تحریر: نذیر ڈھوکی
فارسی زبان میں محاورہ ہے
” شرم چہ سگ است کہ پیش ماباآید ” یعنی شرم کوئی کتا ہے جو میرے پیچھے آئے گا۔ یہ محاورہ عمران خان پر سو فیصد صادق آتا ہے حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اگر ایک مہینہ مزید اقتدار میں رہتے تو ملک ڈیفالٹ ہو جاتا ۔ اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان نے دعوٰی تو یہ کیا تھا کہ وہ صبح کو وزیراعظم کا حلف لینگے اس رات تک قومی خزانے میں دو سو ارب ڈالر آ جائیں گے، نیازی صاحب نے قوم سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ خودکشی کروں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا، مگر عملی طور کیا کیا آئی ایم ایف سے ایسے معاہدے کردیئے جس کی پاکستان میں سکت
نہیں تھی ۔ عمران نیازی نے خود تو
خودکشی نہیں کی مگر معاہدوں کے
ذریعے ملک اور عوام کے گلے میں پھندہ ضرور ڈال دیا تھا، ایک بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ عمران نیازی نے وہ معاہدے بطور ریاست کے سربراہ کے طور کیئے تھے ناکہ عمران نیازی والد اکرام اللہ نیازی سکنہ میانوالی کیئے تھے ۔ مجھے حیرت ان کے حامیوں پر ہوتی ہے جو شعور سے کئی میل دور کھڑے ہیں ،قصور ان کا بھی نہیں ہے کیونکہ ریاست روز اول سے سیاستدانوں سے نفرت کا زہر لوگوں کے ذہنوں میں انڈیلی رہی ہے ۔ میں یہ فیصلہ کرنے کا اختیار باشعور خلق خدا کی عدالت کے سپرد کرتا ہوں جو بہترین منصف ہیں وہ انصاف کریں جمہوریت سے نفرت کرنے والوں کی دشمنی محترمہ بینظیر بھٹو شہید سے تھی یا پاکستان سے جو انتہائی توہین آمیز سلوک کے باوجود وفاق کی زنجیر بنی رہیں کیونکہ موجودہ ملک کے تعمیر کندہ ان کے عظیم والد تھے ۔
حق بات یہ بھی ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے دو بار اس ملک کو نئی زندگی دی ہے پہلی بار محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی شہادت کے بعد اور دوسری بار جمہوری انداز سے عمران نیازی کو اقتدار سے نکالنے پر کیونکہ اگر لاڈلا مزید اقتدار میں رہتا تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا پھر کیا ہوتا ؟ نہ کوئی طیارہ پاکستان آتا اور نہ ہی پاکستان کا کوئی طیارہ کسی دوسرے ملک پرواز کرتا۔ ڈالر پانچ سو روپے ہو جاتا ، عمران نیازی کے دور میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنایا تو ہم نے کوئی مزاحمت کی ؟ بھارتی پائلٹ جو ہمارے ملک
کی سرحد پامال کرنے کا مجرم تھا کو کسی ملک کے سربراہ جیسا وی وی آئی پی پروٹوکول دیکر بھارت واپس روانہ کیا گیا۔ مجھے نہیں نہیں معلوم کہ اس بار عمران خان
کو آزادی کے نام پر کون سا جھانسا دے رہا ہے ۔ سندھی زبان میں محاورہ ہے کہ لاڈلا بچہ یا چریا یا ۔۔۔۔ ؟ اس محاورہ کے معنی کسی سندھی زبان بولنے والے سے پوچھی جا سکتی ہے مجھ میں یہ حوصلہ نہیں کہ محاورہ کا مکمل ترجمہ کروں۔ مگر صاحب لاڈلا تا حال لاڈلا ہے ، غیر ملکی اور ممنوعہ فنڈنگ نے
ان کی زبان بے قابو کردی ہے اور اس
کا ڈومیسائل بھی طاقتور ہے ۔ کاش سندھ کے ایک سینیٹر کے ساتھ بھی
ایسا ہی انصاف کیا جاتا مگر وہ میڈیا کا ڈارلنگ نہیں تھا کیونکہ ان
کے پاس غیرملکی ممنوعہ فنڈنگ کی طاقت بھی نہیں تھی ۔



