اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف حکومتی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، بانی پی ٹی آئی نے ویڈیو لنک پر پیش ہوکر دلائل دیئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کسی نے مزید دستاویزات جمع کرانے ہیں تو ایک ہفتے میں کروا دیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت ،خواجہ حارث اور بانی پی ٹی آئی نے دلائل دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہاکہ خان صاحب! آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں، ایک طرف آپ احتساب کی بات کررہے دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں۔
جس پر عمران خان نے کہا کہ ہم نے حکومت میں آکر بلیک اکانومی کو مین اسٹریم میں لانے کیلئے ایمنسٹی دی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہیں گے؟آپ بڑے تحمل سے بیٹھے، اگر کسی نے مزید دستاویزات جمع کرانے ہیں تو ایک ہفتے میں کروا دیں، عمران خان نے کہا کہ نہیں میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں غیراعلانیہ مارشل لاء لگا ہوا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کچھ بھی ہوگیا تو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا، ہم آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں آپ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روک دیا اور کہاکہ سائفر کیس میں اپیل شاید ہمارے سامنے آئے۔
عمران خان نے کہا کہ میں زیرالتواء کیس کی بات نہیں کررہا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا یہی خدشہ تھا کہ زیرالتواء کیس پر بات نہ کردیں۔ جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالفت کیوں نہیں کی؟جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہی بتانا چاہتا ہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے۔مجھے 5دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا گیا، شرح نمو 6.2پر تھی سازش کرکے حکومت گرا دی گئی، پارلیمنٹ میں جاکر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتا تھا۔
دبئی لیکس میں بھی نام آگئے پیسے ملک سے باہر جارہے ہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عمران خان آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں، حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں۔جب آگ لگی ہوتو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے یا ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں، آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں۔سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے نیب ترامیم میں حکومتی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔



