لاہور ( نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ آرٹیکل 17 کی شق 2 کے تحت کسی سیاسی جماعت کو الیکشن لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا، عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لینا الیکشن کمیشن کا غیر قانونی اقدام تھا، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی کو کالعدم قرار دیکر انتخابی نشان بلا واپس کیا جائے۔ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹراپارٹی الیکشن پر پاکستان تحریک انصاف کو نوٹس جاری کردیا، پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کی جانب سے 30 مئی کو کی جائے گی، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر خان اور رؤف حسن کونوٹس جاری کیے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے 3 مارچ کو کروائے گئے انٹراپارٹی الیکشنز پر 7 اعتراضات عائد کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی رجسٹریشن پر سوالات اٹھائے تھے کیوں کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن نہیں کروائے اور جماعت کا انتظامی ڈھانچہ ختم ہوگیا ہے۔اعتراضات میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے الیکشنز ایکٹ کی سیکشن 208 ایک کے تحت انٹراپارٹی الیکشنز 5 سال میں نہیں کروائے، الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کا انتظامی ڈھانچہ پانچ سال سے نہیں ہے اب بطور سیاسی جماعت کیا اسٹیٹس ہے؟ پی ٹی آئی نے سیکشن 202 پانچ کے تحت فہرست میں شامل ہونے کیلئے درکار دستاویزات نہیں دیں۔
الیکشن کمیشن کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج



