عابد حسین قریشی
پاکسانی قوم آجکل اپنی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات دھوم دھام سے منا رہی ہے۔ آزادی بلا شبہ بڑی نعمت اور اسکی قیمت صرف وہی لوگ جانتے ہیں جنہوں نے غلامی کی اذیّت اور ہزیمت برداشت کی ہو۔ ہماری وہ نسل جس نے غلامی کی زنجیریں توڑیں، آزادی کے لیے جدّوجہد کی، بے انتہا قربانیاں دیں۔ بے شمار لوگوں نے اپنا گھر بار اپنا کاروبار اور اپنے مال متاع چھوڑ کر نئے وطن میں ہجرت کی اُن میں سے بڑی تعداد اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ جو زندہ ہیں وہ عُمر کے اُس حصّہ میں ہیں جہاں کاروبارِ حیات میں وہ کوئی قابلِ ذکر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اگر بطور ایک پاکستانی آزادی سے لیکر آج تک کی صورتحال کا تجزیہ کریں تو نتائج ملے جُلے آتے ہیں۔ کہیں کامیابیاں ہیں اور کہیں ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ پاکستان بننے کے فوری بعد متروکہ جائیداد کو ہڑپ کرنے کے لیے جس طرح فرضی اور جعلی کلیم داخل کرا کے محکمہ بحالیات کو استعمال کرتے ہوئے کرپشن کا دروازہ کھولا گیا وہ بعد میں کوشش کے باوجود بند نہ ہو سکا۔ انہی فرضی اور جعلی الاٹمنٹ کی وجہ سے عدالتوں کے اندر مقدمہ بازی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو 75 سال گزرنے کے باوجود ہنوز جاری و ساری ہے۔
میں ذاتی طور پر چیزوں کا روشن رُخ دیکھنے کا عادی ہوں۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان کے اس 75 سالہ سفر میں بہت کم چیزیں خوشی و طمانیت کا باعث بنیں۔ عمومی طور پر آزادی کے نتائج وہ نصیب نہ ہوئے جو دیگر آزاد ہونے والے ممالک کے حصّہ میں آئے۔ آزادی کا ایک ثمر یہ تو ضرور ملا کہ ایک آزاد فضا میں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا لُطف دوبالا ہوا۔ جھونپڑیوں سے اُٹھ کر محلات کا سفر بڑا دلکش نظر آتا ہے۔ بلاشبہ لوگوں کے معاشی اور سماجی حالات بہت بہتر ہوئے مگر اس دوران ہم نے اپنی اخلاقی اور سماجی قدروں کو تہس نہس کیا۔ فرقہ واریت، لسّانیت، مذہبی اور گروہی تقسیم اور متشدّد رویے پروان چڑھائے اور اپنی نا لائقیوں اور کوتاہیوں سے آدھا ملک بھی گنوا دیا۔ اور وہ ایک پُر عزم قوم جو آزادی مانگ رہی تھی اور قائد اعظم کی قیادت میں یک جان ایک قالب تھی وہ آزادی کے بعد ایک بے ہنگم ہجوم کی صورت میں نظر آئی۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ 14اور 15 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت دونوں ایک ساتھ انگریز کی غلامی سے آزاد ہوئے۔ آج بھارت ترقی کی کتنی منازل طے کر کے کہاں کھڑا ہے۔ اور ہم کہاں ہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نعروں اور ترانوں میں ضرور بھارت سے آگے ہیں مگر بھارت اس وقت دنیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ جبکہ ہم کاسۂ گدائی لیے در بدر ہو رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کی ترقی اور تنزلّی کا راز ٹٹولنے کی کوشش کریں تو اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ بھارت نے آزادی کے فوری بعد اپنے اداروں کو مضبوط کیا۔ ایک آئین ملک کو دیا اور اسی آئین کے تابع وہ ملک 75 سال سے چل رہا ہے۔ جبکہ ہماری بدقسمتی ملاحظہ کریں کہ آزادی کے بعد تقریباً نو دس سال ہم کوئی آئین ہی نہ بنا سکے۔ ہم نے اداروں کی بجائے افراد کو مضبوط کیا۔ نتیجہ ظاہر تھا ملکی ترقی کی رفتار کمزور ہوتی گئی۔ ہمارے ہاں آئین بنتے رہے اور ٹوٹتے رہے۔ شخصی اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ہمارے تمام ادارے ایک ہی کشتی میں بسوار نظر آئے۔ ہمارے ملک میں اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے شخصی اور انفرادی چھاپ اس قدر بھرپور تھی کہ خواجہ ناظم الدین جو پاکستان کے وزیر اعظم بھی اور گورنر جنرل بھی رہے اور نہایت شریف النفس انسان تھے اُن سے کسی نے پوچھا کہ پاکستان میں گورنر جنرل زیادہ با اختیار ہے یا وزیر اعظم۔ تو خواجہ صاحب نے نہایت معصومیت سے بڑا دلچسپ جواب دیا کہ جب میں گورنر جنرل تھا تو لیاقت علی خان وزیر اعظم تھے اور وہ زیادہ با اختیار تھے اور جب میں وزیر اعظم بنا تو غلام محمّد گورنر جنرل تھے اور وہ زیادہ با اختیار تھے۔
بطور قوم شاید ہم نا شکرے بھی ہیں۔ ہم نے اس آزادی کی نعمت کی وہ قدر نہ کی جو زندہ قومیں کرتی ہیں۔ ہم نے پاکستان بنانے والوں اور اسکے لیے قربانیاں دینے والوں کے ساتھ بھی کوئی احسن سلوک نہ کیا۔ اس گردش لیل و نہار میں ہم نے احسان کُشی و شقاوت کے کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کیے۔ قیام پاکستان کے صرف تین سال بعد ہم نے لیاقت علی خان جیسے عظیم اور مخلص لیڈر کو جلسہ عام میں بڑی بے دردی سے قتل کر دیا اور اُس قتل کے سارے ثبوت اور کھوج بھی وہیں ختم کر دیے۔ ہم نے بانی پاکستان قائد اعظم محمّد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ علی جناح کو ایک فوجی ڈکٹیٹر سے ریاستی جبر و زور کے بل بوتے پر صدارتی الیکشن میں شکست دلوائی۔ اس میں ہمارے پنجابی بھائیوں کا رول زیادہ قابلِ اعتراض تھا۔ بعد ازاں ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے نہایت ذہین و فطین سیاسی لیڈر ذولفقار علی بھٹو اور پھر اسی ایٹمی پروگرام کو حقیقت کا رنگ بھرنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ بھی تو ہمارا سلوک تاریخ کا حصّہ ہے۔
کیا ہم واقعی ایک محسن کش قوم ہیں۔ یا ہمارا مزاج کسی خاص رنگ میں ڈھلا ہے۔ ہم اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے افراد کے بت بناتے ہیں۔ پھر ایک خاص وقت پر اپنے تراشیدہ بت بڑی بے دردی سے گرا دیتے ہیں۔ اس کوشش میں ہم انسانی قدروں کو بھی پامال کر جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آج 75 سال بعد ملک جس سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے، کن لوگوں نے اسے یہاں تک پہنچایا، ہمارے خیال میں اس میں چند کردار نہیں بلکہ دو نسلوں کی کوتاہی اور بے حسّی شامل ہے۔ کوئی ادارہ یا فرد اس سے بری الذّمہ نہی ہو سکتا۔ ہم نے نہ صرف اپنے ادارے تباہ کیے اُنکی حرمت و تقدّس کو پامال کیا بلکہ آئین کے ساتھ بھی وقتاً فوقتاّ کھلواڑ کرتے رہے۔ اور آج ہم تاریخ کے انتہائی بھیانک بحران میں گرفتار ہیں۔ جہاں ملکی سلامتی خصوصاً ملکی معیشت داؤ پر لگی ہے۔ ہم بڑے فخر سے آئی۔ایم۔ایف اور دوست ممالک کے سامنے کشکول لیے کھڑے ہیں۔ مگر اب شاید دوست ممالک بھی ہم پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ آئی۔ایم۔ایف کی شرائط اتنی کڑی ہیں کہ اُن پر عمل در آمد کی صورت میں عام آدمی زندہ در گو ہونے کے قریب ہے۔ مگر افسوس کہ کہیں بھی احساس ندامت نہیں۔ قومیں احساسِ ندامت سے احساسِ تفاخر کا سفر بڑی شان سے کرتی ہیں مگر ہمیں تو اسکی رمق بھی نظر نہیں آتی۔ بقول علامہ اقبال
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا



