تحریر: عابد حسین قریشی
عورت بھی اللہ تعالیٰ کی ایک منفرد تخلیق ہے۔ اسکی خوبصورتی ، اسکی ادائیں ، اسکا انداز گفتگو سب کچھ دلوں کو موہ لینے والا ہوتا ہے۔۔۔ قدرت نے عورت کی تخلیق ہی ایک خاص انداز میں کی ہے۔ اسکی نزاکت، ناز و نخرہ، رکھ رکھاؤ ، سب کچھ ہی تو مرد سے الگ ہوتا ہے۔ عورت نازک مزاج تو ہوتی ہی ہے، وہ مرد سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اسکے ناز نخرے اٹھائے ۔ مرد اس عورت کا ہیرو بھی ہوتا ہے اور ولن بھی۔ مگر یہ ان دونوں کی ہیروئن ہی رہتی ہے۔ عورت پر اگر بھروسہ کیا جائے تو یہ وفا کا دوسرا نام ہے۔ یہ اب مرد پر منحصر ہے کہ وہ اپنی بیوی کو محبوبہ بنا کر رکھتا ہے، دوست یا غمگسار ساتھی، یا اس سے پناہ مانگتا ہے۔۔ شادی کے بندھن سے شروع ہونے والا رشتہ اگر راس آگیا تو عاشق اور محبوبہ اور اگر الٹا پڑ گیا تو خواری اور ذلت،۔ وقت کے ساتھ اور بچوں کی ولادت کے بعد اس رشتہ میں کئی خوبصورت موڑ آتے ہیں۔ بیوی بچوں کی ماں کی صورت میں ایک نئے روپ میں سامنے آتی ہے۔ اب اسکا فوکس مرد کی بجائے اسکی اولاد ہوتی ہے۔ جوں جوں جوانی ڈھلتی ہے، وہ عشق و حسن کی گرمجوشی بھی ماند پڑھتی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر عورت مرد سے پیار مانگتی ہے، مگر شاید پیار سے زیادہ توجہ کی طالب ہوتی ہے۔۔ مرد خواہ کتنا خرانٹ ہو، چالاک ہو ، عورت اسے جلد پہچان بھی جاتی ہے اور سمجھ بھی۔ جبکہ مرد عمر گزار دیتا ہے عورت کو سمجھنے میں۔وہ اتنی آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔ عورت وفا مانگتی ہے اور محبت میں یکسوئی ۔ وہ محبت اور پیار میں تقسیم نہ برداشت کرتی ہے نہ افورڈ۔۔ عورت کو نظر انداز کرکے یا گھر میں اسکی اہمیت کم کرکے اسکے ساتھ گزارہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر عورت نرم مزاج ہے تو رو کر،آنسو بہا کر احتجاج یا گلہ شکوہ نوٹ کرا سکتی ہے، اور اگر ہتھ چھٹ ہے تو پھر مرد کی چیخیں نکلوا سکتی ہے۔ جوانی میں زوجگان کے قابو میں نہ آنے والے دوست عمر میں اضافہ کے ساتھ اچھے خاصے تھلے لگے ہوتے ہیں، جسے وہ انڈر سٹینڈنگ سے بھی تعبیر کرتے ہیں، جو عموماً یکطرفہ سی ہی ہوتی ہے۔ ڈھلتی عمر کے ساتھ خصوصاً ریٹائر منٹ کے بعد مرد کو گھر میں خاصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے بعض دوست اس عمر میں بھی اپنے آپ کو گھر کا سربراہ سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ حالانکہ اس عمر میں گھر میں مرد کا عہدہ نمائشی اور آئینی سا ہی رہ جاتا ہے۔ اصل اختیارات بیگم صاحبہ کی طرف از خود منتقل ہو جاتے ہیں، یہی حقیقت ہے مگر بڑی تلخ اور ترش حقیقت ۔ آجکل سوشل میڈیا پر ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی ترغیب مردوں کو دی جاتی ہے۔ وہ مرد جو ایک شادی ہی بڑی مشکل سے نباہ رہے ہوتے ہیں،اور اکثر جوڑوں کے درد، اونچا سننے، کمزور بینائی ، اور جن کے جملہ اعضائے رئیسہ کی اوور ہالنگ کی اشد ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی دوسری شادی کا نام سنتے ہی مسحور و بے خود ہو جاتے ہیں۔ ویسے کہتے ہیں، شادی دوسری ہی مشکل ہوتی ہے، اسکے بعد معاملات خود بخود صحیح ڈگر پر چل پڑتے ہیں۔جو دوست بھی یہ سطور پڑھ رہے ہیں، یہ دوسری یا تیسری شادی والا رسک اپنی زمہ داری پر اٹھائیں ، نقصان کی صورت میں جو کہ یقینی ہے یہ خاکسار ذمہ دار نہ ہوگا۔مرد خواہ عبادت گزار ہو یا دنیا دار، جوان ہو یا بوڑھا، سادہ ہو یا ہوشیار، مرد پر شک کرنا عورت کی سرشت میں ہے،اور ترجیح اول بھی۔۔ اور جب تک
اسے مرد کی”” شرافت کا طبعی”” طور پر یقین نہ ہو جائے ، یہ شک و شبہ والی مشق جاری رہتی ہے۔۔



