عابد حسین قریشی
عدل بیتی پر مختلف دانشوروں، شعبہ صحافت اور ادب کی نامور شخصیات اور بے شمار وکلاء اور جج صاحبان کے نہایت فصیح و بلیغ، پُر اثر اور دلکش تبصرے آئے۔ یہ Reviews اتنے زیادہ اور بھرپور ہیں کہ یہ الگ کتاب کی اشاعت کے متقاضی ہیں۔
میں شکر گزار ہوں ایک دانشور اور اچھی انتظامی و عدالتی شہرت کے حامل جج محمّد ذوالفقار لون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ننکانہ صاحب کا جنہوں نے 3 جون 2022 کو سیشن ہاؤس ننکانہ صاحب کے خوبصورت لان میں دلکش چاندنی رات میں عدل بیتی پر ایک تنقیدی جائزہ کے نام سے ایک اتنی بھرپور تقریب کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں ذولفقار لون، چھوٹی بہنوں کی طرح عزیز اور بڑی دوریش منش سیشن جج شیخوپورہ میڈم شاہدہ سعید، سیشن جج سردار طاہر صابر، جاوید وڑائچ، الفاظ اور تخیّل کا جادوگر محسن کموکہ ایڈیشنل سیشن جج اور سول ججز احمد مجتبٰی نور اور میڈم ہما الطاف نے اپنی خوبصورت اور سیر حاصل تقاریر اور تبصرے کیے۔ جن میں اس قدر بھرپور ادبی چاشنی اور مصنّف عدل بیتی کے لیے بھرپور عقیدت و محبت جھلک رہی تھی کہ بیان سے باہر۔
اس تمام ستائش و توصیف کے باوجود من آنم کہ من دانم کے مصداق میں ابھی بھی اپنے آپ کو لکھاری ماننے سے گریزاں ہوں۔ اللہ تعالٰی مجھے ہر طرح کی بوئے نخوت اور خود پسندی سے بچائے رکھے کہ عجز و انکسار ہی جبینِ آدمیت کی شناخت اور پہچان ہے۔ یہ سب خدائے بزرگ و برتر کی عنایات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی ذاتِ اقدس کے بے پایاں جود و کرم کا ثمر ہے کہ عہدِ حاضر کے کئی بڑے صحافتی، ادبی اور دانشور حلقوں نے عدل بیتی کی اتنی بھرپور پذیرائی کی کہ جو مصنّف کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ خصوصاً ممتاز اینکر سینئر صحافی اور دانشور جناب مجیب الرحمٰن شامی اور عہد حاضر کے منفرد motivational speaker سیّد قاسم علی شاہ کی خوبصورت آراء اب عدل بیتی کے سیکنڈ ایڈیشن کا باقاعدہ حصّہ ہیں۔ ان کے علاوہ درویش منش ریٹائرڈ جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل، معروف اینکر حبیب اکرم، ایک منفرد اور با کمال صلاحیتوں کے مالک انتہائی دلکش سیرت نگار تفاخر محمود گوندل، زمانہ طالب علمی کے بڑے ہی اعلٰی ادبی ذوق کے حامل استاد جن سے تقریر و تحریر کا فن سیکھا محترم نذیر آسی صاحب، ممتاز کالم نگار اور دانشور آصف بھلی ایڈووکیٹ، معروف پبلشر اور دانشور علامہ عبد الستار عاصم, ایک دانشور قانون دان محمّد انور سمّاں ایڈووکیٹ، معروف شاعر اور کالم نگار طارق حسین بٹ، نامور شاعر اور پبلشر خالد شریف اور دیگر کئی زعما و اکابرین شامل ہیں جنہوں نے دل کھول کر عدل بیتی کی ستائش اور مصنّف کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کے علاوہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں کے ایک سو سے زائد سیشن ججز ، ایڈیشنل سیشن ججز ، سول ججز ، وکلاء اور اہلِ فکر و دانش نے اس قدر پُر مغز اور دلپذیر تجزیے لکھے کہ ان سب کا نام الگ الگ لکھنا ممکن نہ ہے اور یہ سب تجزیے ایک الگ کتاب کے متقاضی ہیں۔ مگر یہ سب تبصرے اور تجزیے میرے لیے قیمتی اثاثہ ہیں اور میں ان سب دوستوں اور بہی خواہوں کا شکر گزار ہوں۔
مصنّف اپنی خوش بختی پر بجا طور پر نازاں ہے کہ پاکستان کی عدلیہ کا ایک قابلِ فخر نام اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے دلوں کی دھڑکن قابلِ صد احترام سپریم کورٹ کے جسٹس سیّد منصور علی شاہ صاحب نے نہ صرف ایک پُر مغز Review عدل بیتی پر لکھا جو نئے ایڈیشن کے بیک پیج پر جگمگا رہا ہے بلکہ اُن کی وساطت سے عدل بیتی سپریم کورٹ اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی لائبریریوں کی زینت ہے اور اب چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر کے جج صاحبان اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی طرح پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ،لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایسشن اور جم خانہ کلب کی لائبریریاں بھی عدل بیتی سے مزیّن ہیں۔ یہ بات مصنّف کے لیے باعثِ فخر و انبساط ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس صاحب سمیت کئی دیگر فاضل جج صاحبان اور کئی ایک ریٹائرڈ فاضل جج صاحبان عدالت عالیہ اور عدالت عظمٰی نے عدل بیتی پڑھ کر نہایت فراخ دلانہ انداز میں اس کی ستائش کی۔
آخر میں اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے ہوئے قدرے جذباتی انداز میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ کہ ساری عزّتیں میرے اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عدل بیتی کی اشاعت کے بعد اس خاکسار کو جو عزت اور پذیرائی ملی بقول سیّد محبوب قادر شاہ اس کے سامنے میری Elevation کی شاید اتنی اہمیت نہ تھی کہ قدرت نے میرے ہاتھوں وہ کام مکمل کروایا جسکا میں شاید سروس میں رہ کر وہم و گمان بھی نہ کر سکتا تھا۔ خصوصاً عدلیہ میں نوجوان ججز جن میں سے بہت سوں کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا اُنہوں نے جس بھرپور انداز میں اس کتاب کی پذیرائی کی اُسکا سحر میرے دل و دماغ پر مدتوں برقرار رہے گا۔
ایک سال سے بھی کم مدت میں عدل بیتی کا دوسرا ایڈیشن شائع ہونا مصنّف کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ بعد از ریٹائرمنٹ کچھ لکھنے لکھانے کا کام شروع کیا جس میں عدل بیتی منظرِ عام پر آ چکی ہے اور ایک دیگر کتاب زیرِ تدوین ہے۔ وکالت کو میں نے ایک عمدہ اور باوقار پیشہ پایا۔ ساتھ جوڈیشل اکیڈمی اور دیگر اداروں میں لیکچرز کا سلسلہ جاری رہا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ سروس سے زیادہ بعد از ریٹائرمنٹ لائف کو انجوائے کیا۔ نہ کوئی خلش، نہ کوئی جلن، نہ اضطراب اللہ تعالٰی کی ذات پر بھروسہ، توکل اور قناعت زندگی کے کئی نئے معنی اور پنہاں راز کھول گیا۔ اس مرحلہ پر یہ بھی ادراک ہوا کہ زندگی صرف لینے اور کچھ حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ زندگی میں ایک ایسا مرحلہ بھی آتا ہے کہ جب آپ اُن نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جو اللہ تعالٰی نے آپ کو عطا کیں واپس اُس کی مخلوق کی خدمت میں لٹاتے ہو۔ یہی زندگی ہے۔ اور یہی حاصلِ زندگی۔ عدل بیتی کے دوسرے ایڈیشن سے یہی جذبہ جھلکتا ہے۔



