لاہور(آئی این پی ) پنجاب میں آکسیجن کی تیاری اور فروخت کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کردی گئی، آکسیجن تیارکرنے والے ادارے تاحکم ثانی 100 فیصد آکسیجن صحت کے شعبے کو فروخت کریں گے جب کہ صحت کے شعبے کو پہلے ہی 25 سے 30 فیصد زیادہ آکسیجن سپلائی کی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبے میں اسٹیل، گلاس اور بحری جہاز توڑنے والی انڈسٹری کو آکسیجن سپلائی بند کرنے کا حکم دیا گیاہے اور صرف فارماسوٹیکل انڈسٹری کو آکسیجن کی سپلائی ملتی رہے گی جب کہ پنجاب میں نجی کمرشل سیکٹر کو تاحکم ثانی آکسیجن کی سپلائی نہیں ملے گی۔ اسپتالوں کو معمول کے آپریشن اور الیکٹریکل سرجری کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہیکہ پاکستان میں آکسیجن تیار کرنے والے اداروں کی کل تعداد 6 ہے اور ان اداروں میں روزانہ 740 ٹن آکسیجن تیار ہوتی ہے جب کہ پنجاب میں آکسیجن تیار کرنے والے اداروں کی تعداد 4 ہے اور صوبے میں روزانہ 525 ٹن آکسیجن تیار ہوتی ہے۔ آکسیجن مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ حکومت بلاتعطل بجلی فراہم کرے تاکہ آکسیجن کی پیداوارنہ رک سکے جب کہ 50 سے 70 روپے فی کیوبک میٹر آکسیجن فروخت کررہے ہیں، آکسیجن تیارکرنے والی صنعت کو سیلز ٹیکس وغیرہ میں رعایت دی جائے۔
پنجاب میں آکسیجن کی تیاری اور فروخت کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ



