(عابد حسین قریشی)
حج کا مقدس مہینہ ہے۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الوداعی خطبہ جسے خطبہ حجتہ الوداع سے پکارا اور یاد کیا جاتا ہے کے مختلف پہلو آجکل سوشل میڈیا پر اجاگر کیے جا رہے ہیں۔ ویسے تو اس خطبہ مبارکہ کا ایک ایک لفظ سونے میں لکھنے کے قابل ہے۔ اسے پڑھتے جائیں تو یہ گمان ہوتا ہے، کہ کائنات کے سب سے عظیم مدبر دانشور اور داعی حق نے اپنی امت کے لیے رہتی دنیا تک ایک فلسفہ زندگی، ایک جامعہ لایہ عمل ، ایک عظیم الشان پیغام ریکارڈ کرایا۔ اس منفرد اور عالی شان خطبہ کے بڑے دور رس مزہبی پہلو تو یقیناً ہیں ، مگر اس خطبہ میں جو اخلاقی اور معاشرتی پیغام ہے، وہ بڑا جاندار، معنویت میں ایک چشمہء فیض، اعلیٰ محاسن اخلاق کا مجموعہ اور حکمت و دانائی کا انمول خزینہ ہے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی اس کائنات میں بلند اخلاق و کردار ، اور اعلیٰ ترین اوصاف حمیدہ کا مجموعہ اور پیکر ہے،کہ جس پر انسانیت بجا طور پر نازاں ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انہی اوصاف حمیدہ، اخلاق عالیہ اور اعمال صالحہ نے آپ کے لیے ہمارے دلوں میں چاہت و محبت کی انمٹ شمعیں روشن کیں ہیں اور دلوں کو سرور و کیف کی سر مستیاں بخشی ہیں جو بیان سے باہر ہیں۔۔ خطبہ حجتہ الوداع میں جو اخلاقی اور معاشرتی پیغام ہے، اس میں عورتوں کے حقوق اور معاشرتی مساوات، لوگوں کو تنگ نہ کرو، سود کا خاتمہ، گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں، صرف فوقیت اسکو ہے جو اعمال میں بہتر ہے۔ عورتوں سے نرم رویہ رکھنے اور انکے جملہ حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ۔ ہر طرح کے تعصبات اور عصبیتوں کی حوصلہ شکنی کی۔ اور آخر میں یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میں تم میں اپنے پیچھے قرآن کریم اور اپنے اہل بیت چھوڑ کر جارہا ہوں۔ متذکرہ بالا وہ منتحب حصے اس خطبہ مبارک سے لیے گئے ہیں، جو ہماری اخلاقی اور معاشرتی اساس کو چھوتے ہیں۔ یہ خطبہ دراصل اسی پیغام جاں فضا کا تسلسل تھا جسکے نفاذ کے لیے گزشتہ تئیس سال سے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جد وجہد اور تگ و دو فرما رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عظیم الشان پیغام کے ذریعے معاشرہ سے ہر قسم کے ظلم اور استحصال کا خاتمہ فرمایا، تمام باطل امتیازات کا قلعہ قمع کیا، اپنی اعلیٰ و ارفع حسن کردار سے بے مثل تواضع و انکسار سے، شدید مصائب و تکالیف کے باوجود بلند حوصلگی اور دشمنوں کے لیے بھی جزبہ خیر خواہی سے بنی نوعِ انسان کو یہ ابدی پیغام دیا کہ معاشرتی اور اخلاقی طور پر لوگوں کے دلوں میں زندہ رہنے کے لیے انتقام اور بدلہ کی بجائے عفو و درگزر اور صبر و تحمل میں جو مسرت و لزت اور فخر و انبساط کے احساسات موجزن ہیں ، انہی کی بدولت انسانی اقدار زندہ رہیں گی۔ اپنے آپ کو دوسروں سے بڑھا ثابت کرنے کی دوڑ میں اکثر انسان راستہ میں گر جاتے ہیں اور گرد راہ بن جاتے ہیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس خطبہ میں ان خود غرضانہ اور ناپسندیدہ دعوں اور عملوں کا قلع قمع کیا گیا ہے۔ عورت کی عزت و تکریم ، اسکے حقوق کی پاسداری اس معاشرے میں جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، کسی انقلاب عظیم سے کم نہ تھا۔ آج عورتوں کے حقوق کی خاطر آواز اٹھانے والے صرف اک نظر اس خطبہ مبارک پر نظر دوڑا لیں تو وہ ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں جو آج عورتوں کے حقوق اور اسلام کی بابت پھیلائی جا رہی ہیں۔ خطبہ حجتہ الوداع ایک مکمل چارٹر ہے، ایک دستاویز ہے، ایک ایسا جامع اور اکمل پیغام ہے, کہ جس میں انسانیت کے لیے عافیت ہے، محبت و شفقت ہے، محویت و استغراق ہے، تواضع و انکسار ہے، عقل و فہم ہے، غور و فکر ہے، حکمت و دانائی ہے، اور آخر میں قرآن کریم اور اہل بیت اطہار علیہ السلام کی محبت و عقیدت اور ان کے ساتھ وابستگی کا دلکش پیغام ہے۔



