی جو کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی توجہ کا مرکز ہے، مئی میں کم ہو کر تقریباً بارہ فیصد کے قریب آ گئی ہے، اشیائے خوردونوش اب عوام کی پہنچ میں ہیں، درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے، آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے، زر مبادلہ کی شرح مستحکم رہی، ہماری مالیاتی استحکام کی کوششیں ثمر آور ہو رہی ہیں اور سرمایہ کار معیشت کے متعدد شعبوں میں انویسٹمنٹ کے مواقع تلاش کر رہے ہیں، اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کا اعلان مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کی تائید اور ثبوت ہے، معیشت کی بحالی کی خاطر انتھک محنت کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت اور ان کی ٹیم کو مبارکباد کی مستحق ہے،گزشتہ سال میں حاصل ہونے والی یہ کامیابیاں معمولی نہیں ہیں ان کے نتیجے میں ملک ایک بحرانی صورتحال سے نکل چکا ہے اور دیرپا ترقی کے ایسے سفر کا آغاز ہو چکا ہے جس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے، یہ کامیابیاں ایک بہتر مستقبل کا عندیہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ترقی کی موجودہ رفتار کو تیز کرتے ہوئے معاشی خود انحصاری کی منزل کو حاصل کریں، یہ ایسا کام نہیں کہ راتوں رات اسے دکھایا جائے، اس کیلئے ہمیں سخت محنت ایک ہوم گرون اصلاحاتی پلان پر تمام اداروں اور عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہم اس امید کے ساتھ اپنے ہوم گرون ریفارم ایجنڈے کو پختہ ارادے اور عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ پاکستان جلد ہی انکلوژو اور سسٹین ایبل کے دور کی طرف لوٹ آئے گا، ہر کوئی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ راستہ بہت کٹھن ہے، ہمارے پاس آپشن محدود ہیں مگر جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں یہ اصلاحات کا وقت ہے،میں سمجھتا ہوں کہ یہی وقت ہے کہ ہم اپنی معیشت میں پرائیویٹ سیکٹر کو مرکزی اہمیت دیں اور چند افراد کے بجائے پاکستان کے عوام کو اپنی ترجیح بنائیں، حالیہ دہائیوں سے ہم اکانومک امبیلینس کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اس کی وجہ وہ اسٹرکچرل فیکٹرز ہیں جن کی وجہ سے سرمایہ کاری ،معاشی پیداوار اور برآمدات دبائو کا شکار ہیں، ماضی میں ریاست پر غیر ضروری ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا گیا، جس کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہو گئے، اس کا خمیازہ مہنگائی، کم پیداواری صلاحیت اور کم آمدن والی ملازمتوں کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتا ہے،اس محدود پیداواری سائیکل سے باہر آنے کیلئے ہمیں ڈھانچہ جاتی ریفارمز آگے بڑھانا اور معیشت میں مراعات کو صحیح کرنا پڑے گا جیسا کہ ہمیں ایک گورنمنٹ ڈٹرمائنڈ اکانومی سے ایک مارکیٹ ڈرائیون اکانومی میں تبدیل ہونا ہو گا، ہمارے معاشی نظام کو عالمی معیشت کے ساتھ چلتے ہوئے برآمدات کو فروغ دینا ہو گا، ہماری معاشی ترقی کو کھپت کی بنیاد پر چلانے کی بجائے سیونگ اینڈ انویسٹمنٹ بیسڈ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی نظام میں یہ تبدیلیاں لاتے ہوئے ہمیں ایکویٹی اور شمولیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، ہمیں درج ذیل پہلوئوں کا احا طہ کرتے ہوئے جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے،تمام ماڈرن اکانومیز کی طرح ہمیں بھی وسیع پیمانے پر نجکاری اور ریگولیٹری اصلاحات کرتے ہوئے ریاست کے فٹ پرنٹ کو صرف ایسنشل پبلک سروسز تک محدود کرنا ہو گا، پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کیلئے اندرون ملک اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور ریگولیٹری اینڈ انویسٹمنٹ کلائیمیٹ امپرومنٹس کرنا ہوں گی، ہمیں ٹارگٹڈ ویلفیئر سسٹم کے ذریعے عوامی فلاح پر توجہ دینی ہو گی،اور ایسی سبسڈیز کو کم سے کم کرنا پڑے گا جو پرائسز اور ایفیشنسی میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں، براڈ بیسڈ فیئر ٹیکسیشن رجیم کا قیام بھی انتہائی ضروری ہے، جو سب کیلئے یکساں مواقع فراہم کرے اور Anti Export Distortions کو ختم کرے، توانائی کی قیمت کو کم کر نے کیلئے پاور سیکٹر میں مارکیٹ پر مبنی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے، جدید معیشت کیلئے صحت، تعلیم اور سکلز ڈویلپمنٹ کے موثر نظام کی تشکیل انتہائی اہم ہے، حکومت اپنی ہوم گرون ریفارمز کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی پر بات چیت کر رہی ہے، نئے پروگراموں میں مائیکرواکنامک اینڈ مالیاتی استحکام ، زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے، قرضوں کو پائیدار بنانے، پاور سیکٹر اور ایس او ای ایس میں اصلاحات کرنے کے ساتھ ساتھ گورننس اور ٹرانسپرنسی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکز کی جائے گی، اس ضمن میں ہماری آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول ایگریمنٹ کے سلسلے میں بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، بجٹ خسارے کو کم کرنا ایک اہم مقصد ہو گا، اس مقصد کے حصول کیلئے ہم ایک منصفانہ ٹیکس پالیسی کے ذریعے اپنی آمدن بڑھائیں گے اور غیر ضروری اخراجات کو کم کریں گے لیکن یہ کمی کرتے ہوئے ہیومن ڈویلپمنٹ، سوشل پروٹیکشن اینڈ کلیمیٹ ریزیلنس پر ہونے والے اخراجات کو ترجیح دیتے ہوئے ان میں کوئی کمی نہیں لائی جائے گی، ہمیں انرجی سیکٹر کو Viable بنانے کے اقدامات کرنے ہیں، ان اقدامات میں پیداواری لاگت کو کم کرنا انتہائی اہم ہے، ہمیں ایس او ای ایس کی تنظیم نو اور پرائیویٹائزیشن کرنی ہے اور گڈ گورننس اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر کو فروغ دینا ہے، ان سب اقدامات کا مقصد آمدن سے زائد اخراجات کے دائمی مسئلے کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومت کی اہم ترین ترجیح یعنی مہنگائی میں کمی پر بھی بات کرنا چاہوں گا، ایک سال قبل افراط زر 38فیصد تک پہنچ گیا تھا جبکہ مہنگائی اڑتالیس فیصد تھی، کم آمدن والے طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا تھا مھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ بہتر معاشی حکمت عملی کے نتیجے میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، مئی 2024میں کنزیومر پرائس انڈیکس 11.8فیصد تھا جبکہ Food Inflation صرف 2.2 فیصد تھی، حکومت نے مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کیلئے انتھک محنت کی ہے اور ہم ان کوششوں کو جاری رکھیں گے، یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان ٹیکس تو جی ڈی پی ریشو کے حوالے سے دوسرے ممالک سے کافی پیچھے ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات ہماری معاشی کامیابیوں کیلئے انتہائی اہم ہیں، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایف بی آر میں کثیر الجہتی اقدامات پہلے سے جاری ہیں، وزیراعظم ڈیجیٹلائزیشن ، ٹیکس پالیسی اور ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کی واضح ہدایات ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں پہلے سے موجود لوگوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نیٹ میں وسعت لائی جائے، ہم نے تاجر دوست سکیم متعارف کروائی ہے جس کا مقصد ہول سیلر ریٹیلرز اور ڈیلرز کو رجسٹر کرنا ہے، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سکیم 3400رجسٹریشن کے ساتھ کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے، آنے والے وقت میں ایف بی آر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اپنی کوششوں کو تیز تر کرے گا، اس حوالے سے موجودہ اعدادوشمار کو موثر طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اکیلے مالیاتی استحکام کے ہدف کو حاصل نہیں کر سکتی، اسی لئے وفاقی حکومت ملک کے مجموعی وسائل میں زیادہ سے زیادہ اضافے کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، اس کوششوں کو تقویت دینے کیلئے ہم تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک جامع قومی مالیاتی معاہدہ کی تجویز کرتے ہیں، ہم آہنگی اور یگانگت خود کفالت کے ہدف کو حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے، اس سلسلے میں ہماری صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے،جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، حکومتی اخراجات میں کمی مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی کا دوسرا اہم ستون ہے، ہم غیر ضروری اخراجات کو کم کر رہے ہیں، حکومت پنشن کے نظام میں اصلاحات لا رہی ہے، جس کی تفصیلات میں اپنی تقریر کے اگلے حصے میں بیان کروں گا،بی پی ایس1 سے 16کی تمام خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے 45 ارب روپے سالانہ کی بچت ہونے کا امکان ہے، وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے حکومتی ڈھانچے کا بغور جائزہ لے لیا ہے اور بہت جلد اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی جبکہ وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کیلئے تیاری کی جا رہی ہے، حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اسے بہترین تکنیکی عملہ اور مشاورت دستیاب رہے، اس مقصد کیلئے ہر ڈویژن کو ’’ کپیسٹی ڈویلپمنٹ اینڈ ٹیکنیکل اسسٹنس‘‘ کی مد میں الگ رقوم مختص کرنے کی تجویز ہے، ملک میں کاروباری سر گرمیوں کو تیز کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کیلئے ریگولیٹری فریم ورک کو آسان بنانا انتہائی اہم ہے، اس سلسلے میں بی او آئی کے تحت پاکستان ریگولیٹری ماڈرنسٹیشن انیشیٹو کا آغاز کر دیا گیا ہے،، اس کا مقصد حکومت کی ریگولیٹری فریم ورک کو آسان بنانا اور آٹو میشن کے ذریعے کاروباری ماحول کو بہتر کرنا ہے تا کہ سرمایہ کاری، برآمدات اور معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھایا جا سکے،کسی بھی حکومت کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ گڈز اینڈ سروسز کی پروکیورمنٹس میں صرف ہوتا ہے، پروکیورمنٹس کے نظام میں آسانی اور شفافیت کے ذریعے حکومت کی کارکردگی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ وسائل کی بچت بھی کی جا سکتی ہے، ریسرچ کے مطابق ای پروکیورمنٹ سے سرکاری خرچ میں دس سے بیس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے، یہ نظام حکومتی پروکیورمنٹس میں کرپشن، فراڈ اور بدنیتی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے، یہ نظام 37وزارتوں جبکہ 279 ادارہ جات میں نافذ ہو چکا ہے، اس کے تحت وفاقی حکومت میں 14ارب روپے کی پروکیورمنٹ ہو چکی ہے، اس کے علاوہ پروکیورنگ ادارہ جات کے 8500ملازمین کی تربیت مکمل کی جا چکی ہے اور 10ہزار545 سپلائزر اس نظام میں رجسٹر ہو چکے ہیں، مزید برآں صوبائی حکومتوں اور مختلف وفاقی اداروں کے ساتھ ای پروکیورمنٹ کی انٹگریشن کیلئے ایگریمنٹس کئے جا چکے ہیں، مجھے یقین ہے کہ اخراجات اور وصولیوں کے ضمن میں کوششیں وفاقی حکومت کیلئے وسائل کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو گی جس سے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سوٹل پروٹیکشن اینڈ کلائیمیٹ ریزیلینس کیلئے وسائل دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومتوں کو کاروبار نہیں کرنا چاہیے، وزیراعظم کمرشل سپیس میں حکومتی عمل دخل کو کم کرنے اور نجی شعبے کوفروغ دینے پر پختہ یقین رکھتے ہیں، اس لئے ہم نے نجکعاری کو ایک کلیدی ترجیح بنایا ہے، ہم نہ صرف پی آئی اے، روز ویلٹ ہوٹل، ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک جیسے اداروں کی جاری نجکاری میں تیزی لائیں گے بلکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کیلئے دیگر ایس او ای ایس کو پیش کرنے کا ایک ٹھوس پروگرام بھی شروع کرنے جا رہے ہیں،آنے والے سالوں میں توانائی، مالیاتی اور صنعتی شعبوں میں ایس او ای ایس کی ملکیت اور انتظام کی نجی شعبے کو منتقلی پر خصوصی توجہ دی جائے گی، اس ضمن میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے تفصیلات بیان کرنا ہوں گا ، اس نجکاری کا آغاز نومبر 2023 میں فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی سے ہوا، فروری 2024 میں حکومت کی باگ دوڑ سنبھالتے ہی موجودہ حکومت نے اس سلسلے کو تیزی سے آگے بڑھایا، مارچ 2024میں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی تشکیل کی گئی، جس کے بعد 622ارب روپے کی لائبلٹی کو پی آئی اے سے منتقل کیا گیا، اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پرائیویٹائزیشن کمیشن نے اپریل 2024میں پی آئی اے کی نجکاری کیلئے قومی اور غیر ملکی اخراجات میں اشتہارات کے ذریعے Expression of Interest کی دعوت دی، 12کمپنیوں نے پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی کا اظہار کیا، 3جون کو پرائیویٹائزیشن کمیشن کے بورڈ نے 6کمپنیوں کو پری کوالیفائی کیا، اگست 2024کے پہلے ہفتے میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بڈز منگوالی جائیں گی جس کے بعد یہ سلسلہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا، انٹرنیشنل بیسٹ پریکٹس کے مطابق حکوتم ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آئوٹ سورس کر رہی ہے، اس سے ایک طرف مسافروں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی اور دوسری جانب ہوائی اڈاروں سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ ہو گا، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو سب سے پہلے آئوٹ سورس کیا جائے گا، اس سلسلے میں انٹرنیشنل بولی کے ذریعے 15 جولائی2014 تک بولیاں موصول ہو جائیں گی، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی آئوٹ سورسنگ پراسیس کا آغاز چند مہینوں کے بعد کیا جائے گا، وفاقی حکومت پر کھربوں کی بغیر فنڈ کے پنشن لائبیلٹی ہے، پنشن کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا ان اخراجات میں اضافے کی شرح کو کم کرنے کی ضرورت ہے، حکومت نے اس شعبے کی اصلاح کیلئے سہ رخی حکمت علی ترتیب دی ہے، جس میں کافی حد تک مشاورت مکمل ہو چکی ہے، انٹرنیشنل بیسڈ پریکٹس کے مطابق موجودہ پنشن اسکیم میں اصلاحات لائی جائیں گی، ان کے نتیجے میں اگلی تین دہائیوں کی پنشن لائبلٹی میں خاصر خواہ کمی ہو گی، نئے ملازمین کیلئے کنٹری بیوٹری سکیم متعارف کرنا جس میں حکومت کی کنٹری بیوشن ہر ماہ ادا کی جائے گی اس سے مستقبل کے ملازمین کی پنشن ان کی ملازمت کے آغاز سے ہی فلی فنڈڈہو گی، پنشن کی لائیبلٹی کو مینج کرنے کیلئے پنشن فنڈ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی ہمارے سماجی تحفظ کے اقدامات کے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں لاکھوں خاندانوں کو ضروری نقد امداد فراہم کی جاتی ہے، موجودہ اتحادی حکومت پر عزم ہے کہ کمزور طبقے کی زیادہ سے زیادہ معاونت کی جائے، مالی سال 2024-25کے بجٹ کے ذریعے کمزور طبقوں کو بی آئی ایس پی پروگرام کے ذریعے معاونت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، آئندہ مالی سال کیلئے حکومت درج ذیل پیش رفت کے ساتھ بی آئی ایس پی کے لئے مختص رقم کو 27 فیصد اضافے کے ساتھ 593 ارب روپے تک لے جائے گی، کفالت پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے افراد کی موجودہ تعداد کو 9,3 ملین سے بڑھا کر 10ملین کیا جائے گا، ان خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے کیش فرانسفر میں بھی اضافہ کیا جائے گا، تعلیمی وظائف پروگرام میں مزید دس لاکھ بچوں کا اندراج کیا جائے گا، جس سے ان وظائف کی کل تعداد 10.4ملین ہو جائے گی، نشوونما پروگرام کا مقصد بچوں کی زندگی کے پہلے1000 دنوں کے دوران Stunningکو روکنا ہے، اگلے مالی سال کے دوران 5لاکھ مزید خاندانوں کو اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا، معاشی شراکت کو فروغ دینے اور لوگوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے حکومت بی آئی ایس پی کے تحت پہلی مرتبہ پاورٹی گریجوایشن اینڈ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کرنے جا رہی ہے، اس کے علاوہ بی آئی ایس پی کے ذریعے مالی خود مختاری کا ایک ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن پروگرام متعارف کرانے کے منصوبے کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ہماری معیشت کا اہم ستون ہے، جس کا جی ڈی پی میں حصہ 24فیصد اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں حصہ 37.4فیصد ہے، ملک کی فوڈ سیکیورٹی اور صنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت اسی شعبے پر منحصر ہے، زراعت، لائیو سٹاک اور ماہی پروری بھی قیمتی زر مبادلہ کمانے کے بڑے ذرائع ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے اکتوبر 2022 میں کسان پیکج کے تحت کسانوں،پلانٹرز ،ٹریکٹرز کیلیے میکنائزیشن مارک اپ اینڈ رسک شئیرنگ کا اعلان کیا تھا، اگلے سال اس سکیم کے لئے 5ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، ان اقدام سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھایا جائے گا، جس سے پلانٹرز،ٹریکٹرز،تھریشرز،ہاروسٹرز اور موبائل گندم خشک کرنے والے آلات کیلئے فنانسنگ دستیاب ہو گی اور زرعی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ضیاع کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کا شعبہ گردشی قرضوں کے چیلنج سے دوچار ہے، یہ قرض اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے، پاور سیکٹر کی پیچیدگیوں کا حل بلاشبہ مشکل ہے کیونکہ بجلی پیدا کرنے سے لے کر ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن تک ہر سطح کی اپنی ڈائنامک ہیں اور ہر سطح پر مشکلات پائی جاتی ہیں، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت اس شعبے میں Course Correctionاور ان مشکلات کو حل کرنے کیلئے کبھی اتنی پرعزم نہیں تھی، موجودہ مالی سال کے دوران بجلی کی تقسیم کو بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے اور ان اقدامات کے نتیجے میں ہمیں امید ہے کہ سال کے اختتام تک سرکلرقرضہ کے حجم میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا، بجلی چوری کے خلاف مہم سے ہمیں 50 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، اگلے سال کیلئے چند اصلاحات درج ذیل ہیں، نقصانات کو کم کرنے کیلئے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کارکردگی کو بہتر بنانا، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی تنظیم نو، جس کی منظوری وزیراعظم پہلے ہی دے چکے ہیں، پبلک سیکٹرز پاور کمپنیز کی مینجمنٹ اینڈ گورننس کو بہتر بنانے کیلئے بورڈ آف مینجمنٹ میں پرائیویٹ سیکٹر پروفیشنلز شامل کئے جارہے ہیں،9ڈسکوز اور جینکو کی نجکاری کو تیز کرنے کا منصوبہ ہے،خ بجلی چوری کے خلاف مہم کو زیادہ منظم اور ادارجاتی کیا جائے گا،توانائی کے شعبے میں ترقیاتی بجٹ میں 253ارب روپے کی خطیر رقم بجٹ کی گئی ہے، اس شعبے کے اہم منصوبوں میں Installation of Assets performance managment system on distribution transformers کیلئے 65ارب روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے، اسی طرح بجلی کی تقسیم کار کے منصوبے کیلئے 5ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جامشورو میں 1200میگاواٹ کول پاور پلانٹ کیلئے 21ارب روپے اور این ٹی ڈی سی کے سسٹمز میں بہتری کیلئے 11ارب روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔ پانی کا شعبہ فوڈ سیکیورٹی، سسٹی بجلی کی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہی وجہ ہے کہ اگلے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں آبی وسائل کیلئے 206ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، یہ سرمایہ کاری پینے کے صاف پانی تک رسائی، زرعی پیداواری صلاحیت اور ہائیڈل پاور سے متعلقہ منصوبوں میں لگائی جائے گی، ان منصوبوں میں مہمند ڈیم ،ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے 45ارب روپے، دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے 40ارب روپے، چشمہ رائٹ بینک کنال، کیلئے 18ارب روپے اور بلوچستان میں پٹ فیڈر کنال کی ری ماڈلنگ کیلئے 10ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال میں وفاقی حکومت آئی ٹی سیکٹرز پر خصوصی توجہ دے گی، آئی ٹی سیکٹر میں ٹارگٹڈ انویسٹمنٹ کے ذریعے کم مدت میں زیادہ منافع دینے کی صلاحیت ہے، ہمارے ملک کے نوجوانوں کی مہارت اور ہنر کسی سے کم نہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت کی سازگار پالیسیوں کے نفاذ کے بعد اس سال آئی ٹی کی برآمدات 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، مالی سال 2024-25میں آئی ٹی سیکٹر کیلئے 79ارب روپے سے زیادہ رقم تجویز کی جا رہی ہے جو کہ اس شعبے کیلئے اب تک کی سب سے زیادہ مختص رقم ہے، یہ رقم درج ذیل مقاصد کیلئے مختص کی جا رہی ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کیلئے 7ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، یہ رقم جدی ترین آئی ٹی سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے ٹیکس بیس کو بڑھانے اور نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی حکومت کی کوششوں میں معاون ہو گی، کراچی میں آئی ٹی پارک کی تشکیل کیلئے 8ارب روپے فراہم کئے جائیں گے، ٹیکنالوجی پارک ڈویلپمنٹ پروجیکٹ اسلام آباد کیلئے 11ارب روپے کی رقم بجٹ کی گئی ہے، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کیلئے گزشتہ سال کے ایک ارب روپے کے مقابلے میں اس سال دو ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رقم آئی ٹی سیکٹر کے ایکسپورٹرز کی حوصلہ افزائی اور آئی ٹی فرموں میں طلباء کی انٹرن شپ کے سلسلے میں رکھی جا رہی ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر انفارمیشن کے اقدام کیلئے 20ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں، ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کیلئے حکومت ایک نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور ایک ڈیجیٹل پاکستان اتھارٹی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، وقت کے ساتھ یہ ادارے مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو آگے بڑھانے ایجادات کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل سلوشنز کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں اہم کردار ادا کریں گے، ان اداروں کے قیام کیلئے 1ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی میں سرمایہ کاری حکومت کی بہتر سرمایہ کاری ہے، حکومت بچوں کی تعلیم کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اس سلسلے میں کچھ اہم اقدامات مندرجہ ذیل ہیں، اسلام آباد کے 167سرکاری سکولوں میں انفراسٹرکچر اور تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، نوجوان طلباء و طالبات کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں مدد کیلئے ہم سکول میل پروگرام متعارف کروا رہے ہیں، جس کے تحت اسلام آباد کے 200پرائمری سکولوں میں طلباء کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جائے گا، ڈیجیٹل لٹریسی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم سکولوں کو سمارٹ سکرینز،کروم بکس، ٹیبلٹس اور انٹرنیٹ سہولیات سے آراستہ کر کے ڈیجیٹل انٹرونشنز اور بلینڈنگ لیرننگ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، مزید برآں پڑھائی اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے ای لائبریریاں قائم کی جائیں گی، اسلام آباد کے 16ڈگری کالجوں کو نمل،این ایس یو، نسٹ اور کامسیٹس جیسی مشہور یونیورسٹیوں کے تعاون سے اعلی نتائج کے حامل تربیتی اداروں میں تبدیل کیا جائے گا، یہ ادارے ہمارے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے 6ماہ کے آئی ٹی کورسز آفر کریں گے، پسماندہ اور غریب طلباء کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کیلئے پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کیلئے ایک ایجوکیشن وائوچر سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، 100 سکولوں میں early childhood educationکے مراکز قائم کئے جائیں گے تا کہ چھوٹے بچوں کو تعلیم کا ایک مضبوط آغاز فراہم کیا جا سکے، دیہی سے شہری علاقوں تک طالبات کے سفر کیلئے پنک بسیں متعارف کرائی جا رہی ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر دانش سکولوں کے پروگرام کو اسلام آباد، بلوچستان، آزاد کشمیر اور جی بی تک پھیلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے معاشی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، حکومت بیرون ملک مقیم اہل وطن کی مدد کیلئے متعدد سہولیات متعارف کروا رہی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے فروغ کیلئے بجٹ میں 85.9ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رقم Re-imbursment of TT Charges، سوہنی دھرتی سکیم اور دیگر سکیموں کیلئے استعمال کی جائے گی، افرادی قوت کو مارکیٹ کے جدید ترین تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کیلئے سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرے گی، بیرون ملک مقیم اہل وطن کی سہولت کیلئے امیگریشن لینڈ سکیپ کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا تا کہ امیگریشن کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا سکے اور لاگت میں کمی ہو، شکایات کے بروقت ازالے کیلئے شکایات درج کرانے کا موثر نظام بنایا جائے گا، اس لئے ایک بین الاقوامی کال سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا،نئے امیگرنٹس کیلئے جلد از جلد بیرون ملک آبادگاری کیلئے قرض کی سہولیات فراہم کرنے پر کام جاری ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی غیر معمولی خدمات کو تسلیم کرنے کیلئے محسن پاکستان ایوارڈ متعارف کرایا جا رہا ہے،اسی طرح کے دیگر اقدامات سمندر پار پاکستانیوں کی معاونت اور قومی ترقی میں ان کے تعاون سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکومت کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں برآمدات کو فروغ دینے کی کوششوں کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، اس شعبے کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایگزام بینک کے ذریعے ایکسپورٹ ریفائنس سکیم کیلئے مختص رقم کو 3.8ارب سے بڑھا کر 13.8 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، ان اقدامات سے پورٹ فولیو میں 100 ارب روپے سے 280ارب روپے تک کا اضافہ متوقع ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے 539ارب روپے کے ایکسپورٹ کریڈٹ کی فراہمی کی جائے گی، وزیراعظم نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے کہ اس سہولت کا کم از کم 20فیصد ایس ایم ای سیکٹر پر مرکوز رہنا چاہیے، حکومت کی ایس ایم ای اسٹرٹیجی کے تحت ایس ایم ای ایس کے کریڈٹ کو 540 ارب روپے سے بڑھا کر 1100ارب روپے کیا جائے گا، جس میں سے 100ارب روپے کا اضافہ اگلے مالی سال کے دوران کیا جائے گا، مستقبل میں یہ قدم پاکستان کے برآمدی شعبے کو ایک اہم لائف لائن فراہم کرے گا، مزید برآں حکومت طویل عرصے سے زیر التواء ڈی ایل ٹی ایل کلیمز کی مرحلہ وار ادائیگی کرے گی۔ایکسپورٹرز کی مدد کیلئے رسک شیئرنگ سکیم بھی وضع کی جا رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری ہماری ادائیگیوں کے توازن اور پاکستان کی ساتھ میں اضافے کے لئے اہم ہے ۔ اس سلسلے میں برادر اور دوست ممالک کے ساتھ بات چیت اور کوششیں ایک ایڈوانس سٹیج پر ہیں ۔ یہاں میں ایس آئی ایف سی کے کردار کو ضرور تسلیم کرنا چاہوں گا جو کہ جی سی سی ممالک سے زراعت، لائیو سٹاک، کان کنی اور سیاحت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو لانے کے عمل کی قیادت کررہی ہے ۔ میں اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان کے چین کے دورے کا ذکر کرنا چاہوں گا ۔ اس دورے کا مقصد سی پیک فیز ٹو کا آغاز کرنا تھا ۔ سی پیک کے اس فیز میں چینی کمپنیوں کو سپیشل ایکنومک زون کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستانی کمپنیاں چینی کمپنیوں کے ساتھ جائنٹ وینچر کر سکیں گی ۔ سی پیک سے ملک میں صنعتی شعبے اور برآمدات میں اضافے کا ایک نیا باب کھلے گا۔ دورہ چین کے لئے وزیر اعظم کے وفد میں پاکستان کی 97 اہم کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے اس سلسلے میں چین کے شہر شینژن میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ توانائی، کلچر، آئی ٹی، فارماسیوٹیکلز، زراعت اور فوڈ سیکٹر سے متعلق31 بی ٹو بی ایم او یوز سائن کیے گئے ساتھ ہی کئی پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مزید ایم او یوز پر گفتگو شنید جاری ہے ۔ ان کا تعلق آئرن اور اسٹیل، موبائل، سولر سیل ،ای ویز اور آٹو موبائلز مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں سے ہے ۔ساتھ ہی ساتھ بی او آئی نے 6 مختلف چینی اداروں کے ساتھ بی ٹو بی کیلیبوریشن کے لئے ایم او یوز سائن کیے ہیں ۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شدید خطرہ لاحق ہے اور کلائمنٹ موٹیگیشن کی کوششوں کوتقویت دینے کے لئے حکومت متعدد اقدامات پر کام کر رہی ہے جن میں سے چند ایک کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ کلائمنٹ موٹیگیشن اینڈ ایڈپیشن کے اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان کلائمنٹ چینج اتھارٹی کو فعال بنایا جا رہا ہے۔نیشنل کلائمنٹ فنانس سٹرٹیجی اکتوبر 2024 تک تیار کر لی جائے گی جس کا مقصد گلوبل کلائمنٹ فنانس کوپاسکتان میں لانا ہے جس سے کاربن ایمیشن میں کمی لانے کے منصوبوں پر عمل کیا جا سکے ۔ نیشنل ڈیجیٹل کلائمنٹ فنانس مانیٹرنگ ڈیشبورڈ قائم کیا جائے گا جو کہ کلائمنٹ فنانس کے حوالے سے ملنے والی بیرونی امداد کے بارے میں ڈیٹا مینٹین کرے گا ۔ حکومت کے بجٹنگ اور اکائونٹنگ سسٹم میں جنڈر اینڈ کلائمنٹ بجٹ ٹیگنگ کر دی گئی ہے جس سے ان سیکٹرز کے حوالے سے پالیسی سازی اور عملدرآمد میں مدد ملے گی ۔ حکومت ای بائیکس کے لئے چار ارب روپے اور توانائی کی بچٹ کرنے والے پنکھوں کے لئے دو ارب روپے مختص کر رہی ہے ۔ مالی سال 2024-25 کے لئے اقتصادی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے افراط زر کی اوسط شرح بارہ فیصد متوقع ہے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جب کہ پرائمری سر پلس جی ڈی پی کا 1.0 فیصد ہو گا ۔ ایف بی آر کے محصولات کاتخمینہ 12970 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے اڑتیس فیصد زیادہ ہے ۔ چنانچہ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ سات ہزار چار سو اڑتیس ارب روپے ہوگا ۔ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف3587 ارب روپے ہوگا ۔ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 9119 ارب روپے ہو گی ۔ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18877 ارب روپے ہے جس میں سے 9775 ارب روپے انٹرسٹ کی ادائیگی کی جائے گی۔ پی ایس ڈی پی کے لئے 1400 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے 100 ارب روپے اضافی مختص کیے گئے ہیں ۔ مجموعی ترقیاتی بجٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر یعنی 1500 ارب روپے ہوگا ۔ 2122 ارب روپے دفاعی ضروریات کے لئے فراہم کیے جائیں اور سول انتظامیہ کے اخراجات کے لئے 239 ارب روپے مختص کیے جا رہیے ہیں ۔ پنشن کے اخراجات کے لئے 1014 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں بجلی ، گیس اور دیگر شعبوں کے لئے سبسڈی کے طور پر 1363 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ۔ 1777 ارب روپے پر مشتمل کل گرانٹس بنیادی طور پر بی آئی ایس پی ، اے جے کے ، گلگت بلتستان ، خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع ، ایچ ای سی ، ریلوے ، ترسیلات زر اور آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام ملک کوترقی، خوشحالی اور سماجی فلاح کی طرف گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ جدت بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور پائیدار ترقی کیلئے Catalyst کا کام کرتا ہے ۔ حکومت نے 2024-25 کے لئے تاریخ میں سب سے بڑا فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام وضع کیا ہے جس کا حجم 1500 ارب روپے ہے جو پچھلے سال کے نظرثانی شدہ حجم سے 101 فیصد زیادہ ہے ۔ 1500 ارب میں پی پی پی پراجیکٹ کے لئے 100 ارب روپے شامل ہیں اس مشکل صورتحال میں ترقیاتی بجٹ کا حجم انفراسٹرکچر کو ترقی دینے اور ٹرانسپورٹیشن، توانائی ، آئی ٹی اور آبی وسائل کے انتظام میں اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکومت کے عزم اور اخلاص کامظہر ہے تاکہ معاشی ترقی میں سہارا ملے اور اہل وطن کے معیار زندگی میں بہتری آئے ۔ پی ایس ڈی پی 2024-25 میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے اور تقریبا 83 فیصد وسائل جاری منصوبوں کے لئے جب کہ صرف 17 فیصد وسائل نئے منصوبوں کے لئے مختص کیے گئے ہیں ۔ بنیادی انفراسٹرکچر کا شعبہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے مالی سال 2024-25 کی پی ایس ڈی پی میں اس شعبے کے لئے 59 فیصد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ سماجی شعبے کے لئے ترقیاتی بجٹ کا 20 فیصد رکھنے کی تجویز ہے ملک میں متوازن علاقائی ترقی کو یقینی بنانا ایک آئینی ذمہ داری ہے اس لئے آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لئے 10 فیصد وسائل مختص کیے گئے ہیں ۔ تقریبا 11.2 فیصد وسائل دیگر شعبوں جیسے آئی ٹی اور ٹیلی کام ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، گورننس اور پروڈکشن سیکٹر وغیرہ کے لئے مختص ہیں ۔سٹرٹیجگ اینڈ کور پراجیکٹ جن میں آئی وسائل ٹرانسپورٹیشن ، مواصلات اور توانائی کے شعبوں کی طرف خاص توجہ دی جائے گی ۔ غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبے تاکہ ان کی تکمیل مقررہ وقت پر ہوسکے اور تمام شعبوں میں ایسے منصوبے جن پر خرچہ 80 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے اور جنہیںمالی سال 2024-25 کے دوران مکمل کیا جا سکتا ہے اور معیشت کو بروقت مالی اور اقتصادی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ۔ برآمدات کو سپورٹ کرنے ، پیداواری صلاحیت میں اضافے ، مقابلہ جات کو فروغ دینے ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو پھیلانے innovation driven enterprises ، صنعتی ترقی ، ایگرو انڈسٹری اور سیڈ ڈویلپمنٹ ، بلیو اکانومی ، سائنس اور ٹیکنالوجی،اننوویٹو اصلاحات پو توجہ مرکوز کرنے والے نئے منصوبوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اس کے علاوہ متوازن ترقی اور علاقائی برابری اور پائیدار ترقی کے اقدامات کو بھی پی ایس ڈی پی 2024-25 میں شامل کیا گیا ہے ۔ اقتصادی ترقی کے سلسلے میں ہم نجی شعبے کے اہم کردار کو ترقی کے بنیادی محرک کے طور پر تسلیم کرتے ہیں ہم نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور وایابیلٹی گیپ ارینجمنٹس کے ذریعے نجی ٹعبے کی کوششوں میں حصہ ڈالنے کے لئے تیار ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون نہ صرف دونوں شعبوں کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ پائیدار اور جامع ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے یہ تعاون انتہائی ضروری ہے ۔ ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں ہائی ویز کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے، بڑے شہروں اور علاقوں کے دومیان راطے بڑھانے اور ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حجم کو سنبھالنے کے لئے موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے مزید برآں ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کامقصد ملک کے توانائی کے انفراسٹرکچرکووسعت دینا اور جدید بنانا جن میں ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر ، سولر پاور پلانٹس کی تنصیب اور ٹرانسمیشن لائنیں بچھانا شامل ہیں تاکہ بجلی کی ایفیشینٹ ڈسٹری بیوشن کو یقینی بنانا جا سکے اورتوانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے ۔ مزید یہ کہ فلڈ ریڈیکشن اور زرعی اور گھریلو استعمال کے لئے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ڈیموں، ابپاشی کے نظام اور نکاسی آب کے نیٹ ورکس کی تعمیر کے ذریعے واٹر ریسورس مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائے گی یہ منصوبے انفراسٹرکچر کو ترقی دینے اور ٹرانسپورٹیشن ، توانائی اور آبی وسائل کے انتظام میں درپیش بڑے چینلجز سے نمنٹے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں تاکہ اقتصادی ترقی میں مدد میل اورشہریوں کے معیارزندگی کوبہتر بنایا جا سکے ۔ اگلے مالی سال کی پی ایس ڈی پی میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لئے 824 ارب روپیکی خطیررقم مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں انرجی سیکٹر کے لئے 253 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن سیکٹر کے لئے 279 ارب روپے، واٹر سیکٹر کے لئے 206 ارب روپے جب کہ پلاننگ اورہائوسنگ کے لئے 86 ارب روپے شامل ہیں ۔سماجی شعبے کے لئے رواں سال میں 244 ارب روپے کے مقابلے میں 280 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ خصوصی علاقے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے پچھتر ارب روپے ے خیبر پختونخوا کے ضم ہونے والے علاقوں کے لئے 64 ارب روپے اور سائنس اور آئی ٹی کے لئے 79 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اسی طرح پروڈکشن سیکٹر بشمول زراعت کے لئے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ 2024-25 پی ایس ڈی پی میں سکل ڈیویلپمنٹ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ ہمارے ملک کے نوجوان جدید نالج اور ٹریننگ حاصل کرکے روزگار حاصل کر سکیں اور ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرسکیں ۔کراچی نہ صرفٹ ملک کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی میں کراچی کلیدی کردار ادا کرتا ہے اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کر اچی کے انفراسٹرکچر کو جلد کی طرف لے جایا جائے اس کے لئے ایک جامع کراچی پیکج کی تجویز ہے جس کے ساتھ ساتھ حیدر آباد ، میر پور خاص ، سکھر اور بے نظیر آباد کے لئے بھی منصوبے مرتب کرنے کی تجویز ہیاسی طرح کراچی کو پانی کی سپلائی بہتر بنانے کے لئے k-4 منصوبے کے لئے ایک خطیر رقم رکھنے کی تجویز ہے تاکہ اس اہم منصوبے کو تکمیل کی طرف لے جایا جائے ۔ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر اسلام آباد کے ہسپتالوں کو ماڈرن آئیز کرنے کے لئے ایک جامع پلان مرتب کیا جائے گا تاکہ اسلام آباد ، راولپنڈی، آزاد کشمیر ، خیبرپختونخوا اور گردونواح کیعلاقوں کی عوام کو علاجمعالجہ کی جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں خاص طور پر پمز میں قائد اعظم ہیلتھ ٹاور کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کرنے کی تجویز ہے جس کے لئے ایک خطیر رقم رکھنے کی تجویز ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس بیس وسیع کرکے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں اضافہ کرنا ، ان ڈاکومنٹڈ اکانومی کو ختم کرنے کے لئے معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن، پراگریسو ٹیکس سسٹم کے تحت زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کا نفاذ، نان فائلرز کے لئے کاروباری ٹرانزیکشن کے ٹیکس میں نمایاں اضافہ، فراط زر کی وجہ سے کم آمدن والے طبقات کے لئے تحفظ ، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے ان کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھیں ، ٹیکس دہندگان اور ڈاکومنٹڈ سیکٹرز کے لئے کاروبار کو آسان بنایا جائے اور صنعتوں اور برآمدات کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ اس سے زرمبادہ کے ذخائر بڑھا ئے جا سکیں ۔ ایف بی آر نے 2019 سے 2023 تک کارپوریٹ انکم ٹیکس اصلاحات نافذ کیں اب پرسنل انکم ٹیکس اصلاحات لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پرسنل انکم ٹیکس کی شرح کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جا سکے اس ضمن میں انکم ٹیکس چھوٹ 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پر برقرار رکھنے کی تجویزم ہے اور یہ بھی تجویز ہے کہ تنخواہ دار طبقے میں میکسیمم ٹیکس سلیب میں اضافہ کیا جا ئے جب کہ ٹیکس سلیبس میں کچھ رد و بدل تجویز کیا جا رہا ہے تاہم غیر تنخواہ دار طبقہ کے افراد کے زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 45 فیصد رکھنے کی تجویز ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت ایکسپورٹرز کی آمدن پر مجموعی وصولیوں کے ایک فیصد کی شرح سے فائنل ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ، ایکسپورٹس ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں ہم ایکسپورٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے اور ان کے مسائل مشمول سیلز ٹیکس ریفنڈ میں ڈیلے توانائی کے شعبے کے مسائل وغیرہ کا تدارک کریں گے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر طبقہ اپنی آمدن کے مطابق ملک کی پائیدار ترقی میں اپنا حصہ ڈالے ۔ ہاریزنٹل ایکویٹی کے اصول کے مطابق ایکسپورٹرز پر نارمل ٹیکس ریجیم کے تحت ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے ۔ موجودہ قانون میں ایممووایبل پراپرٹیز کے کیپیٹل گینز پر ٹائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لئے ہولڈنگ کی مدت کی بنیاد پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ ہولڈنگ کی مھدت سے قطع نظر 15 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے جب کہ نان فائلرز کے ٹیکس ریٹ مختلف سلیبس کے تحت 45 فیصد تک کرنے کی تجویزہے اس قدم سے معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے میں مدد میل گی اسی طرح ہائوسنگ سکیٹر سے سیپیکولیشن کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو ایفورڈایبل ہائوسنگ کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ موجودہ قانون میں فائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لئے ہولڈنگ کی مدت کی بنیاد پر سیکیورٹیزپر کیپیٹل گینز ٹیکس لگایا جاتا ہے ۔ کیپیٹل گینز پر ٹیکس نظام کو تبدیل کیا جا رہا ہے یکم جولا ئی 2024 کے بعد ہولڈنگ کی مدت سے قطع نظر فائلرز کے لئے 15فیصد جب کہ نان فائلرز کے لئے مختلف سلیب کے تحت ٹیکس کی شرح 45 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے ۔ اس وقت فائلرز کے لئے جائیداد خریدنے پر فلیٹ 3 فیصد اور نان فائلرز پر 6 فیصد ٹیکس عائد ہے ایسے لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ پر کبھی ریٹرن فائل نہیں کرتے بلکہ جائیداد کی خریداری کے وقت ٹرانزیکش کرنے سے پہلے ریٹرن فائل کرتے ہیں مقرروہ تاریخ تک ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کو یقینی بنانے اور نان فائلرزاورتاخیر سے ریٹرن فائل کرنے والوں کے لئے کاروبار کی لاگت بڑھانے کی غرض سے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ فائلرز ، نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والوں کے لئے تین الگ الگ ریٹس متعارف کرائے جائیں اس حوالے سے ان تینوں Catagories کے لئے ٹیکس کی شرح میں ردوبدل تجویز کیا جا رہا ہے اس مجوزہ قدم کا مقصد نان فائلرز پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانا اور زیادہ ریونیو جنریٹ کرنا ہے ۔ اس وقت صرف مخصوص کاروباری شعبوں کے ڈیلرز، ہول سیلرز، ڈسٹربیوٹرز اور ریٹیلرز سے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کا جا رہا ہے ۔ تاجروں کو ڈاکومنٹ کرنے اور نان فائلنگ کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ تمام کاروباری کی پوری سپلائی چین کے لئے ایڈوانس ٹیکس وصولی کے سکوپ کوبڑھایا جائے ۔ نان فائلرز سے ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 1 فیصد سے بڑھا کر 2.25فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ موجودہ قانون کے تحت 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کی خریداری اوررجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی انجن کیپیسٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے گاڑیوں کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے اس لئے ٹیکس کی اصل پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ تمام موٹر گاڑیوں کے لئے ٹیکس وصولی کی بنیاد انجن کیپیسٹی سے تبدیل کے قیمت کے تناسب پر کر دیا جائے ۔ وزیر خزانہ نے سیلز ٹیکس سے متعلق تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ زیرو ریٹنگ، استثنی اور ریڈیوسڈ ریٹس کی چھوٹ کا خاتمہ حکومت پاکستان ٹیکس قوانین میں مساوات اور انصاف کے اصولوں پر کاربند ہے اس چیز پر بار بار زور دیا گیا ہے کہ ٹیکس قوانین میں متعدد، استثنی دی گئی ہیں جو کہ نہ صرف حکومت کی آمدنی کو کم کرتی ہیں بلکہ سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہیں چنانچہ ہم نے سیلز ٹیکس میں دی گئی مختلف ، استثنی اور رعایات کا جائزہ لیا ہے اور ایسی بہت سی اشیاء کی نشاندہی کی ہے جن میں پر استثنی اور رعایات کو ختم کرنے کی تجویز ہے ان میں سے کچھ کی شرح کو کم جب کہ بقایا کو سٹینڈرز ریٹ پر ٹیکس کیا جائے گا ۔تجویز ہے کہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے TIER-I Retailers پر لاگو سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 15 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا جائے یہ ٹیکس بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مہنگی اور برانڈڈ مصنوعات پر لاگو ہو گا یہ ٹیکس اس طبقے پر لاگو کیا جا رہا ہے جو مہنگی اشیاء خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے اس سے عام شہری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ Concessionary Rates مارکیٹ میں چند مخصوص اشیاء کوفائدہ پہنچاتے ہوئے رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں جب کہ سٹینڈرڈ ریٹ اس بات کو یقینی بناتاہے کہ سب کو یکساں مواقع میسر ہوں اور ماریکٹ فورسز موثر طریقے سے کام کرسکیں ۔ مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پرتجویز ہے کہ موبائل فونز کی مختلف گیٹگریز پر سیلز ٹیکس کاسٹینڈرڈ ریٹ لاگوکیا جائے ۔اس وقت تانبے ، کوئلے ، کاغذ اور پلاسٹک کے سکریپ سے متعلق سیکٹرز غیر منظم ہیں اور قومی خزانے میں ان کا کانٹریبیوشن نہ ہونے کے برابر ہے ان سیکٹرز میں ٹیکس کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس ودہولڈنگ رجیم نافذ کی جائے ۔تجویز ہے کہ آئرن اور سٹیل سکریپ کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ دے دی جائے دیکھنے میں آیا ہے کہ رجسٹرڈ پرسنز مارکیٹ سے بغیر سیلز ٹیکس چارج کئے سکریپ خریدتے ہیں چنانچہ ان کے پاس ان پٹ ٹیکس نہیں ہوتا جس کے مطابق وہ آئوٹ پٹ ایڈجسٹ کر سکیں اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جعلی رسید بکس بنائی جاتی ہیں اس رجحان کے خاتمے کے لئے تجویز ہے کہ آئرن اور سٹیل سکریپ کو سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے کر جعلی رسید بکس کے رجحان کو ختم کیا جائے ۔اس وقت ان پیڈ سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی پر 12 فیصد سالانہ کا فکس ریٹ لاگو ہے تجویز ہے کہ اس کو بڑھا کر KIBOR+3 فیصد کر دیا جائے تاکہ یہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے پالیسی ریٹس سے ہم آہنگ ہو جائے ۔ وزیر خزانہ نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں جعلی سگریٹوں کی دستیابی حکومت اور صحت عامہ کے اداروں کے لئے باعث تشویش ہے ۔ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو متعارف کروانے کے باوجود تمباکو کی سمگلڈ جعلی اور نان ٹیکس پیڈ مصنوعات کی مارکیٹ میں دستیابی ایک مسئلہ ہے اس مسئلے کے حل کے لئے ٹیکس سٹمپ کے بغیر سگریٹ بیچنے والے ریٹیلرز پر سخت سزائوں کے اطلاق کی تجویز ہے جس میں کی دکانوں کو سیل کرنے کی تجویز شامل ہے ۔Acetate tow سگریٹ فلٹر کی پیداوار میں استعمال ہونے والا بنیادی عنصر ہے تجویز ہے کہ Acetate tow پر 44000 روپے فی کلو ایف ای ڈی عائد کی جائے اس تجویز سے فارمل سیکٹر پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا جب کہ ان فارمل سیکٹر پر ایف ای ڈی اضافی دے گا ۔ اس وقت سیمنٹ پر دو روپے فی کلو ایف ای ڈی عائد ہے تجویزہے کہ اس کو بڑھا کر تین روپے فی کلو کر دیا جائے ۔ رئیل اسٹیٹ میں استحکام لانے اور سیپیکولیشن کو روکنے کے لئے نئے پلاٹوں ، رہائشی اور کمرشل پراپرٹی پر 5فیصد ایف ایڈی عائدکرنے کی تجویز ہے ۔ ایکواکلچر کی ترقی کے لئے جھینگوں اور مچھلیوں کی فارمنگ کو فروغ دینے کی غرض سے اور فوڈ سیکیورٹی اوربرآمدات میں اضافے کے مقاصد کے پیش نظر مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش نسل کے لئے منگوائے جانے والے سیڈ اور فیڈ کی درآمد کے ساتھ ساتھ فارمنگ، بریڈنگ ، فیڈمل اورپراسسینگ یونٹس کی درآمد پر رعایتیں دی جا رہی ہیں ۔برآمد کرنے اور مقامی ضروریات پوری کرنے کے لئے سولر پینلز تیار کرنے کی غرض سے پلانٹ ، مشینری اور اس کے ساتھ منسلک آلات اور سولر پینلز ، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اورپرزہ جات کی درآمد پر رعائیتیں دی جا رہی ہیں تاکہ درآمد شدہ سولر پینلز پرانحصار کم کیا جا سکے اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے ۔نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ہائی برڈ اور عام گاڑیوں کے درمیان قیمتوں میں بہت زیادہ فرق کی وجہ سے ہائی برڈ گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں 2013 میں رعایت دی گئی تھی اس وقت دونوں قسم کی گاڑیوں کی قیمتوں کے درمیان فرق کم ہو چکاہے اور مقامی طورپر ہائی برڈ گاڑیوں کی تیاری شروع ہو چکی ہے اس لئے مقامی صنعت کوفروغ دینے کے لئے یہ رعایت اب واپس لی جا رہی ہے ۔ لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت واپس لی جا رہی ہے کیونکہ 50000 ڈالر اور اس سے زائد قیمت کی گاڑیاں درآمد کرنے کی استطاعت رکھنے والے لوگ واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹیز بھی ادا کرسکتے ہیں ۔ گزشتہ چند برسوں میں مقامی طورپر تیار کردہ شیشے کی برآمد میں اضافے کارجحان دیکھا گیا ہے مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی اور مدد کے لئے شیشے کی مصنوعات کی درآمد پرکسٹم ڈیوٹیز میں دی جانیوالے رعایتوں پر چھوٹ ختم کی جا رہی ہے ۔سٹیل اور کاغذ کی مصنوعات بال بیئرنگ وغیرہ کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لئے ان تمام اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹیز بڑھائی جا رہی ہے ۔مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے ۔ تنخواہ دار طبقہ اس سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت اپنی مالی مشکلات کے باوجود سرکاری ملازمین کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ان کے لئے ریلیف اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔1 سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی قوت خرید بہتر بنانے کے لئے تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جب کہ 17 سے 22 گریڈ تک افسران کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 22 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے اسی طرح کم سے کم ماہانہ تنخواہ 32 ہزار روپے سے بڑھا کر 36 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے ۔آخر میں میں وزیر اعظم ، نائب وزیر اعظم ، کابینہ کے ساتھیوں ، وزیر مملکت برائے خزانہ اور دونوں ایوانوں کے اراکین کی حمایت اور مشوریکے لئے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ میں فنانس ڈویژن ،ایف بی آر اور پلاننگ ڈویژن کی انتھک محنت کا بھی تہ دل سے مشکور ہوں ہم اپنے ملک اور اس کے عوام کی ترقی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور اللہ کی مدد سے پاکستان کو اقوام عالم میں اس جائز اور مستحق مقام تر پہنچائیں گے ۔ آخر میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری اقتصادی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک کہ قومی اتفاق رائے نہ ہو ۔ معاشی کامیابیاں حاصل کرناے والے ملکوں نے اپنی معاشی اصلاحات مشترکہ کوششوں اور مفادات کوپیش نظر رکھتے ہوئے کی ہیں ہمصرف اسی صورت میں کامیاب ہوں گے جب ہم تمام اسٹیک اپنے ذاتی اور پارٹی مفادات سے بلند ہو کر ان معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کریں گے یہاں میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھے ساتھیوں سے خصوصی گزارش کروں گا کہ وہ اس بجٹ کے حوالے سے ہماری زیادہ سے زیادہ رہنمائی کریں تاکہ ہم مل کر پاکستان کو ترقی کی منزل کی طرف سے جا سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان کاوشوں میں مدد کرے ۔( آمین) پاکستان زندہ باد ۔(اح؍م د+ع)



  تازہ ترین   
امریکہ، ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر عبوری معاہدے کے قریب، آج اعلان متوقع
مودی سرکار کے اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا: صدر، وزیراعظم
’’یوم استحصال‘‘: پاک فوج کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ
اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے
آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہے
یمن: بحیرۂ احمر میں بھارتی کارگو جہاز پروجیکٹائل حملے کے بعد ڈوب گیا
پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر