کراچی/اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جسٹس فائز عیسی کیس کی نظرثانی کی درخواست پر فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی سپریم کورٹ کے جج کو بلیک میل، ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی، میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے دراصل عدلیہ پر حملے کی کوشش کی تھی، جو بھی عدلیہ پر حملے کی سازش کا حصہ بنے، پی ٹی آئی حکومت کے ان کرداروں کا محاسبہ ہونا چاہئیے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ احتساب کا آغاز وزیراعظم سے شروع ہونا چاہئیے کہ جنہوں نے سپریم کورٹ پر حملے کی نیت سے ریفرنس آگے بڑھایا، وزیراعظم کے ریفرنس کا ایک مقصد ملک کے ہر آزاد جج کو خوف زدہ کرنا بھی تھا، عدلیہ پر حملے آمریت کی علامتیں ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی نے عدلیہ پر غیرآئینی و غیرقانونی حملے میں وزیراعظم کے ایک ساتھی کا کردار ادا کیا، صدر عارف علوی اپنے منصب پر رہنے کا اخلاقی جواز کھوچکے ہیں، انہیں فوری مستعفی ہونا ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم نے بدنیتی سے عدلیہ کو دھمکایا، شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر ان کے خلاف آزادانہ تحقیقات کی جائیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق جسٹس فائز عیسی کے حوالے سے سارا معاملہ حکومت کے خلاف ایک فرد جرم ہے، یہ حکومتی دباؤ کا ایک ہتھکنڈہ اور قانون کی بالادستی کے لئے ایک شرم کا مقام ہے، پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ گو پی پی پی عدالتی قتل اور تین نسلوں سے عدلیہ کے نامناسب روئیے کا شکار رہی تاہم ہم آزاد اور مضبوط عدلیہ کے معاملے پر ہمیشہ کی طرح اٹل ہیں، پی پی پی ہمیشہ آئینی بالادستی کے ساتھ ہے اور ہم عدلیہ کے خلاف کسی سازش کا سہارا نہیں بن سکتے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرد کی نہیں بلکہ قانون کی حاکمیت جمہوریت کا سب سے بڑا اصول ہے، پی پی پی ہمیشہ آزاد عدلیہ، آئینی بالادستی اور جمہوریت کے دفاع میں ہراول دستہ رہے گی، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جمہوری رویوں کا احترام کرتے ہوئے عدلیہ، حزب اختلاف، میڈیا، نقادوں اور اختلاف رائے کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی مہم کو بند کیا جائے۔
سپریم کورٹ کے جج کو بلیک میل، ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی،بلاول بھٹو زرداری نے جسٹس فائز عیسی کیس کی نظرثانی کی درخواست پر فیصلے کو خوش آئند قراردیدیا



