اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو۔ جرمنی کے وزیر خارجہ کے ساتھ بہت اچھی نشست رہی ۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کچھ روز قبل میری برلن میں جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ہم نے دو طرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے میسر مواقعوں کا جائزہ لیا۔ ہم نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے میں نے انہیں بریف کیا۔ہم نے دو طرفہ اقتصادی تعاون میں اضافے کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کیا۔آج جرمن وزیر خارجہ اسلام آباد تشریف لائے۔ انہیں آگے کابل، افغانستان جانا ہے۔انہوں نے ضروری سمجھا کہ پہلے پاکستان کے نکتہء نظر سے آگاہی حاصل کی جائے۔صدر بائیڈن کی طرف سے 11 ستمبر سے پہلے افغانستان سے افواج کے انخلا کو مکمل کرنے کے اعلان اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ ء خیال ہو۔ا میں نے پاکستان کا نکتہ نظر جرمن وزیر خارجہ کے سامنے رکھا۔میں نے انہیں بتایا کہ ابھی بھی دوحہ میں قیام امن کیلئے کوششیں جاری ہیں ہماری تو یہی خواہش ہے کہ افغان آپس میں مل بیٹھ کر معاملات کو طے کریں۔پاکستان تو یہی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو اور اس کے نتیجے میں علاقائی روابط میں اضافہ ہو۔ ہمارے ہاں سرمایہ کاری ہو اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں ۔ خطے کو مجموعی طور پر فائدہ ہو ، ہم خطے میں قیام امن کیلئے کی جانے والی کاوشوں میں شراکت دار ہیں۔ جرمنی کے ساتھ ہماری دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کے امکانات موجود ہیں۔کرونا وبا کے دنوں میں یہاں روس کے وزیر خارجہ تشریف لائے میں، انہی دنوں جرمنی کے دورہ پر گیا۔میں یو اے ای، ایران، اور ترکی گیاآج جرمنی کے وزیر خارجہ دوبارہ مجھ سے آ کر ملے جبکہ کل ھنگری کے وزیر خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں یہ سب غیر معمولی نوعیت کی پیش رفت ہے۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو



