اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) صحت کے حوالے سے درپیش خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں ای۔سگریٹ کے استعمال روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ ویبنار’پاکاتان میں ای۔سگریٹ کا استعمال، حقائق اور مفرضے‘ کے دوران اپنی آراء پیش کرتے ہوئے کیا۔آغا خان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جاوید احمد نے شرکاء کو بتایا کہ تیس سے زیادہ ممالک میں پہلے ہی ای۔سگریٹ کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیکو ٹین کا استعمال دماغی نشوونما پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور خصوصاً نوجوانوں کے لیے اس کا استعمال نتہائی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای۔سگریٹ کے اشتہارات اور عوامی مقامات پر اس کے استعمال پر پابندی ہونی چاہئے تا کہ اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔یونین پاکستان کے نمائندہ خرم ہاشمی نے کہا کہ ان کی تنظیم ای۔سگریٹ کے مضر اثرات سے متعلق عوامی شعور کی بیداری کے لیے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماہرین نے اس نوعیت کی مصنوعات کو انتہائی نقصان دہ قرار دیا ہے۔ اس رجحان کو روکنے اور راست اقدامات کے لئے نئی قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ صحت اور ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔ایس ڈی پی آئی کے محمد وسیم جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ای۔سگر ٹس کی کھلے عام فروخت جاری ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں اس کی تشہیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں جس کا تدارک ضروری ہے۔سوشل پالیسی سینٹر کے محمد صابر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ای۔سگریٹ کو روایتی سگریٹ کی طرح ٹیکسوں کے دائرے میں لایا جائے اور پاکستان میں اس کے استعمال کی شرح معلوم کرنے کے لیے سروے کیا جائے۔ ایس ڈی پی آئی کے سید واصف نقوی نے کہا کہ ہم اگلی نسل کو تمباکو کی مصنوعات کی جانب راغب کر رہے ہیں جو ایک افسوس ناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای۔سگریٹ صحت کے مسائل کا باعث ہی نہیں بلکہ اس کے استعمال سے قومی خزانے کو محصولات کی مد میں بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
ای۔سگریٹ کا بڑھتا ہوا رجحان صحت کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے،ماہرین



