عابد حسین قریشی
انسانی طبیعت ، عادت اور فطرت میں خاصا فرق ہے۔ عمومی طور پر لوگ ان کو ایک سا ہی لیتے ہیں۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اگر کوئی مجھ سے یہ کہے کہ احد کا پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گیا ہے،میں مان لوں گا، لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں شخص نے اپنی فطرت تبدیل کر لی ہے تو میں نہیں مان سکتا۔۔ عادت تو آسانی سے بدلی جاسکتی ہے۔
آپ دن میں تین بار کھانا کھاتے ہیں، دو بار کھانا شروع کر دیں تو یہ عادت ہے جو تبدیل ہوگئی ، آپ سگریٹ پینے کی عادت ترک کر سکتے ہیں، مگر فطرت تو اور چیز ہے۔ یہ تو کسی کے بارے میں اچھا برا سوچنے یا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بد فطرت انسان کے ہاتھوں خیر کی توقع نہیں ہوتی اور اچھی فطرت والا کسی کا برا نہیں کر سکتا ۔ پھر بدلتے انسانی رویے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ جوں جوں انسان ترقی کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کرتے ہیں، انکے رویوں میں تبدیلی اور فرق محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جتنا کوئی قریب ہوتا ہے، اتنا ہی فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان مبارک ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی عہدہ یا اختیار ملتا ہے، تو اسکی صرف شناخت ہی نہیں ہوتی وہ بے نقاب بھی ہوتا ہے۔اس کسوٹی پر بہت سے لوگوں کو تقریباً چار دہائیوں تک پرکھتے رہے۔
اکثر کو اپنے سمیت ناکام ہی پایا۔ کسی نے اختیار و اقتدار یا ترقی پر عہدہ ملنے پر لہجہ تبدیل کیا تو کسی نے آنکھوں کی رنگت ، کسی نے پنجابی بولتے بولتے اچانک اردو میں باتیں کرنا شروع کیں تو کسی نے اپنے علاوہ سب کو حقیر جانا۔ بہت تھوڑے جی ہاں بہت تھوڑے لوگ پرانی روش برقرار رکھ سکے۔ کبھی کبھی ان رویوں پر ہنسی بھی آتی رہی اور اکثر کف افسوس ہی ملنا پڑا۔ایسے رویے جو دوستوں میں بد گمانیاں اور رشتوں میں دراڑیں ڈال دیں، وہ کسی نام نہاد احساس تفاخر کا منطقی نتیجہ ہی تو ہوتے ہیں۔ وکالت سے عدالت اور پھر عدالت سے وکالت کا یہ اب تقریباً 43/44 سال کا سفر ہے۔
اس سفر میں کیا کیا دیکھا ، کیا سنا اور کیا کیا بھگتا، کافی کچھ تو اپنی اولین یاد داشتوں کی کتاب عدل بیتی میں لکھ چکا۔ اس کتاب کی عدیم النظیر پذیرائی کہ ایک سال میں دوسرا ایڈیشن چپھوانا پڑا، مگر کہانیاں ہیں کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آ رہیں ۔ لگتا ہے شاید تیسرے ایڈیشن کی طرف جانا پڑے۔ کہانیاں دلچسپ بھی ہیں، تکلیف دہ بھی ، سبق آموز بھی ہیں اور عبرت آمیز بھی۔ کچھ بزرگ دوستوں اور خیر خواہوں کا مشورہ ہے کہ ذرا کھل کر بات کی جائے ۔ کہ چیزوں کا صرف مثبت پہلو ہی اجاگر نہ کیا جائے کہ دوسری طرف بھی بات کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ اور کچھ نہیں تو نظام عدل کا ہی پوسٹ مارٹم کر دو، کہ یہ نظام اب شاید ڈلیور نہیں کر پارہا۔ اور لوگ اس سے بہت سی توقعات رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہر نظام میں خوبیاں خامیاں ہوتی ہیں۔ اور ہمارا نظام عدل گستری بھی انہی خوبیوں اور خامیوں میں گھرا ایک جزیرہ ہے، جسے شاید بیرونی دنیا کی خبر نہیں۔
زمانہ کس قیامت کی چال چل گیا، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ، ہماری دفعہ 154ضابطہ فوجداری کا وہی پیٹرن ہے جو ملکہ برطانیہ ہمیں سمجھا اور پڑھا کر گئی تھی۔ ہماری تفتیش بھی اسی ٹیوے اور نیاں کے نرغے میں ہے اور ہماری عدالتیں بھی اسی متروک و بیکار نظام میں سے سچ اور جھوٹ ڈھونڈنے میں مگن اور بر سر پیکار ہیں۔ لگتا ہے بات سنجیدہ شروع ہو چکی ہے۔ لہزا اسے اگلی قسط میں سنجیدگی سے ہی لیں گے۔



