(23ستمبر) سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا یوم پیدائش

آج تحریک آزادی کے نامور رہنما مجلس احرار ِاسلام کے بانی مجاہد ختم نبوت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا یوم پیدائش ہے۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاری 23 ستمبر 1892 ء (یکم ربیع الاول 1310 ہجری) کو اپنی ننھیال پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے۔

نام دودھیال کی طرف سے عطاء اللہ شاہ بخاری، ننھیال کی طرف سے شرف الدین احمد، والد کا نام ضیا الدین احمد، دادا کا نام نور الدین احمد اور پردادا کا نام سید محمد شاہ تھا۔

شاہ جی کا نسب 39 ویں پشت میں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے۔ شاہ جی کے دادا نور الدین شاہ بخاری حضرت شمس الدین سیالویؒ سے بیت تھے۔ اتفاق حسنہ سے شاہ جی کے دادا سیال شریف سے بیعت تھے اور حضرت سید مہر علی شاہؒ گولڑہ شریف بھی وہیں سے بیعت تھے۔ شاہ جی نے اولاۤ سید مہر علی شاہ سے گولڑہ میں بیعت ارشاد کی تھی۔

شاہ جی چار برس کے تھے کہ والدہ کا سایہ عاطفت سر سے اٹھ گیا۔ شاہ جی کے والد محترم نے بیٹے کو نو برس کی عمر تک خود ہی پالا پوسا اور خواجہ عنبر کی مسجد میں اپنے ساتھ سلاتے رہے پھر ان کے والد محترم نے دوسری شادی کی۔

شاہ جی کسی بھی روایتی مدرسہ کے فارغ التحصیل نہ تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو مادرانہ عبقری ہوتے اور جن کی تربیت مبدا فیاض کرتا ہے۔

ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد امرتسر آ گئے جہاں مفتی غلام مصطفی قاسمی سے صرف و نحو اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔

1915ء میں پیر سید مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پہلے تحریک خلافت کے مخالف تھے مگر پھر سید دائود غزنوی کے دلائل سے قائل ہو کر اس تحریک کے حامی بن گئے جس میں ان کی خطابت نے جان ڈال دی۔ 1921ء میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

مارچ 1930ء میں لاہور میں ایک جلسے میں علامہ سید انور شاہ کاشمیری نے انہیں ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا اور آپ کے ہاتھ پر ہزاروں افراد کے ہمراہ بیعت جہاد کی۔

آپ نے تحفظ ختم نبوت کی تحریک میں بھی فعال حصہ لیا۔ 1931ء میں ’’مجلس احرار الاسلام‘‘ قائم ہوئی تو اس میں شامل ہو گئے۔ سید عطا اللہ شاہ بخاری، تحریک پاکستان کے مخالفین میں شامل تھے مگر قیام پاکستان کے بعد انہوں نے یہ مخالفت ترک کر دی۔

آپ شاعری میں ندیم تخلص کرتے تھے اور آپ کا مجموعہ کلام ’’سواطع الالہام‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

21 اگست 1961ء (9 ربیع الاول) کو ملتان میں شام چھ بجے واصل بحق ہو گۓ اور ملتان میں ہی آسودہ خاک ہوئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ملتان میں قبرستان جلال باقری، باغ لنگے خان میں آسودۂ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ ایک عالمِ با عمل، بے باک و نڈر اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دولت سے مالا مال ایک خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ شاہ جی بلاشبہ برصغیر پاک و ہند کے سب سے بڑے خطیب تھے۔ ان کی پوری زندگی تحفظِ ختم نبوت میں گزری۔ اس مقدس مشن کی خاطر بقول خود ان کی آدھی زندگی جیل میں اور آدھی ریل میں گزری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے کہا گیا :

شاہ جی اپنی سوانح عمری ہی لکھۓ؟

کس کے لۓ؟

ہمارے لۓ

آخر تیس بتیس برس تم لوگوں میں جھک ہی مارتا رہا ہوں ۔اس سے تم نے کیا حاصل کیا جو اب چند اوراق کی کہانی سے حاصل کر لو گے؟

اچھا اپنے لۓ لکھۓ

میں لکھی لکھائی کہانی ہوں اپنے تئیں ہر روز پڑھ لیتا ہوں

بہرحال شاہ جی اس طرح ایک تاریخ ہو جاۓ گی

پھر وہی تاریخ؟ تاریخ کیا؟ اور کس کے لۓ؟ پہلے لوگوں نے تاریخ سے کون سا سبق لیا ہے کہ اب اپنی زندگی لکھنے بیٹھوں؟

شاہ جی یہ زبان کا نہیں قلم کا زمانہ ہے

ٹھیک ہے بھائی لیکن لکھوں کیا؟

کچھ تو کہیۓ کہ زمانہ گوش بر آواز ہے !

خوب آخر صحافی ہو نا؟ قلم اٹھایا اور صفحوں کے صفحے سیاہ کر ڈالے۔ زندگی محض سوانح ہی نہیں ہوتے؟ کچھ اور چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ بعض گفتنی بعض نا گفتنی۔ نا گفتنی میں کام کی کوئی چیز نہیں اور گفتنی میں خطرات ہی خطرات ہیں۔

آج سے چوتھائی صدی پیشتر ایک سفر شروع کیا تھا۔ تب بے شمار لوگ شریک راہ تھے۔ ہر پڑاؤ پر قافلہ گھٹتا ہی رہا حتیٰ کہ:

کچھ دوست راستہ بدل گۓ کچھ اپنے ہی تعاقب میں پیچھے لوٹ گۓ، اکثر بچھڑ گۓ، بیشتر بچھڑ گۓ۔ دوستوں سے فریب نہیں کیا، دشمنوں سے انتقام نہیں لیا، ذاتی دشمن بناۓ ہی نہیں اور نہ بننے کی کوشش کی۔ جس شخص کے بارے میں معلوم ہو گیا کہ انگریز دوست ہے اس سے کنارہ کیا۔ جس نے ملی مقصد سے بد عہدی کی اس سے علیک سلیک کو بھی عار سمجھا۔

اس سارے سفر کا حاصل ہے لگاتار 44 برس لوگوں کو قرآن سنایا، پہاڑوں کو سناتا تو عجب نہ تھا کہ ان کی سنگینی کے دل چھوٹ جاتے۔غاروں سے ہم کلام ہوتا تو جھوم اٹھتے۔ چٹانوں کو جھنجوڑتا تو چلنے لگتیں، سمندروں سے مخاطب ہوتا تو ہمیشہ کے لۓ طوفان بکنار ہو جاتے۔ درختوں کو پکارتا تو دوڑنے لگتے، کنکریوں سے کہتا تو وہ لبیک کہہ اٹھتیں۔صرصر سے گویا ہوتا تو وہ صبا ہو جاتی۔ دھرتی کو سناتا تو اس کے سینے میں بڑے بڑے شگاف پڑ جاتے، جنگل لہلہانے لگتے، صحرا سرسبز ہو جاتے۔

افسوس میں نے ان لوگوں میں معروفات کا بیج بویا جن کی زمینیں ہمیشہ کے لۓ بنجر ہو چکی تھیں۔ جن کے ضمیر قتل ہو چکے تھے۔ جن کے ہاں دل و دماغ کا قحط تھا، جن کی پستیاں انتہائی خطرناک تھیں جو برف کی طرح ٹھنڈے تھے جن میں ٹھہرنا المناک اور جن سے گزر جانا طرب ناک تھا۔ جن کے سب سے بڑے معبود کا نام طاقت تھا جو صرف طاقت کی پوجا کرتے تھے۔

تیرہ سو برس کی تاریخ انہی حادثوں کی کہانی ہے، انہی چھچھورے، ناسمجھ، نازک اور متحرک جانوروں کو دیکھ کر زرشت نے کہا تھا کہ اس کا آنسوؤں اور گیتوں کی طرف میلان ہوتا ہے۔یہاں امراء دوزخ کے کتے اور سیاست دان کھٹی قے ہیں۔ ان کے ساتھ نٹ اور ان کے پیچھے لاشیں چلتی ہیں ان کی واحد خوبی یہ ہے کہ ہر نیکی اور ہر برائی کی زبان میں جھوٹ بولتے ہیں۔

میاں بابو !! ڈھونڈ سکتے ہو تو ان افکار میں میری سوانح عمری کی بنیادیں ڈھونڈ لو !

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کانوں میں گونجتے ہیں بخاری کے زمزمے
بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں !!!!!

(مولانا ظفر علی خان)

عطااللہ شاہ بخاریؒ اک نام اک نسب اک عہد اک صوفی اک درویش فصاحت وبلاغت میں آج کے دور کے ابو موسیٰ اشعری ، حق بات کہوں تو آل داود کی یہ بھی نغمگی عطا کیے گئے تھے جن کی بلند آواز کاٹ دار جملے بر محل برجستگی جوں رود دجلہ کا کنارہ ،جس کے آگے پل باندھنا سورج کو انگلی کے مترادف تھا، ختم نبوت کے طرے جبے دستار کا امین مرد جرار مرد حر !!

آپ فرماتے تھے کہ:

“میری آدھی عمر جیل میں گزری آدھی عمر ریل میں”

قادیانی نبوت کے برگ و بار کو خاکستر کرنے والے، انگریزی سامراج کے ایوانوں کو متزلزل کرنے والے، سحر خطابت اور عمل پیہم سے ایمان کی روشنی پھیلانے والے مرد حق آگاہ، حضرت امیر شریعتؒ نے 1950ء میں ختم نبوت کی حفاظت کے متعلق تقریر کرتے ہوئے فتنہ قادیانیت کے خلاف نعرہ مستانہ مار کے منبر پہ چڑھے تو بولے:

“ختم نبوت کی حفاظت میرا جزو ایمان ہے جو شخص بھی اس ردا کو چوری کرے گا، جی نہیں چوری کا حوصلہ کرے گا، میں اس کے گریبان کی دھجیاں بکھیر دوں گا۔ میں محمد ﷺ کے سوا کسی کا نہیں نہ اپنا نہ پرایا، میں انہیﷺ کا ہوں، وہی میرے ہیں، جن کے حسن و جمال کو خود ربِ کعبہ نے قسمیں کھا کھا کر آراستہ کیا ہو، میں انﷺ کے حسن و جمال پر نہ مر مٹوں تو لعنت ہے مجھ پر اور لعنت ہے ان پر جو ان ﷺ کا نام تو لیتے ہیں لیکن سارقوں (چوروں) کی خیرہ چشمی کا تماشہ دیکھتے ہیں۔

مظفر گڑھ میں شاہ جی کا جلسہ منعقد ہوا ، پنڈال سجا ،آپ آئے ،ساتھ میں اپنا نشان ٹوکہ ساتھ رکھ رکھا تھا ، تقریر کا آغاز کیا مگر پولیس نے دھر لیا ، اک عرصہ بعد جوں رہا ہوئے سیدھا اسی پنڈال پہ پہنچے ویسا ہی جم ِ غفیر تھا ، سٹیج پہ چڑھے ، ٹوکہ لہرایا اور بولے !!

“ہاں تو میں کہہ رہا تھا !!

( یعنی ایسا لا متزلزل شخص کہ جہاں تقریر چھوٹی تو وہیں سے آ کر شروع کی)

لاہور میں ہجوم سے مخاطب ہوئے تو کہنے لگے

“”مسلمین ! ختم نبوت کے عقیدہ کو یوں سمجھو جیسے یہ ایک مرکزِ دائرہ ہے جس کے چاروں طرف توحید، رسالت، قیامت، ملائکہ کا وجود، صحف سماوی کی صداقت، قرآنِ کریم کی حقانیت و ابدیت، عالم قبر و برزخ، یوم النشور یوم الحساب گردش کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ دین نہیں بچے گا، بات سمجھ میں آئی؟ مزید سمجھیے، جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں، اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی حضور رسالت پناہﷺ کے وجودِ مسعود پر ختم ہو جاتا ہے۔ آپ کی نبوت و رسالت وہ مہر درخشاں ہے جس کے طلوع کے بعد اب کسی روشنی کی مطلق ضرورت نہیں رہی، سب روشنیاں اسی نور اعظم ﷺ میں مدغم ہو گئی ہیں جبھی تو مخبر صادق ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر آج موسیٰؑ اس دنیا میں زندہ ہوتے تو انھیں بھی بجز میری اتباع کے چارۂ کار نہ ہوتا اور حضرت عیسیٰؑ جو آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ابوبکر و عمر کی طرح امتی اور خلیفہ کی حیثیت سے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص بھی ختم نبوت کے تخت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہم اس پر قہر الٰہی اور صدیق اکبر کا انتقام بن کر ٹوٹ پڑیں گے۔”

راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہنے لگے :

اللہ بیٹوں کو بھی سلامت رکھے، مگر بیٹی سے مجھے محبت بہت ہے اس نے کئی بار مجھے کہا ابا جی ! اب تو اپنے حال پر رحم کریں، آپ کو چین کیوں نہیں آتا، کیا آپ سفر کے قابل ہیں، چلنے پھرنے کی طاقت آپ میں نہیں رہی، کھانا پینا آپ کا نہیں رہا، یہ آپ کا حال ہے، کیا کر رہے ہیں آپ؟
میں نے کہا:
تم نے میری دُکھتی رَگ پکڑی ہے، میں تمھیں کس طرح سمجھائوں؟ بیٹا! تم بہت خوش ہو گی اگر میں چارپائی پر مروں؟ میں تو چاہتا ہوں کسی کے گلے پڑ کے مروں۔ تم اس بات پہ راضی نہیں کہ میں باہر نکلوں میدان میں، اور یہ کہتا ہوا مر جائوں :

لا نبی بعد محمد ،لا رسول بعد محمد ،لا بعد امت بعد امت محمد !!!

خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل تھے لاہور میں پنڈال سجا ہوا تھا، شاہ جی اک طرحدار ٹوپی پہنا کرتے تھے، سامنے ہو کاعالم تھا ، اک سروں کا سمندر تھا ٹھاٹھیں مارتا ، امابعد ! ایک ہاتھ سے اپنی ٹوپی اتاری ! اور دونوں ہاتھوں میں لے کر مجمے کی طرف لہرائی ، بولے خواجہ ! یہ میری ٹوپی آج تک کسی کے آگے نہیں جھکی ، لے یہ میں ٹوپی تیرے قدموں میں رکھتا ہوں ، میرے سائیں کی عزت بچا لے خواجہ ، میں تیرے کتے نہلاؤں گا خواجہ میرے سائیں ص ! میرے سائیں کی عزت بچا لے خواجہ !!!

1953ء میں فسادات ہوئے تو کہا:

“میں قیامت کے دن حضور خاتم النبییّن ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دست بستہ عرض کروں گا کہ یا رسول اللہ ﷺ !میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے خوش نصیبوں کا مقصد صرف اور صرف آپ ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ تھا، اس طرح 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں شہید ہونے والوں کا مقصد بھی صرف اور صرف آپﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ تھا۔ لہٰذا یا رسول اللہﷺ ! میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ تحریک ختم نبوت 1953ء میں شہید ہونے والوں کو بھی یمامہ کے شہدا کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کریں کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا۔”

پھر کہا :

مجھے امید کامل ہے کہ میرے نانا، میرے پیارے آقا و مولا میری درخواست کو شرف قبولیت ضرور بخشیں گے۔”

لوگوں نے کہا کہ ان کا وبال کس پر ھے جو اس تصادم میں شہید کروا دیے گئے تو کہا مسلیمہ کزاب کے خلاف جنگ میں سات سو حفاظ کرام امیر المومنین نے کیوں شہید کروا دیئے تھے؟

21 اگست 1961ء کو یہ مرد حُر نہ رہا!

تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی
تاریخ کے اوراق میں آئیندہ رہوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب شاتم رسول راجپال نے گستاخانہ کتاب لکھی تو شاہ جی علیہ الرحمہ نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا:

“مسلمانو ! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار نے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انھیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمان مر چکا ہے۔ آئو اپنی زندگی کا ثبوت دو۔

عزیز نوجوانو ! تمھارے دامن کے سارے داغ صاف ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گنبد خضریٰ کے مکین تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کُتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے روز محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کرنے والی زبان نہ رہے یا پھر سننے والے کان نہ رہیں۔”

مشہور ادیب ڈاکٹر سیّد عبداللہ لکھتے ہیں کہ اس روز پانی اور آگ یعنی سرد آہوں اور گرم آنسوئوں کے ملاپ سے ان کی تقریر ڈھل رہی تھی۔ شاہ جیؒ نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

“آج آپ لوگ جناب فخر رسل رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آج اس جلیل القدر ہستی کا وجود معرض خطر میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔ آج کوئی روحانیت کی آنکھ سے دیکھنے والا ہو تو دیکھ سکتا ہے کہ اس دروازے پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور ام المومنین حضرت خدیجہؓ آئیں اور فرمایا کہ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟‘‘ ارے دیکھو ! کہیں ام المومنین عائشہؓ دروازے پر تو نہیں کھڑی ہیں؟

(یہ سن کر مجمع پلٹا کھا گیا۔ مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے) تمہاری محبت کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمھیں معلوم نہیں کہ آج سبز گنبد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتائو تمھارے دلوں میں امہات المومنینؓ کی کیا وقعت ہے؟ آج ام المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہی عائشہؓ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمیرا کہہ کر پکارتے تھے۔ جنھوں نے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ اگر تم خدیجہؓ اور عائشہؓ کے ناموس کی خاطر جانیں دے دو تو کچھ کم فخر کی بات نہیں ہے۔

یاد رکھو ! جس روز یہ موت آئے گی، پیام حیات لے کر آئے گی۔ اگر کچھ پاس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرو۔”

یہ کلمات اہل ایمان بالخصوص غازی علم الدین شہیدؒ کے دل کی دھڑکنوں میں ڈھل گئے۔

تحریک ختم نبوت 1953ء کے دوران ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا:

’’اگر لا نبی بعدی کا مفہوم سلامت نہیں تو ایمان کے جزو کا کروڑواں حصہ بھی نہیں بچے گا۔ جڑ کو گھن لگے تو شاخ اور پتیاں سلامت نہیں رہتیں۔ عقیدے کو درخت سمجھو۔ جب تک جڑ مضبوط نہ ہو، درخت بار آور نہیں ہو سکتا۔ اب وہ ماں مر گئی ہے جو نبی جنا کرتی تھی۔ مشاطہ ازل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زلفوں میں وہ کنگھی ہی توڑ ڈالی جو زلف نبوت سنوارا کرتی تھی۔ اب زمانے کے یہ کنڈل یونہی رہیں گے لیکن کسی کنگھی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آئیے ہمارے ساتھ تعاون کیجئے، ایک دن ہماری بات پورے مسلمانوں کی آواز بن جائے گی، جسے حکومت کو بھی سننا پڑے گا۔ ہمیں اپنے خدا پر پورا یقین اور بھروسہ ہے کہ ہم بھی حالات بدل کر دکھا دیں گے۔ ایک وقت آئے گا کہ جو کچھ آج ہماری زبان پر ہے، پورے مسلمانوں کے دل کی آواز اور دھڑکن ہوگا۔ بس میری مانو ! حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے بن جائو۔ اس معاملے میں عقل کو جواب دے دو کہ یہ عقل کا نہیں، عشق کا معاملہ ہے۔ صحابۂ کرامؓ بھی صحیح معنوں میں دیوانگان محمدصلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تبھی پوری دنیا پر چھا گئے۔”

“مسلمانو ! ختم نبوت کے عقیدہ کو یوں سمجھو جیسے یہ ایک مرکزِ دائرہ ہے جس کے چاروں طرف توحید، رسالت، قیامت، ملائکہ کا وجود، صحف سماوی کی صداقت، قرآنِ کریم کی حقانیت و ابدیت، عالم قبر و برزخ، یوم النشور یوم الحساب گردش کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ دین نہیں بچے گا، بات سمجھ میں آئی؟ مزید سمجھیے، جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں، اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی حضور رسالت پناہصلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ مسعود پر ختم ہو جاتا ہے۔ آپ کی نبوت و رسالت وہ مہر درخشاں ہے جس کے طلوع کے بعد اب کسی روشنی کی مطلق ضرورت نہیں رہی، سب روشنیاں اسی نور اعظم صلی اللہ علیہ وسلم میں مدغم ہو گئی ہیں جبھی تو مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر آج موسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں زندہ ہوتے تو انھیں بھی بجز میری اتباع کے چارۂ کار نہ ہوتا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ابوبکرؓ و عمرؓ کی طرح امتی اور خلیفہ کی حیثیت سے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص بھی ختم نبوت کے تخت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہم اس پر قہر الٰہی اور صدیق اکبرؓ کا انتقام بن کر ٹوٹ پڑیں گے۔”

“ساری باتوں کو چھوڑیے، لاہور والو ! کوئی ہے !” اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اتار لی اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا، ’’جائو میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جائو۔ میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی، اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو۔ اس سے کہو، ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں، ہم الیکشن نہیں لڑیں گے، تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ہاں جائو اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں کوئی سؤر ہیں تو عطاء اللہ شاہ بخاری تیرے سؤروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لیے بھی تیار ہے مگر شرط صرف یہ ہے کہ رسول اللہ فداہ ابی و امی کی ختم رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا قانون بنا دے۔ کوئی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دستارِ ختم نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔”

شاہ جی بول رہے تھے اور مجمع بے قابو ہو رہا تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ چشم فلک نے اس جیسا سماں بھی کم دیکھا ہوگا۔ عوام و خواص سب رو رہے تھے۔ شاہ جی پر خاص وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔

ہم نے ہر دور میں تقدیسِ رسالت کے لیے
وقت کی تیز ہوائوں سے بغاوت کی ہے

توڑ کر سلسلہ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمد (ص) سے محبت کی ہے

ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے

مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو بھی ضیا بخشی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” دنیا میں چار قیمتی چیزیں محبت کے قابل ہیں: مال، جان، آبرو اور ایمان۔

لیکن !!!

جب جان پر کوئی مصیبت آئے تو مال قربان کرنا چاہیے اور آبرو پر کوئی آفت آئے تو مال اور جان دونوں کو۔ اور اگر ایمان پر کوئی ابتلا آئے تو مال، جان، آبرو سب کو قربان کرنا چاہیے اور اگر ان سب کے قربان کرنے سے ایمان محفوظ رہتا ہے تو یہ سودا سستا ہے۔ ”

ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

“میں مرزائیوں کو دعوت فکر دیتا ہوں، وہ غور کریں اور اپنے مدعی نبوت اور اس کے خاندان کی فرنگی نوازی دیکھیں کہ یہ انگریز کا درباری نبی کس طرح ہندوستان میں انگریز افسروں کے دربار میں اپنی اور اپنے باپ دادا کی خدمات کے حوالے سے اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے لجاجت، منت و سماجت اور سراپا حاجت بن کر یقین دہانیاں کرتا ہے۔ ظالم تم نے اگر نبوت کا دعویٰ کر ہی لیا تھا اور تم اپنے تئیں نبی بن ہی بیٹھے تھے تو کم از کم اس کے نام و منصب کا وقار ہی قائم رکھا ہوتا اور فرنگی کی چوکھٹ پر جبہ سائی نہ کرتے۔ اپنی جبین نیاز کو عدو اللہ فرنگی کی خاکِ نجس سے آلودہ نہ کرتے !

’’اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا‘‘

تجھ سے تو سابق کذاب و دجال مدعیان نبوت ہی بہتر تھے جنھوں نے دعوائے نبوت کے بعد مسلمان بادشاہوں کے درباروں کی راہ تک نہ دیکھی۔ ان کا بھی ایک وقار تھا مگر تجھ سا بے حمیت خطۂ ارضی پر کوئی دوسرا نہیں۔”

“تصویر کا ایک رخ تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے، اس کے نقوش میں توازن نہ تھا۔ قد و قامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کردار کی موت تھا۔ جھوٹ اس کا شیوہ تھا۔ معاملات کا درست نہ تھا۔ بات کا پکا نہ تھا۔ بزدل اور کمزور تھا۔ مسلک کا ٹوڈی تھا۔ تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری نہ بھی ہوتی۔ وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، قویٰ میں تناسب ہوتا، چھاتی 45 انچ ہوتی، کمر ایسی کہ سی آئی کو بھی پتہ نہ چلتا، بہادر بھی ہوتا، مرد میدان ہوتا، کردار کا آفتاب ہوتا، خاندان کا مہتاب ہوتا، شاعری میں فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اور فیضی اس کا پانی بھرتے، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپئر ہوتا اور اردو کا ابوالکلام ہوتا، پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟؟؟

میں تو کہتا ہوں کہ خواجہ غریب نواز اجمیریؒ، شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام بخاریؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، ابن تیمیہ، امام غزالی ؒ یا حسن بصریؒ بھی نبوت کا دعویٰ کرتے تو کیا ہم انھیں نبی مان لیتے؟ اگر علیؓ دعویٰ کرتے کہ جسے تلوار حق نے اور بیٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروق اعظمؓ اور سیدنا عثمان غنی ؓ بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انھیں نبی مان لیتا؟ ہرگز نہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج امامت و رسالت جس کے سر پر ناز کر سکے، وہ ایک ہی ہے جس کے دم قدم سے کائنات میں نبوت سرفراز ہوئی۔”

“آج مسیلمہ کذاب کے مقابلہ میں روحِ صدیقؓ پیدا کرو۔ آج محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہو جائو۔ آج محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر کمینے اور ذلیل قسم کے انسان حملہ آور ہیں۔ یاد رکھو ! محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے تو خدا ہے، محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے تو قرآن ہے، محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے تو دین ہے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بے حرمتی کرنے والی کسی تحریر کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم یقینا ہر اس اخبار کو جلائیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرے گا۔ ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر دشمن، ہمارا بدترین دشمن ہے۔ میری گردن تو آج بھی تحفظ ناموسِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر پھانسی لگنے کو تڑپتی ہے۔ میں تمام مسلمانوں سے مخاطب ہوں کہ تم حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کرو تو میں تمھارے کتے بھی پالنے کو تیار ہوں اور اگر تم نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کی تو پھر میں تمہارا باغی ہوں۔ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوں۔”

“میری بیٹی میرے ظاہری اسباب میں سے، میری حیات کا باعث ہے۔ اللہ بیٹوں کو بھی سلامت رکھے، مگر بیٹی سے مجھے محبت بہت ہے۔

اس نے کئی بار مجھے کہا:

ابا جی! اب تو اپنے حال پر رحم کریں، آپ کو چین کیوں نہیں آتا، کیا آپ سفر کے قابل ہیں، چلنے پھرنے کی طاقت آپ میں نہیں رہی، کھانا پینا آپ کا نہیں رہا، یہ آپ کا حال ہے، کیا کر رہے ہیں آپ؟ میں نے کہا:

تم نے میری دُکھتی رَگ پکڑی ہے، میں تمھیں کس طرح سمجھائوں؟ بیٹا ! تم بہت خوش ہوگی اگر میں چارپائی پر مروں؟ میں تو چاہتا ہوں کسی کے گلے پڑ کے مروں۔ تم اس بات پہ راضی نہیں کہ میں باہر نکلوں میدان میں، اور یہ کہتا ہوا مر جائوں :

لَا نَبِیَّ بَعْدَ مُحَمَّد، لَا رَسُوْلَ بَعْدَ مُحَمَّد، لَا اُمَّۃَ بَعْدَ اُمَّۃِ مُحَمَّد (صلی اللّٰہ علیہ وسلم)

بیٹا! دعا کرو۔

عقیدۂ ختم نبوت بیان کرتے ہوئے اور کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے مجھے موت آ جائے۔

لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ وَلَا رَسُوْلَ بَعْدَہٗ۔‘‘

(راولپنڈی میں جلسۂ عام سے خطاب، 1956)

“آخر ہوا ہی کیا ہے؟ یہی کہ تمہاری اماں اور بہن کے سامنے پولیس والوں نے بد زبانی کی اور گالیاں بکیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اس سے بھی زیادہ بدسلوکی ہوتی تو ہماری سعادت ہوتی۔ اگر تمہاری اماں اور بہن کو سڑک پر گھسیٹ کر لاتے اور ان کو مارتے تو میں سمجھتا کہ تحفظ ختم نبوت کا کچھ حق ادا ہوا۔ اللہ کے دین کے کاموں میں سختیاں اور امتحانات نہ آئیں اور مار نہ پڑے، یہ ہو نہیں سکتا۔ دین کا کام کرو گے تو مار بھی پڑے گی۔ اس کے لیے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھو۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رئوف و رحیم ہستی کو دین کے نام پر کتنی تکالیف اٹھانی پڑیں۔ جانتے نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو زخمی کیا گیا اور اسی زخم سے وہ شہید ہوئیں۔ ہماری کیا حیثیت ہے؟ اس لیے صبر کرو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس حقیر سی قربانی کو قبول فرمائے۔”

(سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ کی اپنے بڑے بیٹے سید ابوذر بخاریؒ کو فہمائش، 1953)

تحریک ختم نبوت 1953ء کی اندوہناک پسپائی سے لوگوں میں مایوسی کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ کئی لوگ ان شہدا کے متعلق جو اس تحریک ناموسِ ختم نبوت پر قربان ہو چکے تھے، یہ سوال کرتے کہ ان کے خون کا ذمہ دار کون ہے؟ شاہ جی نے لاہور کے ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جواب دیا:

“جو لوگ تحریک ختم نبوت میں جہاں تہاں شہید ہوئے، ان کے خون کا جواب دہ میں ہوں، وہ عشقِ رسالت میں مارے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں جذبۂ شہادت میں نے پھونکا تھا۔ جو لوگ ان کے خون سے اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترا رہے ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ میں حشر کے دن بھی ان کے خون کا ذمہ دار ہوں گا۔ وہ عشقِ نبوت میں اسلامی سلطنت کے ہلاکو خانوں کی بھینٹ چڑھ گئے، لیکن ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی سات سو حفاظِ قرآن اسی مسئلہ کی خاطر شہید کروا دیے تھے۔”

شاہ جی نے مزید فرمایا:

“میں قیامت کے دن حضور خاتم النبییّن صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دست بستہ عرض کروں گا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے خوش نصیبوں کا مقصد صرف اور صرف آپصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تحفظ تھا، اس طرح 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں شہید ہونے والوں کا مقصد بھی صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تحفظ تھا۔ لہٰذا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ تحریک ختم نبوت 1953ء میں شہید ہونے والوں کو بھی یمامہ کے شہدا کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑا کریں کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا۔”
پھر شاہ جی نے فرمایا:
مجھے امید کامل ہے کہ میرے نانا، میرے پیارے آقا و مولا میری درخواست کو شرف قبولیت ضرور بخشیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید محمد کفیل شاہ بخاری ’’معرکہ حق و باطل‘‘ کے نام سے حضرت امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور جسٹس منیر کا ایک دلچسپ اور ایمان افروز مکالمہ بیان کرتے ہیں:

“1953ء کی تحریک ختم نبوت، اپنے شباب پر پہنچ کر مائل بہ اختتام تھی۔ تحریک کی قیادت اور ہزاروں کارکن جیلوں میں بند تھے۔ ’’عدالتی تحقیقات‘‘ کے لیے جسٹس منیر اور ایم آر کیانی پر مشتمل کمیشن (لاہور ہائی کورٹ) سماعت کر رہا تھا۔ جسٹس منیر متعصب قادیانی نواز تھا۔ وہ علما کو کمرۂ عدالت میں بلا بلا کر بے عزت کر رہا تھا۔ تحریک ختم نبوت کو ’’احرار، احمدی نزاع‘‘ اور ’’فسادات پنجاب‘‘ کا نام دیتا تھا۔ اسلام کو موضوع بحث بنا کر علما کا مذاق اڑا رہا تھا، اور اپنے قادیانی آقائوں اور محسنوں کو خوش کر رہا تھا۔

لیکن ایک دن وہ اپنی ہی عدالت میں پکڑا گیا۔ اس نے قائد تحریک تحفظ ختم نبوت، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری (علیہ الرحمتہ) کو عدالت میں طلب کر لیا۔

حکومت نے بیان داخل کرنے کے لیے امیر شریعتؒ کو سکھر جیل سے لاہور سنٹرل جیل منتقل کر دیا۔ پیشی کی تاریخ پر امیر شریعتؒ اور ان کے قیدی رفقا کو سخت پہرے میں عدالت میں لایا گیا۔

عدالتی ہر کارے نے آواز لگائی:
سرکار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری وغیرہ وغیرہ

اب، اسیر ختم نبوت امیر شریعت، پورے قلندرانہ جاہ و جلال اور ایمانی جرأت و وقار کے ساتھ کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے۔

سرفروشانِ احرار نے پورے ہائی کورٹ کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔

عدالت کے دروازے پر ہزاروں فدائین ختم نبوت اور شمع ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے نعرہ زن تھے۔

نعرۂ تکبیر !! اللہ اکبر
تاج و تختِ ختم نبوت زندہ باد
مرزائیت مردہ باد

امیر شریعتؒ نے عدالت کے دروازے پر کھڑے ہو کر ہتھکڑیاں فضا میں لہرائیں اور ہاتھ سے اشارہ کیا۔

مجمع وارفتگی سے پوچھ رہا تھا:

کہیے کیا حکم ہے؟ دیوانہ بنوں یا نہ بنوں؟

حکم ہوا ! خاموش !

تمام مجمع ساکت و جامد !

امیر شریعتؒ عدالت میں داخل ہو گئے۔

جسٹس منیر بغض و حسد سے بھرا ہوا، غصے سے لال پیلا، گردن تنی ہوئی اور تکبر و غرور کا پیکر ناہنجار بنا کرسی پر بیٹھا تھا۔

مردِ مومن کے چہرۂ انور پر نگاہ پڑی تو اس کی آنکھیں جھک گئیں۔

جسٹس منیر دوسری مرتبہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ کر سکا۔

کارروائی شروع ہوئی۔

امیر شریعتؒ نے اپنا تحریری بیان عدالت میں پیش کیا۔ جسٹس منیر نے ایک نظر بیان کو دیکھا (جسے اس نے ’’منیر انکوائری رپورٹ‘‘ میں شامل نہیں کیا) اور پھر اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں سوالات کا آغاز کر دیا۔

جسٹس منیر: ہندوستان میں اس وقت کتنے مسلمان ہیں؟

امیر شریعتؒ: سوال غیر متعلق ہے، مجھ سے پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں پوچھیں۔

جسٹس منیر: (تمسخر آمیز لہجے میں) ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟

امیر شریعتؒ: ہندوستان میں علما موجود ہیں، وہ بتائیں گے۔

جسٹس منیر: (طنز کرتے ہوئے) آپ بتا دیں؟

امیر شریعتؒ: پاکستان کے بارے میں پوچھیں، یہاں کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟

جسٹس منیر: مسلمان کی تعریف کیا ہے؟

امیر شریعتؒ: اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان کہلانے کے لیے صرف کلمہ شہادت کا اقرار و اعلان ہی کافی ہے۔ لیکن اسلام سے خارج ہونے کے ہزاروں روزن ہیں۔ ضروریاتِ دین میں کسی ایک کا انکار کفر کے ماسوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے کسی ایک کو بھی انسانوں میں مانا تو مشرک، قرآن کریم کی کسی ایک آیت یا جملہ کا انکار کیا تو کافر، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ختم نبوت کے بعد کسی انسان کو کسی بھی حیثیت میں نبی مانا تو مرتد۔

جسٹس منیر: (قادیانی وکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟

امیر شریعتؒ: خیال نہیں عقیدہ۔ جو ان کے بڑوں کے بارے میں ہے۔

مرزائی وکیل: نبی کی تعریف کیا ہے؟

امیر شریعتؒ: میرے نزدیک اسے کم از کم ایک شریف آدمی ہونا چاہیے۔

جسٹس منیر: (بدتمیزی کے انداز میں) آپ نے مرزا قادیانی کو کافر کہا ہے؟

امیر شریعتؒ: میں اس سوال کا آرزو مند تھا۔ کوئی بیس برس ادھر کی بات ہے، یہی عدالت تھی جہاں آپ بیٹھے ہیں، یہاں چیف جسٹس، مسٹر جسٹس ڈگلس ینگ تھے۔ اور جہاں مسٹر کیانی بیٹھے ہیں، یہاں رائے بہادر جسٹس رام لال تھے۔ یہی سوال انھوں نے مجھ سے پوچھا تھا۔ وہی جواب آج دہراتا ہوں۔ میں نے ایک بار نہیں ہزاروں مرتبہ، مرزا کو کافر کہا ہے، کافر کہتا ہوں اور جب تک زندہ ہوں گا کافر کہتا رہوں گا۔ یہ میرا ایمان اور عقیدہ ہے اور اسی پر مرنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کافر و مرتد ہے۔ مسیلمہ کذاب اور ایسے ہی دیگر جھوٹوں کو دعویٰ نبوت کے جرم میں قتل کیا گیا۔

جسٹس منیر: (غصے سے بے قابو ہو کر، دانت پیستے ہوئے) اگر غلام احمد قادیانی آپ کے سامنے یہ دعویٰ کرتا تو آپ اسے قتل کر دیتے؟

امیر شریعتؒ: میرے سامنے اب کوئی دعویٰ کر کے دیکھ لے !

حاضرین عدالت: نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد !!

کمرۂ عدالت لرز گیا۔

جسٹس منیر: (بوکھلا کر) توہین عدالت !

امیر شریعتؒ: (جلال میں آ کر) توہین رسالت !

جسٹس منیر دم بخود، خاموش، مبہوت، حواس باختہ، چہرہ زرد، ہوش عنقا !
پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگا۔

’’عدالت‘‘ امیر شریعت کی جرأت ایمانی اور جذبۂ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر سکتے میں آ چکی تھی۔

امیر شریعتؒ: (گرج دار آواز میں) کچھ اور ؟

جسٹس منیر: (پریشانی میں بڑبڑاتے ہوئے) میرا خیال ہے ہمیں مزید کچھ بھی نہیں پوچھنا ! عدالت برخواست ہو جاتی ہے”۔

؎ وہ صداقت جس کی بیباکی تھی حسرت آفریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و انتخاب و پیشکش : نیرہ نور خالد



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر