اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کینیڈین وزیر خارجہ مارک گارنیو کیساتھ ٹیلیفونک رابطہ۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ،کرونا وبائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ نے کرونا وبا کی تیسری لہر میں شدت کے باعث، کینیڈین حکومت کی جانب سے سفری پابندیوں کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی کاوشوں کے باعث، پاکستان میں وبا کی صورتحال دوسرے علاقائی ممالک کی نسبت بہتر ہے ۔اس تناظر میں تیس دن کی مدت مکمل ہونے کے بعد پاکستان پر عائد سفری پابندیوں پر نظرثانی کی جائے۔کینیڈین وزیر خارجہ نے سرینا ہوٹل کوئٹہ میں ہونیوالے دہشتگردانہ حملے اور جانی نقصان پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کیساتھ اظہار تعزیت کیا ۔جبکہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان، کینیڈا کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔وزیر خارجہ نے کرونا وبا کے دوران کینیڈا میں مقیم پاکستانی شہریوں کا خصوصی خیال رکھنے پر کینیڈین وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کینیڈا میں کورونا وبا کے باعث ہونیوالے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کینیڈا کی حکومت کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں اور طالب علموں کو ویزا سہولیات دینے پر بھی بات کی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کینیڈین حکومت کی جانب سے پاکستان کیلئے ٹریول ایڈوائزری میں بہتری کے فیصلے کو سراہا ۔کینیڈین وزیر خارجہ نے افغان امن عمل سمیت خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ۔کینیڈین وزیر خارجہ نے استنبول میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کی تعریف کی۔ وزیر خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ اجلاس میں فاٹف کے معاملے پر کینیڈا پاکستان کی معاونت کرے گا ۔وزیر خارجہ نے کینیڈین ہم منصب کو دورہ ء پاکستان جبکہ کینیڈین وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو جلد کینیڈا آنے کی دعوت دی۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کینیڈین وزیر خارجہ مارک گارنیو کیساتھ ٹیلیفونک رابطہ



