عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے

خامہ اثر: قاضی عبدالقدیر خاموش

ہمارا سوال تھا کہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو لوگ ووٹ کیوں نہیں دیتے ،اور وہ برسر اقتدر کیوں نہیں آتیں ؟حالانکہ جب کبھی وقت آن پڑے تو یہ عوام اپنے اموال کی امانتیں ان کے سوا کسی دوسرے کے حوالے نہیں کرتے ۔مسئلے کا جائزہ لیا جائے تو اس کی وجوہات بے شمار دکھائی دیتی ہیں ، اول یہ کہ ہر جماعت کا بنیادی فلسفہ ہی معاشرے سے مخاصمت کا ہے ، ان کی تقریر و تحریر میں اس کا اظہار نمایاں طور پر کیا جاتا ہے کہ” معاشرے کا بنیادی مسئلہ بے دینی ہے۔” اس بنیادی موقف کی وجہ سے مذہبی سیاسی جماعتوں کا مسلم معاشرے اور عام مسلمان سے تعلق مخاصمانہ ہوجاتا ہے۔جو عوام کو مذہبی قیادت سے پہلے ہی مرحلے میں الگ کردیتا ہے۔ پھر ووٹ کی توقع کیسی ؟

2…مذہبی جماعتیں بنیادی طور پر صرف عقیدے اور شناخت کی سیاست میں ید طولی رکھتی ہیں۔معاشرے کی بنیادی ضروریات جن میں امن وامان ،معیشت ، جدید تعلیم ، صحت ، صفائی سمیت کسی بھی ایسے مسئلہ پر ان کا کوئی کردار ہی نہیں جس سے جدید دور کی معاشرت کو واسطہ ہے ، حالانکہ اللہ رب العزت کے ہاں بھی بنیادی اہمیت امن وامان اور پیٹ کی بھوک کی ہے ۔اللہ رب العزت جب قریش مکہ سے اپنی عبادت کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا جواز انہیں دو چیزوں کو بیان کرتے ہیں ۔ سورہ قریش میں ہے کہ فلیعبدوا رب ہذا البیتِ (ان کو اس گھرکے مالک کی عبادت کرنی چاہیے۔) کیوں کہ الذی اطعمہم مِن جوع وامنہم مِن خوف (جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور ان کو خوف سے امن دیا۔)انسانوں کو روٹی عطا کرنے اور امن دیئے بغیر تو اللہ اپنی عبادت کا مطالبہ نہیں کرتا جبکہ ہماری دینی جماعتیں اقتدارمانگتی ہیں ، جو کہ ناممکن العمل امر ہے ۔ رسول اللہ ۖ کی قائم کردہ ریاست مدینہ میں بھی اولین اہمیت امن اور معیشت کی رہی ہے ، اسلامی ریاست کے ماڈل کے طور پر سیدنا عمر کی حکومت کو پیش کیا جاتا ہے ، جس کا بنیادی وصف ہی فلاح انسانیت ہے ، مذہب کا جبری نفاذ نہیں ، جس کا ثبوت یہ ہے کہ برطانوی ، اور سکنڈے نیوین ممالک نے اپنے فلاحی قوانین سیدنا عمر سے حاصل کئے اور فلاحی معاشرے تشکیل دے ڈالے ۔جبکہ ہماری مروجہ دینی جماعتوں کے ہاں یہ دونوں معاملات ان کے عمل اور سیاست کی کسی فہرست میں موجود ہی نہیں ،اس لئے جب یہ انسان کی بنیادی ضرورت کی بات ہی نہیں کریں گے تو وہ انہیں ووٹ دے کر بر سر اقتدار کیوں لائے گا ۔دیکھا یہ گیا ہے کہ کم وبیش مسلم دنیا کی ہر دینی جماعت کے نفاذ اسلام کے مطالبہ کی کل متاع اسلامی سزائوں کا نفاذ ہے جبکہ سیدنا عمر کے دور حکومت سے ثابت ہے کہ قحط کے دور میں چوری کی شرعی سزا پر عمل کو روک دیا گیا ،مطلب کہ پہلے روٹی پھر سزا۔ ہم آغاز ہی ہاتھ کاٹنے سے کرنا چاہتے ہیں ، اس سے پہلے پیٹ بھرنا ہمارے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ۔یوں ہمارا مطالبہ تانگے کوگھوڑے سے آگے باندھنے جیسی بات ہے ۔
3……اسی طرح دینی جماعتوں کا فکری تضاد بھی عوام کو ان سے دور رکھنے کا سبب ہے ، ہر ملک میں موجود مذہبی سیاسی جماعتیں جمہوری عمل میں پوری شدت سے شریک بھی ہوتی ہیں اوراسی جمہوری عمل کے ذریعہ سے اقتدار بھی چاہتی ہیں ،لیکن اعلانیہ طور پر انہی جمہوری تصورات کو غیرمذہبی بلکہ کفر قرار دے کر ان کے خلاف پوری تندہی سے کام بھی کرتی ہیں۔ پورے معاشرے کو کھل کر لادین ، مذہب بیزار
2

اور نا معلوم کیا کیا کہا جاتا ہے اور پھر انہیں لادین اور گمراہ قرار دئے گئے لوگوں سے ووٹ بھی مانگا جاتا ہے ، جس کا رد عمل یہ ہے کہ جس طرح سے ہماری دینی جماعتیں معاشرے کے مسائل سے غیر متعلق ہیں اسی طرح ووٹر بھی ان سے لا تعلق ہوجاتا ہے ، اور ان کو ووٹ دینا پسند کرتا ہے ، جو اس کے مسائل کے حل کی بات کرتے ہیں ، اسے دھتکارا ہوا انسان قرار نہیں دیتے ۔
4……مذہبی جماعتوں کی مطالباتی سیاست نے انہیں پریشر گروپس کی حیثیت دے دی، جن کا مقصد ریاست اور قائم سیاسی حکومت کو مسلسل دباو میں رکھ کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔ مذہبی جماعتوں کی مستقل احتجاجی کارکردگی کی وجہ سے معاشرے کا پورا سیاسی عمل غیرمتوازن ہو کر رہ گیا ہے اور قومی سیاسی مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ مذہبی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان مذہب کو پہنچا۔ مذہب میں ایمان اور عقیدہ اساسی چیز ہے۔ ایمان ایک ذاتی چیز ہے، اور عقیدہ علم کا موضوع ہے سیاست کا نہیں۔ چونکہ انسان کی مذہبی شناخت سے کچھ سماجی اور معاشی پہلو جڑے ہوئے ہیں، اس لیے عقیدے کا ایک پہلو قانونی بھی ہے۔ لیکن مذہبی سیاست نے عقیدے کو پبلک اور میڈیائی چیز بنا دیا ہے۔ مذہبی سیاست کی وجہ سے عقیدے کے معاملے میں لوگوں کو مطمئن کرنا اور ان کی خیرسگالی حاصل کرنا اب زیادہ اہم ہے۔ عقیدہ عبد و معبود کے جس تعلق کا بیان ہے وہ اب زیادہ اہم نہیں رہا۔ مذہبی سیاست کی وجہ سے عقیدے کے بارے میں مذہبی سیاسی قوتوں کے سامنے جوابدہی کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے عقیدے کی نوعیت سیاسی اور سیکولر ہو گئی ہے اور اس کی مذہبی حیثیت تقریبا ختم ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے معاشرے کی سیکولرائزیشن میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
5……سورہ قریش کی تشریح کو ہی دیکھا جائے تو انسانی معاشرہ سرمائے اور امن وامان کے گرد گھومتا ہے ، باقی سب اس کی تشریحات اور طاویلات ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ہر مقبول سیاسی پارٹی کے ایجنڈے میں معاشی خوشحالی اور قیام امن کی پالیسی کی اہمیت مرکزی ہوتی ہے جبکہ معروف مذہبی سیاسی جماعتوں کی سیاسی جدوجہد اور فکر کو ان دونوں اساسی معاملات سے کوئی سرو کار ہی نہیں ، یعنی جو چیزیں مذہبی فکر کا موضوع تھیں، ان پر سیاست ہونے لگی۔ اور جو مذہبی سیاسی عمل کا موضوع تھیں، ان کو مطلق فراموش کر دیا گیا۔ اس سے دینی روایت اور دینی عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور سیکولرزم کی قوتوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔
6……حقیقت یہ ہے کہ مروج جدید معنوں میں مذہبی سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتیں ہونا ہی کوالیفائی نہیں کرتیں۔ اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں یہ بات معلوم نہیں جب کہ ایک عام آدمی کو یہ بات معلوم ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے کہ ان کو ووٹ نہیں ملتے۔ مذہبی سیاست نے دینی فکر اور اعمال صالحہ کے لیے معاشرے میں موجود گنجائش کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔نتیجہ یہ کہ ان دینی جماعتوں کو درست ماننے اور ان کے اجتماعات اور جلسوں میں شریک ہونیو الے بھی انہیں ووٹ دینے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں ۔
7……ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ ۔دینی جماعتوں کوووٹ نہ ملنے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان جماعتوں کو کسی بیرونی دشمن کی کبھی ضرورت نہیں رہی،خود ان کے ہم مسلک وہم مشرب ان کی مخالفت کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ پاکستان کی تمام دینی جماعتوں کا ایک
3

اورمشترکہ المیہ،اتحاد اور قیادت کا فقدان ہے۔ان کے پاس ایسا کوئی زمانے کاسرد وگرم چشیدہ قائد اب نہیں رہا،جو ان کے ووٹ کوضائع ہونے سے بچانے کے لیے انھیں آپس کی رنجشوں اور ذاتی مفادات کو عظیم ترقومی مفاد پر قربان کرنے کے لیے آمادہ کرسکے۔جس کی وجہ سے خودروکھمبیوں کی طرح اتحاد پر اتحاد اور جماعتوں پر جماعتیں تو بنتی جارہی ہیں،لیکن اس کا فائدہ دینی کاز کے بجائے ذاتی مفادات تک محدود ہوتاہے۔ دینی لیڈران کرام اب تک ذاتیات کے خول سے ہی نہیں نکل پائے۔
8……المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہر دینی جماعت فکری مخمصے میں اس طرح الجھی ہوئی ہے کہ دعویٰ تو یہ ہے کہ سیکو لر جماعتیں باطل ہیں ، ان کو ووٹ دینا ہی درست نہیں جبکہ ہر دینی جماعت انہیں سیکولر جماعتوں میں سے کسی نہ کیس کا دم چھلہ بنی ہوئی ہے ، اور انہیں کی قیادت کو تسلیم کرتی ہے ،لہٰذا عوام انہیں ووٹ دے بھی دیں تو اس کا فائدہ کسی نہ کسی سیکولر جماعت کو ہی ملنے گا ،ایسی صورت میں عوام کیوں نہ براہ راست ہی اپنا ووٹ اپنی پسند کی سیاسی جماعت کو دیں ،کم ازکم وہ ان کے مسائل کے حل یا مشکلات کے تدارک میں معاون تو ہونگے ۔
9……عمومی مزاج یہ ہے کہ دینی جماعتوں کے منتخب ارکان اپنے حلقے کے مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کام کرنے میں عمومی طور پر وہ دل چسپی نہیں لیتے،جو دوسری جماعتوں کے ارکان لیتے ہیں۔ایم ایم اے کی سابقہ خیبر پختونخواحکومت کی کارکردگی کا منصفانہ جائزہ لیجیے ،تو آپ کو ہماری بات کی صداقت کا یقین ہوجائے گا،یا اگر آپ کے حلقے سے کسی دینی جماعت کا نمایندہ منتخب ہواہے،تو اس کی کارکردگی کا دوسرے حلقوں کے اراکین کی کارکردگی سے موازنہ کرلیجیے،حقیقت سامنے آجائے گی۔اس کی ایک وجہ فنڈ زکی عدم دستیابی بھی ہوسکتی ہے،لیکن اس کے باوجود سستی وغفلت کا عنصر غالب ہے۔(جاری ہے )
عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے (2)
خامہ اثر: قاضی عبدالقدیر خاموش
(گزشتہ سے پیوستہ)

بات ہو رہی تھی کہ دینی جماعتوں کو لوگ ووٹ کیوں نہیں دیتے، اس حوالہ سے ایک بحث یہ بھی ہے کہ:
-10 مذہبی جماعتوں کا رویہ سیاسی نہیں ہے اور نہ ہمارے محترم علماء کرام اور دینی قائدین ووٹ حاصل کرنے کے لئے وہ پاپڑبیلنے کے لئے تیار ہیں جو اس میدان میں بہرحال بیلنے پڑتے ہیں۔ عام سیاسی جماعتوں کے برخلاف جو اپنی کارکردگی اور عملی وعدوں کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہیں، مذہبی جماعتیں اس لہجے میں بات کرتی ہیں جیسے مذہب کا نمائندہ ہونے کی بنا پر عوام کا ووٹ ان کا استحقاق ہو۔ وہ عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کو وٹ دینا ان کا دینی فریضہ ہے اور اس سلسلے میں دوسری جماعتوں پر تنقید کے لئے فتووں کا سہارا لینا ایک عام سی بات ہے۔ یہ رویہ کسی بھی درجے میں ووٹر کو پسند نہیں بلکہ الٹا اس کے ذہنی فاصلے کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
-11علماء اور دینی قائدین کے نام نہاد اتحاد جو عموماً وقتی اور ضرورت کے تحت ہوتے ہیں، ان میں بھی قیادت کے انتخاب اور ٹکٹوں کی تقسیم کرتے وقت زمینی حقائق کے بجائے فرقہ وارانہ اور بے مقصد گروہی ایڈجسٹمنٹ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹکٹوں کی تقسیم کی جاسکتی ہے تو برادری کی بنیاد پر کیوں نہیں؟ پاکستان کی سیاست میں برادری کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر ٹکٹوں کی تقسیم میں اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جائے تو نام نہاد اتحاد زیادہ سیٹیں جیت سکتا تھا کیونکہ برادری کے لوگوں نے تو بہرحال اپنے امیدوار کو ووٹ دینا تھا لیکن ایک فرقے کا ووٹر دوسرے فرقے کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا۔
-12سیاست میں سیاست دان کی شخصیت کا کردار بنیادی ہے۔ ایک کامیاب سیاست دان اپنے وقت کو عوام کے لئے وقف رکھتا ہے، ہر وقت ان سے رابطہ رکھتاہے اور اپنے حلقہ اثر کو مسلسل بڑھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی جزوقتی کام نہیں۔ انگریزی محاورے کے مطابق سیاست ایک Jealous Mistressیعنی حاسد بیوی ہے جو اپنی سوتن کو برداشت نہی کرتی، لیکن مذہبی جماعتوں نے اس سامنے کی حقیقت کو کبھی قابل اعتنا ہی نہیں گردانا۔ بجائے اس کے کہ وہ مذہبی رحجان رکھنے والے سیاسی قائدین کی کوئی کھیپ الگ سے تیار کریں، انتخابات کے موقع پر وہ زیادہ تر مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ یا انہیں چندے دینے والے صاحبان غرض کو امیدوار بنا کر میدان میں لے آتی ہیں جن کی انتخابی مہم کی ساری توانائیاں اپنا تعارف کرانے میں ہی صرف ہو جاتی ہیں۔
-13معروضی سیاست میں پیسے کی بھی بہت اہمیت ہے جس کی جیب بھاری ہو، وہ بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ طبقہ علماء کی اپنی کوئی جیب ہی نہیں بلکہ معاف کیجئے، وہ خود کسی کی جیب میں ہوتا ہے۔
-14 معاشرتی مسائل سے لاتعلقی سب سے بڑی وجہ ہے، سوشل سیکٹر بہت وسیع میدان ہے لیکن افسوس ہے کہ جتنا یہ میدان وسیع ہے، مذہبی طبقے کی خدمات اس سلسلے میں اتنی ہی کم ہیں۔ ہر کس و ناکس آگاہ ہے کہ دین اسلام کا غالب رجحان عملی ہے اور اس میں حقوق العباد پر بے حد زور دیا گیا ہے لیکن علماء کرام اور دینی قیادت کی نظروں سے دین کا یہ غالب پہلو ابھی تک اوچھل ہے۔ گلی محلوں میں اس طبقے کے قائم کردہ بے شمار چھوٹے بڑے مدرسے دکھائی دیتے ہیں لیکن سلائی سنٹر، ہسپتال، سکول، بلڈ بینک اور اس طرح کے دیگر رفاہی ادارے بنانے کا ان کے ہاں کوئی تصور موجود نہیں۔ اسی بنا پر ایک عمومی تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ طبقہ طفیلی(Parasite)ہے، اسے کیا معلوم کہ ورکنگ کلاس کے مسائل اور مشکلات کیا ہیں؟
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دینی سیاست میں طبقاتی درجہ بندی راہ پاچکی ہے اور قائدین اے، بی، سی کی مختلف کلاسوں میں تقسیم ہیں۔ سی کلاس کے قائدین کو اے کلاس کے قائدین کے ہاں وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ حق دار ہیں۔ اس طرح مساوات اور سادگی کے اسلامی تصورات عملاً ایک طرف رکھ دئیے گئے ہیں۔ گویا اے کلاس کے علماء کے اقتدار میں آنے سے سماجی سطح پر اس تبدیلی کے پیدا ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے جس کا پرچار کیا جاتا ہے۔
-15 باہمی برداشت کا فقدان بھی دینی جماعتوں کو ووٹ نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ ہے، یہی وجہ ہے کہ علماء کرام اور دینی قیادت کے اتحاد کے بارے میں بھی عوام بجا طور پر تحفظات رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اتحاد صرف کاغذی ہے اور الیکشن میں ووٹوں کی شرح سے اس اتحاد کی مضبوطی سامنے آجائے گی۔ ایک ہی حلقے میں دو مختلف فرقوں کے امیدوار جو اتحاد کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، ان کی ووٹوں کی شرح مختلف ہوگی کیونکہ کوئی بھی فرقہ دوسرے فرقے کو ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارے خیال میں مذہبی طبقہ اگر صرف اپنے ووٹوں کو اکٹھا کرلے تو بڑی بات ہے، اسے فی الحال عوامی ووٹ لینے کی ضرورت نہیں۔
-16سب سے آخری اور حتمی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کم از کم کوئی ایک بھی جماعت صحیح اور حقیقی معنوں میں دینی جماعت کی تعریف پر پورا نہیں اترتی، یہ سب فرقہ وارانہ جماعتیں ہیں، جے یو آئی دیوبندی جماعت ہے، جے یو پی بریلوی، جمعیت اہل حدیث اہل حدیثوں اور نفاذفقہ جعفریہ اہل تشیع کی جماعت ہے، اتحاد ہو بھی جائے تو جس ووٹر کی تربیت یہ کی گئی ہے کہ دوسرے مسلک یا فرقے کے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، بھلا سوچئے کہ وہ ووٹ کیوں دینے لگا۔ اس کا بہترین مظاہرہ ایم ایم اے کی تشکیل کے وقت پہلے اجلاس میں ہوا، جب ایک مکتب فکر کے لیڈر نے سچ سچ بات کی اور کہا ہے ’’میں آپ لوگوں کی مروت میں یہاں آگیا ہوں، ساتھ بھی دوں گا، اتحاد بھی کروں گا لیکن ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ میرا ہم مسلک ووٹر کبھی آپ میں سے کسی کو ووٹ نہیں دے گا۔ کسی دوسرے سیکولر جماعت کے اپنے ہم مسلک کو ووٹ ضرور دے گا، میرے کہنے پر بھی وہ آپ کو ووٹ نہیں دے گا اور مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ آپ لوگ بھی جتنا مرضی زور لگالیں، آپ کا ووٹر بھی میرے ہم مسلک یا اپنے سے مختلف مسلک کے ووٹر کو ووٹ نہیں دے گا۔‘‘
یہ وہ حقائق ہیں جن کی بناء پر ہماری زبان میں ملا کی دوڑ مسجد تک، بسم اللہ کے گنبد میں رہنا اور دو ملاں میں مرغی حرام قسم کے محاورے رائج ہو گئے ہیں۔ ان محاوروں کے طفیل علماء اور دینی قیادت کے حوالہ سے یہ نفسیاتی تاثر عام ہوگیا ہے کہ ان کا وژن بہت محدود ہے، کہا جاسکتا ہے کہ یہ محاورے انگریز کے عہد میں وجود میں آئے اور انگریز نے دینی طبقات کے خلاف ان اثرات کو تقویت دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ بات بھی ناقابل انکار ہے کہ ہمارے طبقہ کی مخصوص روش نے ان محاوروں پر مہر تصدیق ہی ثبت کی ہے۔ اپنے عمل سے رد نہیں کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اب بھی امید نہیں کر سکتے کہ دینی قیادت اپنے فکر و عمل کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کرے گی کہ لوگ انہیں اپنی آخرت کا محافظ سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنی دنیا کا نگہبان بھی سمجھنے لگیں اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ انتخابات میں انہیں ووٹ بھی دینے لگیں۔
دینی قیادت اگر سمجھنا اور سیکھنا چاہے تو ان کی فلاحی سرگرمیوں میں ان کے لئے موجود عوامی حمایت میں ہی ان کے لئے اسباق پوشیدہ ہیں کہ جب انہوں نے عوام کے مسئلے کو اپنا مسئلہ جانا اس کے حل کی خاطر نکلے تو عوام نے انہیں مایوس نہیں کیا، بلکہ دوسروں پر فوقیت دی، اس سے سمجھ جانا چاہیے کہ جب تک ’’الذی اطعمھم من جوع و امنھم من خوف‘‘ نہ ہو تو اللہ بھی ’’فلیعبدوارب ھذاالبیت‘‘ کا مطالبہ نہیں کرتا، تو ہم ووٹ اور حکومت کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں۔
جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرعام رکھ دیا



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر