دنیا کی جتنی اچھی باتیں ہیں وہ سوشل میڈیا پر ہو چکی ہیں ۔صبح سے رات گئے تک بہترین posts جن میں اعلی اخلاقی اقدار کا درس، قربانی اور نیکی کی سنی سنائی کہانیاں اور دلوں کو موہ لینے والے ناقابلِ یقین واقعات ، غرض یہ سلسلہ ہر دم رواں دواں ہے ۔میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ان خوبصورت اور دلکش باتوں اور کہانیوں پر عمل بھی کیا جائے اور اب اگر یہ بات share کی جاے کہ آج کتنے غریبوں اور ناداروں کو کھانا کھلایا گیا۔
کسی مستحقِ اور غریب مریض کی تیمار داری کی گئی اؤر کسی کو دوایء خرید کر دی۔کسی غریب ہمسایہ کے گھر کھانے کی کوی چیز یا پھل وغیرہ پہنچایا ، کسی نادار اور مستحق طالب علم کی فیس ادا کی یا اسے کتابیں خرید کر دیں۔رفاع عامہ کے کسی کام میں کوئی حصہ ڈالا۔کسی بیوہ اور بیتیم کی حقرسی کی اور انکے آنسو پونچھے۔کسی دل شکستہ دکھی کی دستگیری کی۔شادی بیاہ پر دیے جانے والے لفافے کسی بیمار کی تیمار داری کے موقع پر بھی دیے جائیں
اور کچھ نہں تو اپنے گھر میں کام کرنے والے ملازم کو وہی گرم کھانا کھلایا جو آپکے بچے کھاتے ہیں ۔اسی طرح ہی ہم اپنے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اسوہ حسنہ پر چلیں اور اس معاشرہ کو بہتر بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کر یں۔حالات کا ہر وقت رونا رونے سے بہت بہتر ہے کہ انہں درست کرنے میں اپنا کوئی کردار ادا کر جاہیں۔یہ معاشرہ ہم نے ہی ٹھیک کر نا ہے ۔
بقول فراز
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا۔۔
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔



