موسم کی شدت اور امراض قلب سے اموات کے درمیان تعلق موجود ہے۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ گرم یا سرد موسم کے دوران امراض قلب کے شکار افراد کی اموات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ناروے کی اوسلو یونیورسٹی کی تحقیق میں 23 لاکھ کے قریب افراد کا جائزہ لیا گیا تھا۔محققین نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے مگر کچھ خطوں میں سردی کی شدت بھی بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2003 میں موسم گرما کے دوران شدید گرم موسم کے باعث 70 ہزار سے زیادہ اضافی اموات ہوئیں جبکہ سرد موسم سے بھی اضافی ہلاکتیں ہوئیں۔اس تحقیق میں جرمنی، برطانیہ، ناروے اور سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے 23 لاکھ کے قریب افراد پر ہونے والی 5 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ان افراد کی عمریں 49 سے 71 سال کے درمیان تھیں۔ان افراد کے علاقوں کے اوسط درجہ حرارت کو مقامی ویدر اسٹیشنز سے حاصل کیا گیا۔اس کے بعد درجہ حرارت اور امراض قلب سے متاثر ہونے یا اس سے ہونے والی اموات کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ سرد موسم کے دوران امراض قلب سے اموات یا امراض قلب کے شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، مثال کے طور پر درجہ حرارت 10 سینٹی گریڈ کم ہونے پر امراض قلب سے اموات کا خطرہ 19 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ 4 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سرد موسم اور اموات کے درمیان تعلق مردوں اور غریب علاقوں میں رہنے والوں میں زیادہ دیکھنے میں آیا۔تحقیق میں شدید گرم موسم اور امراض قلب سے متاثر ہونے کے درمیان تو تعلق دریافت نہیں ہوا مگر نتائج میں بتایا گیا کہ جب درجہ حرارت 15 سے بڑھ کر 24 سینٹی گریڈ ہوجاتا ہے تو امراض قلب اور فالج سے موت کا خطرہ بالترتیب 25 اور 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔محققین نے بتایا کہ یہ ضروری ہے کہ امراض قلب کے شکار افراد کو گرم موسم میں مناسب پانی پینا چاہیے اور ادویات کے استعمال کے لیے ڈاکٹروں کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے۔اس تحقیق کے نتائج یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی سالانہ کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔
موسم کی شدت اور امراض قلب کے درمیان تعلق دریافت



