اثر خامہ : قاضی عبدالقدیر خاموش
اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہوگی کہ جس دوران ملک کا بڑا حصہ طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہی کا شکار ہے اسی دوران سیاسی رہنما اقتدار کے کھیل میں مگن ہیں۔دو تہائی سے زیادہ ملک تباہی کا شکار ہے ،گائوں کے گائوں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ، بچوں سمیت سیکڑوں افراد سیلاب میں بہہ گئے ، تباہی، بربادی ہے، ہر طرف خوفناک مناظر ہیں،ایک کروڑ سے زیادہ بے گھر ہوچکے، خوراک سے بھی محروم ہیں ۔ پاکستان کا معاشی مرکز اور سب سے بڑا شہر کراچی بھی کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے ۔متاثرہ لوگوں کی اکثریت اب بھی ریاست کی جانب سے امداد کی منتظر ہے،لیکن سیاسی جماعتوں کو اپنی اقتدار کی لڑائی ، جلسے ، بیانات اور ایک دوسرے کی ہجو عزیز ہے عوام نہیں ۔ سیاسی جماعتوں کا یہ کردار کوئی مخفی امر نہیں ، پوری قوم کے سامنے ہے ۔
دوسری جانب قیامت کی اس گھڑی میں قوم تنہا نہیں ہے،جہاں جہاں سیلاب کی تباہ کاریاں پہنچی ہیں پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، کے پی، گلگت ،ہر جگہ کچھ لوگ ہیں، جو پہنچے ہیں ، جن کی پوری دنیا تعریف کر رہی ہے ، سراہا جارہا ہے ،بلند وبالا چوٹیاں ہوں یا ، سیلاب کے بپھرے ریلے ، منہہ زور دریا ہوں یا موت کا پھندا بن جانے والے گھر یہ جانباز کسی تنخواہ ، تعریف یا نام ونمود کے لالچ کے بغیر حالات سے لڑ رہے ہیں ، ایک ایک گھر ایک ایک فرد تک پہنچنے کوشش میں راتوں کی نیندیں اور دن کا چین بے قرار کئے ہوئے ہیں۔کریڈیبلٹی کا یہ عالم ہے کہ بیرون ملک سے امدادی سامان اور رقوم کے لئے رابطہ کرنے والوں کو ملکی سلامتی کے ادارے بھی انہیں کا پتہ بتاتے ہیں۔ اس وقت امانتوں کو درست جگہ پہنچانے اور خرچ کرنے میں صرف ان پر اعتبار کیا جارہا ہے ، یہ کوئی اور نہیں ، میرے اور آپ جیسے دینی جماعتوں اور دینی مدارس کے وہ نوجوان کارکن، طلباء ، علماء اور قائدین ہیں ، جو اس وقت پوری دنیا سے تعریفیں سمیٹ رہے ہیں ۔ صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں اگر کسی نے سیلاب زدگان کے لئے کوئی رقم دینے ہے یا سامان تو ان میں سے کسی ایک کے حوالے کر رہا ہے ۔ مزے کی بات یہ کہ پی ٹی آئی کے بعض لوگ جنہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کا نام کبھی سیدھا نہیں لیا ان کی سوشل میڈیا والز پر لوگوں کو تلقین کی جا رہی ہے کہ فلاں علاقے میں امداد کے لئے جے یو آئی کی انصارالاسلام سب سے بہترین ہے ، فلاں علاقے کے لئے اسوۃ والوں کو فنڈز دیں، فلاں کے لئے اللہ اکبر والوں کی مدد کریں ۔ بلکہ اللہ اکبر اور جماعت اسلامی کی الخدمت پورے ملک میں ہر جگہ ہر طرح کے حالات میں یوں سیلاب سے لڑ رہی ہیں ، جیسے فوجیں میدان جنگ میں لڑتی ہیں ، اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے۔
سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر نقل وحرکت ، سامان ، راشن کے لئے جس بڑے بلکہ لامتناہی بجٹ کی ضرورت ہے وہ کہاں سے آرہا ہے ؟ یہ سب ہماری یہی قوم انہیں فراہم کر رہی ہےاور یہ کوئی کم رقم نہیں ہے ۔
دوسرا سوال جو اس سے اہم ہے کہ انہیں ہی کیوں ؟ کسی باقاعدہ اپیل ، میڈیا مہم کے بغیر ہی قوم ان گم نام فقیروں کو کروڑوں اربوں روپے کیوں دے رہی ہے،کیوں ؟ جواب بہت سادہ ہے کہ قوم کو ان کی دیانت پر اعتماد ہے ۔ اب آخری سوال جو آج کی نشست کا حاصل ہے ، کہ قوم کو ان کی دیانت پر اتنا اعتماد ہے کہ اپنے بیٹے حوالے کر رہی ہے ، لاکھوں کروڑوں دے رہی ہے ، تو پھر ووٹ کیوں نہیں دیتی ؟
جب علم ہے کہ یہ لوگ امانتوں کے امین ہیں ، خیانت نہیں کریں گے ، جب یقین ہے کہ کوئی آفت آئے یا مصیبت مسلح افواج کی طرح یہی
لپک کر پہنچیں گے،حکومت اختیار کچھ بھی حاصل نہ ہونے کے باوجود ایک ایک گھر کے درازے پر بن بلائے حاضر ہوجائیں گے ، خدمت کریں گے، اس دوران جان جاتی ہے تو جائےکوتاہی نہیں ہوگی۔
اتنا یقین ہے ، اعتماد ہے تو پھر قوم ووٹ کی پرچی سے انہیں ملک ، صوبے یا علاقے کا اختیار کیوں نہیں سونپ دیتی؟ جو بلا اختیار سب کر رہے ہیں ، انہیں با اختیار کردیاجائے۔
قومی خزانہ جو ہمیشہ چوروں کی دسترس میں رہا، اس کا نگہبان انہی کو کیوں نہیں بنا دیا جاتا؟
آخر کیوں ؟؟
اس کیوں کا جواب تلاش کرناہے ۔
میرا ایک تجزیہ ہے ، سوچی سمجھی رائے ہے ، اس کا اظہار بعد میں ۔۔
پہلے آپ؛؛؛
میرے قارئین جواب دیں ۔۔۔
۔۔۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے؟
۔۔۔ ایک جانب اتنا اعتماد اور دوسری جانب یہ حالت؟
۔۔۔ دینی جماعتوں کے امیدوار کو ووٹ کیوں نہیں ملتا ؟
۔۔۔ حکومت کیوں نہیں ملتی ؟
۔۔۔۔قوم اعتبار کیوں نہیں کرتی ؟
۔۔۔۔ نوٹ دیتی ہے ، ووٹ کیوں نہیں دیتی ؟
جواب آپ کے ذمے



