اسلام آباد ( پی این آئی ) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء خورشید شاہ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانا خطرناک ہوگا۔ آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے پارٹی صدر بننے سے شہبازشریف پر عدم اعتماد کا تاثر پیدا ہوا، ن لیگ میں دراڑیں محسوس کی جاسکتی ہیں اختلافات کا جنہیں پتا نہیں تھا انہیں بھی معلوم ہوگیا، اس لیے نوازشریف کو سمجھایا تھا صدر بننے کی بجائے پارٹی چیئرمین بن جائیں اور رہبر بن کر پارٹی چلائیں لیکن نوازشریف نے میری تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا، حالاں کہ اس وقت عمران خان بھی اپنی پارٹی کے رہبر ہیں، ان کے پاس عہدہ نہیں لیکن سب ان کی سنتے ہیں لیکن نواز شریف کی کوئی بات نہیں سنتا، اس لیے یہ تاثر ہے کہ نوازشریف کمزور ہورہے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی جیسے بھی بنی وہ اب ایک پارٹی ہے، تحریک انصاف کو بنانے والے اور ان کو پنکچر لگانے والی آرمی ہے، پی ٹی آئی کو جس حکیم سے شکایت ہے وہ اسی کے پاس جانا بھی چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کو نیا حکیم اور نئی دوا ڈھونڈنی چاہیئے، عمران خان کی پرانی تقریں دیکھیں انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو کیا کچھ نہیں کہا لیکن آج وہ ان کے ساتھ ہیں، اس سے اندازہ لگائیں کہ ان کی نیت کیا ہے، وہ چاہتے ہیں ملک عدم توازن کا شکار رہے، اس لیے ان کے لئے سب سے بہتر جگہ جیل ہے۔
خورشید شاہ نے کہا کہ گرینڈ ڈائیلاگ میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ شامل نہیں ہو سکتے لیکن آف دی ریکارڈ یہ ہو سکتا ہے، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو ایک دوسری کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیئے کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے درمیان دراڑیں نظر آتی ہیں لیکن یہ سب نہیں ہونا چاہیئے، آرمی چیف اور چیف جسٹس کو سنبھل کر چلنا چا ہیئے، سب کی اپنی ذمے داریاں ہیں اور دوں نے بڑے اہم فیصلے کیے ہیں، اداروں میں جنگ ہوئی تو کوئی نہیں بچے گا۔



