اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر بجلی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بجلی چوری میں سرکاری افسران اور عملہ ملوث ہے جو عوام کو بجلی چوری کے طریقے سے سکھاتا ہے، کیپسٹی چارجز کی مد میں آئی پی پیز کو سالانہ 2200 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔پیر کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک توجہ دلا ئو نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی چوری ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے اتفاق رائے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے جس کا اکیلے حکومت حل نہیں نکال سکتی ۔ہمیں چاروں صوبوں کا تعاون درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا نظام بیمار ہو چکا ہے ایکسین ایس ڈی او میٹر ریڈر افسران اور دیگر عملہ بدعنوانی غفلت اور نااہلی میں ملوث ہے جو خود عوام کو بجلی چوری کے طریقے بتاتا ہے۔ بجلی کی کمپنیاں بدعنوانی میں مکمل طور پر ملوث ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کنڈا سسٹم ہر طرف ہے اور بجلی کے بل ادا نہیں کیے جا رہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ میرے اپنے حلقے فورٹ منرو میں بجلی چوری عروج پر تھی لیکن ہم نے 50 ایف ائی آر کاٹیں اور 18 افراد کو گرفتار کیا جس کے بعد اب وہاں لوگ بل دیتے ہیں اور وہاں 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضہ ناسور بن چکا ہے اگر لوگ بل نہیں دیں گے تو گردشی قرضہ بڑھتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بجلی چوروں کو مزید بجلی نہیں دے سکتے ۔عام آدمی بجلی چور مافیا کا بل ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں بجلی کے بحران کی ذمہ دار ہیں ۔اویس لغاری نے کہا کہ خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی علی امین گنڈاپور سے مذاکرات ہوئے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔وزیر بجلی نے انکشاف کیا کہ ملک میں 28 ہزار ٹرانسفارمرز غیر قانونی نصب ہیں۔
ملک بھر میں بجلی چوری میں سرکاری افسران اور عملہ ملوث ہے، عوام کو بجلی چوری کے طریقے سے سکھاتے ہیں، اویس لغاری



