عابد حسین قریشی
ملکی تاریخ میں حالیہ بد ترین سیلاب، اسکے نقصانات، اسکی وجوہات اور اثرات پر کچھ لکھنا شاید اتنا آسان نہیں ہے۔ گذشتہ دو تین ہفتوں سے ان آنکھوں نے وہ درد ناک مناظر دیکھے ہیں کہ انسانی بے بسی ایک المیہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سیلابی پانی کے ریلے انسانی بستیوں کو روندتے ہوئے صفحہ ہستی سے مٹاتے ہوئے بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ لا تعداد مال مویشی،فصلات، باغات کی ہولناک تباہی کا ایسا خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں کہ کم از کم گذشتہ ساٹھ سال کی تاریخ میں ہم نے اتنے وسیع پیمانے پر اس وطنِ عزیز میں ایسی تباہی و بربادی نہ دیکھی نہ سُنی۔ سڑکوں، پلوں، نظامِ مواصلات اور ترسیلات کا اتنا بڑا نقصان ہوا ہے کہ یہ انفراسٹرکچر دوبارہ تعمیر کرنے میں شاید دہائیاں گزر جائیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے یہ روح فرسا مناظر دل و دماغ اور قلب و نظر پر غم و اندوہ کے وہ انمٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں کہ مستقلاً دل گرفتگی کا عالم ہے۔ میڈیا پر جونہی اس ہولناک انسانی تباہی کے مناظر نظروں کے سامنے آتے ہیں اور سیلابی پانی میں بے بس و لاچار لوگوں کی آہ و بکا ایک عجب افسردگی و درماندگی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ چند روز قبل تک ہنستی بستی انسانی زندگی موت کے ایسے بے رحم جھونکے کی زد میں آ ئی کہ چراغ زیست کو ہمیشہ کے لیے بجھا گئی۔ انسانی زندگی کی رونقوں اور دل فریبیوں سے بھرپور لمحات غم و اندوہ اور بے بسی اور بے چارگی میں ڈوب گئے۔ اور بقول علامہ اقبال
کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گُلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موت
زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں
کیسی کیسی دُخترانِ مادرِ ایّام ہیں
بلاشبہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات دنیا کے دیگر ممالک میں بھی آتے ہیں اور ان سے انسانی زندگی اور املاک کا نقصان بھی ہوتا ہے۔مگر پاکستان میں سیلاب آنے کی وجوہات بالکل مختلف ہیں۔ مناسب ہو گا کہ موقع کی مناسبت سے ان وجوہات، انکے اثرات، ہماری قومی کوتاہیوں اور ممکن سدّباب کا ذکر مختصراً کر دیا جائے۔
نظامِ کائنات کی تخلیق چونکہ خدائے بزرگ و برتر کی عطا کردہ ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی نقص، کوئی عیب، کوئی رخنہ، کوئی شگاف، کوئی کجی، کوئی ٹیڑھ یا ترتیب و تناسق میں کوئی کوتاہی نظر میں نہیں آئے گی۔ لہٰذا اس نظام حیات میں جو بھی خرابیاں نظر آئیں گی وہ حضرتِ انسان کی خود ساختہ حرص و لالچ پر مبنی، انسانی فطرت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فطری چیزوں کے بہاؤ میں رکاوٹ یا عدم منصوبہ بندی کی وجہ سے ہی ہو سکتی ہیں۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے اندر تجاوزات کرنا، تعمیرات کرنا بلکہ گھر اور ہوٹل بنا لینا ان آبی گزرگاہوں کو تنگ کرنا ،انکا فطری بہاؤ روکنا اور اُسکے نتیجہ میں ان دریاؤں اور ندی نالوں کا پانی انسانی بستیوں کی طرف مڑنا اور تباہی کا سبب بننا کیا قدرت اور فطرت کے ذمہ ہے؟ بلکہ یہ تو سیدھا سادہ لالچ، حرص و طمع کا کھیل ہے۔ جس میں نہ صرف یہ تجاوازات کرنے والے بلکہ حکومتی ادارے بھی ہوری طرح ملوّث ہوتے ہیں۔ مگر حسب سابق ذمہ داری کا تعیّن نہ ہوا ہے اور نہ ہو سکے گا۔ بدقسمتی سے ہم اپنی نا اہلیوں، کوتاہیوں، لغزشوں، بد دیانتی اور بد انتظامی کو بھی قدرت کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی اسے گناہ و عذاب کے نکتہ نظر سے بھی دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حکومت نے وقتاً فوقتاً ان سیلابوں کی تباہ کاریوں کی وجوہات اور ان کے سدّباب کے لیے کئی کمیشن بنائے۔مگر ہمارا یہ شاید قومی المیہ ہے کہ ہم اس طرح کی رپورٹس پر عمل کرنا تو کجا انہیں غور سے پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ہم بڑی باوقار قوم ہیں مگر شاید زمانہ کی رفتار سے بہت پیچھے ہیں۔ ہم اپنے قومی سود و زیاں کا بھی اتنا ادراک نہیں رکھتے۔ آج کروڑوں گیلن یا کیوسک پانی پورے پاکستان میں تباہی مچاتا ہوا بحرہ عرب میں گر رہا ہے۔ اس طویل زمینی اور آبی راستوں میں ہم کوئی ڈھنگ کا ڈیم یا پانی سٹور اور محفوظ کرنے کا کوئی ذخیرہ بھی نہ بنا سکے۔ ہم بھی دنیا کی ایک عجیب قوم ہیں جو سارا سال خشک سالی اور پانی کی کمیابی کا رونا روتی ہے اور برسات کے دنوں میں کئی ٹریلین کیوسک پانی ضائع کر دیتی ہے۔ کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے اور موقع پر مشنری وغیرہ اکٹھا کرنے ہر ہم نے اربوں روپے خرچ کر دیے اور پھر اس عظیم قومی منصوبہ کو سیاست کی گندی اور گھٹیا چالبازیوں کی نذر کر دیا۔ اس قومی منصوبہ کو ایک قومی یکجہتی کی نظر سے دیکھنے کی بجائے اسے ہم نے خالصتاً صوبہ پنجاب کا منصوبہ بنا کر پورے ملک میں علاقائی تعصب کے اتنے گہرے نقوش مرتب کر دیے ہیں کہ اب کالا باغ ڈیم ملکی مقدّرسنوارنے کا ایک بامقصد اور عمدہ منصوبہ بننے کی بجائے ملکی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی علامت کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ اس میں ملکی اور غیر ملکی سازشیں اور ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی اور کوتاہ نظری، کم فہمی سب کچھ شامل ہے۔ ہمارے خیال میں حالیہ سیلاب کی تباہی دیکھ کر اب صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ سے بھی یہ آواز اُٹھنی چاہیے کہ جب تک دریائے سندھ پر کسی بھی جگہ ایک بڑا ڈیم تعمیر نہیں ہو گا، پانی کے ریلے نہیں رک سکیں گے اور یہ تباہی کے مناظر ہمیں اسی طرح مضطرب و پریشان رکھیں گے۔ اگر کالا باغ ڈیم کے نام یا محل و وقوع پر اعتراض ہے تو اسکا نام پاکستان ڈیم یا جناح ڈیم رکھ کر اسکی ڈرائنگ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ بنا کر اس پر قومی اتفاق رائے کی کوشش کر لی جائے شاید حالیہ تباہی دلوں کو نرم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو۔
اس طرح بڑے دریاؤں کے ساتھ چھوٹے ندی نالے تیز سیلابوں سے بچنے کے لیے ایک دفاعی حصار کا کام کرتے ہیں۔ اگر یہ ندی نالے انسانی تجاوزات سے محفوظ رہیں اور انکی بر وقت صفائی ستھرائی ہوتی رہے تو یہ بھی فالتو پانی کو جذب کرنے اور اسے کسی محفوظ ٹھکانے کی طرف لے جانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ مگر صد افسوس کہ ہم نے یہ ندی نالے بھی انسانی حرص و طمع کی نذر کر دیے۔ ہم تو سیلاب زدگان کے لیے آئے ہوئے ریلیف فنڈ کو بھی صحیح طریقہ سے استعمال نہیں کر پاتے اور حالیہ سیلاب میں یہ بات کُھل کر سامنے آئی ہے کہ عوام سرکاری اداروں کے مقابلے میں پرائیوٹ فلاحی اداروں اور مذہبی تنظیموں کو فنڈ دیتے ہوئے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس سیلاب میں الخدمت فاؤنڈیشن اور اس طرح کی فلاحی اور رفاعی تنظیموں کا کردار قابلِ صد تحسین ہے۔ افواجِ پاکستان نے حسبِ معمول انتہائی مشکل اور دشوار گزار دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے اوپر بہہ جانے والے پُل اور دیگر نظام مواصلات کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک نہایت مثبت بات یہ نظر آئی کہ پاکستانی قوم نے آفت کی اس گھڑی میں متاثرینِ سیلاب کی دل کھول کر مدد کی اور ایک قوم بن کر اُبھری۔
ہمارے خیال میں اس سیلاب کی تباہ کاریوں سے سبق حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تمام مکاتبِ فکر خصوصاً حکومت وقت اور سیاسی اکابرین اور عوام الناس اس ساری صورتحال کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کریں۔ اپنی غفلت اور کوتاہی کا ادراک کریں۔ کُھلے دل سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کریں۔ معاملے کی گہرائی اور گیرائی کا عمیق نظروں سے جائزہ لیں اور پھر مستقبل کی صورت گری کی کوئی سبیل کریں۔ تو شاید ہم اس طرح کی سیلابی صورتحال اور اس وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی سے بچ سکیں۔ مگر اس جملہ معترضہ کے ساتھ کالم کا اختتام کر رہا ہوں کہ ملک میں اس وقت سیاسی انتشار جس ٹمریچر پر ہے اس میں قوم کے بہی خواہوں اور لیڈرشپ کا کسی ایک سوچ کے ساتھ یکسو ہو کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا قدرے مشکل نظر آتا ہے۔



