یہ خون مسلم کے تجار

اثر خامہ: قاضی عبدالقدیر خاموش

امریکی صدر جیوبائڈن کے دورہ مشرق وسطیٰ کے فوراً بعد اسرائیل کے فلسطین پر حملے معنی خیز ہیں ، مبصرین کے خیال میں سعودی عرب کی جانب سے وعدے کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے سے سر دست انکار کی سزا ،مجبور اورغریب فلسطینیوں کودی جا رہی ہے ، حالانکہ سعودی حکومت کا بائڈن کو انکار فلسطین کے لئے تھا ، نہ عربوں کے لئے ، امت کے مفاد کے لئے تو ہونا ہی کیا تھا ، یہاں تک کہ یہ سعودی مفاد میں بھی نہیں تھا ،بلکہ سعودی ولی عہد ایم بی ایس کے ذاتی مفادات کا معاملہ تھا ، جس کی خاطر اس نے امریکی صدر کو آنکھیں دکھانے کی ادا کاری کی ، شنید ہے کہ بات چیت جاری ہے جیسے ہی موصوف کے مطلوبہ مفادات پورے ہوجائیں گے ، وہ بسرو چشم ” سلام یا بائدن :انت حبیبی ” کہتا ہوا دکھائی دے گا ۔ فلسطین اور خطہ عرب کے دفاع میں اپنے مفاد یہاں تک کہ جان تک کو دائوپر لگادینے سے بھی گریز نہ کرنے والا ایک ہی شیر تھا ، جسے رب نے تاج شھادت سے نواز دیا ،صدام حسین ، جس نے اپنے سینے پر ایرانی طاغوت اور امریکی استعمار دونوں کو روک رکھا تھا ،آج وہ نہیں ہے ، تو خطہ عرب بھیڑیوں کی شکار گاہ بنا ہوا ہے ۔ایک جانب ایران خطہ عرب کو ہڑپ کرتا چلا جارہا ہے ،تو دوسری جانب اسرائیل عرب حکمرانوں کے تعاون سے پیش قدمی جا ری رکھے ہوئے ہے ،ان ہر دو جارحیتوں اور عرب حکمرانوں کی ہوس کی سزا اگر کسی کو مل رہی ہے تو وہ فلسطینی ہیں ، جو ہرگزرتے دن کے ساتھ تنہاہوتے جا رہے ہیں ۔
فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کے طویل ترین امن مشن میں شامل ہے ۔ 24اکتوبر 1945کو جب اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا اس وقت سے آج تک مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کی طرح سجا ہوا ہے ،تین نسلیں پیدا ہوکر قبروں کا رزق بن گئیں ، لیکن اس خطے کو امن نصیب نہ ہوسکا ، نہ صرف انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے بلکہ نام نہاد عالمی اور اسلامی طاقتوں اور لیڈروں کی مسائل کے حل میں کسی قسم کی دلچسپی بھی نظر نہیں آتی ، وجہ اس کی عالمی قوتوں کی اسلام دشمن سوچ کے تحت مسلمانوں کو کچل کر رکھ دینے کے مشن پر اتفاق اور مسلم قیادت کی سفاک حد تک پہنچی ہوئی خود غرضی ، جاہ پرستی ، باطل نوازی اور ہر طرح کی کرپشن ہے ۔فلسطین میں اسرائیلی فوج کی درندگی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ، اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کو کچلنے کے لئے سرگرم رہی ہے۔
اسرائیل چاہے بم برسائے ، ناکہ بندی کر ے ، فلسطینیوں کی نسل کشی کرے ، ان کا معاشی قتل کر ے ، دیوار کی تعمیر کرے ، مسجد اقصی کی بے حرمتی کرے ، اسے کوئی روکنے والا ہے نہ باز پرس کر نے والا بلکہ اسرائیل کو خطے کا پولیس مین بنانا اور پھر اس کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کا حصول عالمی قوتوں کا پسندیدہ فارمولہ بن چکا ہے ۔ اسی لیے ہزاروں جانیں گنوانے اور باعزت و پر سکون زندگی کے لیے ترستے فلسطینی دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہیں ۔مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے باوجود نہ صرف انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپیئن ممالک نے اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو تسلیم کر رکھا ہے ۔ بلکہ آج حالات یہ ہیں کہ 195آزاد ممالک میں سے صرف پاکستان سمیت22 ممالک ہیں ، جنہوں نے ابھی تسلیم نہیں کیا ، اب میں سے بھی ایران اور سعودی عرب کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
مشرقی تیمورمیں آزادی کے مطالبے کی عالمی برادر ی نے جس سرعت کے ساتھ حمایت کی کاش ایسی پھرتی فلسطین کے نہتے عوام پر اسرائیلی مظالم کے جواب میں بھی نظر آتی ۔ کیا غزہ میں بہنے والا بچوں کا لہو کسی دوسرے رنگ کا ہے؟ کیا فلسطینی مظلوموں کی چیخیں عالمی برادری کے دل دہلانے کے لیے ناکافی ہیں ؟ کیا بے گھر فلسطینیوں کی تکالیف سے عالمی ضمیر پر کوئی اثر نہیں پڑا ؟ سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ عالمی طاقتوں سے گلہ تو تب کریں ،اگر مسلم قوتوں نے کوئی عملی قدم اٹھایا ہو ۔آج کا اسرائیل صرف فلسطینی سر زمین پر ہی قابض نہیں بلکہ اس کی ریشہ دوانیوں اور عالمی طاقتوں کی ہلا شیری کی وجہ سے ہمسایہ ممالک شام ، اردن ، لبنان سمیت پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے،لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، البتہ اب سعودی ولی عہد کی ذات پربات آئی تو امریکی صدر کو بھی آنکھیں دکھانے تک پہنچ گئے ۔ہماری اپنی کمزوریوں کے نتیجے میں حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ اسرائیل ہر چند برس کے وقفے کے بعد کبھی حماس تو کبھی نام نہاد فلسطینی شورش کا بہانہ بنا کر بچے کھچے فلسطین کوبھی تہس نہس کر دیتا ہے۔ مئی 2021 کے حملے میں تو اسرائیلی دیدہ دلیری کا اندازہ اس امر سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 10 منٹ کی پیشگی اطلاع پر اس عمارت پر بھی حملہ کر ڈالا جہاں بین الاقوامی میڈیا ہائوسز کے دفاتر قائم تھے ۔ ان تمام حالات کے باوجود سرنگ کے آخری کنارے پر کچھ روشنی بھی معلوم ہوتی ہے ، اسی لیے تو اسرائیل اپنی تمام توپوں، گولوں ، فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے باوجود جارحیت کو طول نہیں دے سکا ، یہ امید کسی عالمی ادارے یا کسی مسلم حکومت کا ضمیر جاگنے کی نہیں کہ جاگتے وہ ہیں جو سورہے ہوں ، مردے کبھی جاگا نہیں کرتے ،انہیں دفنایا جاتا ہے ۔ یہ امید کی کرن عالمی رائے عامہ کے دبائو سے منسلک ہے ،جو فلسطینیوں کا درد محسوس کرتا ہے اور اس پر رد عمل بھی دیتا ہے ۔
جہاں تک او آئی سی کا تعلق ہے تو اسرائیلی جارحیت کے رد عمل میں قائم ہونے والی اس عالمی تنظیم کا معاملہ یہ ہے کہ اربوں ڈالر اجلاسوں پر اڑا دینے کے باوجود اس کاکردار کہیں دکھائی تک نہیں دیتا ، اس سے زیادہ موثر تو افریقہ کے غریب اور پسماندہ ممالک کے اتحاد کو حاصل ہے ۔ حالت یہ ہے کہ ایک ہفتے سے فلسطینی مر رہے ہیں ، کٹ رہے ہیں لیکن او آئی سی ابھی نیم غنودگی کے عالم میں صرف مذمت تک پہنچی ہے ، وہ بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے کی خبروں کے بعد ۔ ممکن ہے کچھ دن مزید لگیں ، یا شائد او آئی سی کے کارپرداز کسی خاص گنتی کے انتظار میں ہوں کہ مزید اتنی لاشیں گریں گی تو بولیں گے ، ابھی ان کے حساب سے کم لوگ مرے ہوں ،کم تباہی ہوئی ہو ۔
بنے پھرتے ہیں خادم حرمین یہ خون مسلم کے تجار شرم ان کو مگر خدا کی ہے نہ زخلق خدا کی
اگر پاکستان کا ذکر کیا جائے تواسرائیل پر پاکستانی موقف بڑا واضح ہے جس کے مطابق فلسطین مسلمانوں کی ریاست ہے اور اس پر نام نہاد اسرائیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ پاکستان میں سول سوسائٹی اور دیگر تمام اداروں اور تنظیموں کی جا نب سے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی پرزور انداز میں مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی برادری پر واضح کیا گیا کہ اسرائیلی اقدام کے نتائج انتہائی خطرناک اور بے نتیجہ ثابت ہوں گے اور نہ صرف مسلم امہ بلکہ عالمی برادری بھی فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے عالم اسلام کو واضح موقف اپنانے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جارحیت کو دنیا کے کونے کونے تک اس انداز سے پیش کرنا ہوگا کہ اسرائیل آئندہ ایسا قدم اٹھانے کی جرات نہ کر سکے عالم دنیا کے حکمرانوں پر عجیب قسم کی غنودگی، نیم بے ہوشی اور سکتہ کی کیفیت طاری ہے کہ جو بھی ظالم وجابر حکمران اور عنادی وفسادی جتھا کوئی جھوٹا افسانہ وڈراما گھڑنے اورتیار کرنے کے بعد جس پرامن اور بے ضرر قوم وملک پر حملہ اور یلغار کرکے اس کو تہس نہس کردے یا اس ملک کی بے گناہ عوام کو گولیوں، بموں اور فضائی حملوں سے بھون ڈالے، اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ نہ ہی اس کا کوئی ہاتھ روکنے والاہے اور نہ ہی اس یلغار وخلفشار اور فضائی حملوں کی ان سے کوئی دلیل اور توجیہ طلب کرسکتا ہے۔ ان حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی انسانوں اور شعور رکھنے والی قوموں کی دنیا نہیں، بلکہ جانوروں اور حیوانوں کے ریوڑ کا کچھار ہے کہ جہاں طاقتور کا ہر حکم اور ہر عمل درست اور کمزور کی ہر حرکت اور ہر فعل غلط، ناجائز اور قابل گردن زدنی گردانا جاتا ہے۔ عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹا افسانہ برپا کرکے صدر صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹاگیا، اس کو پھانسی کے گھاٹ اتارا گیا اور عراق کے لاکھوں شہری صفحہ ہستی سے مٹا ڈالے گئے ،جہاں زندگی ہمکتی تھی ،آج وہاں ہرسو موت بین کمرتی ہے ۔کئی سال گزرنے کے بعد وہاں کی عوام یہ تمام مظالم آج تک برداشت کررہی ہے۔ افغانستان میں اسامہ بن لادن کا ہوا کھڑا کرکے افغانستان کی عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا، جس کے برے اثرات دیر تک وہاں کی عوام سہتی رہے گی۔ یہی انداز ایک بار پھر برطانیہ اور امریکہ کا لے پالک اسرائیل غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے خلاف دہرارہاہے۔ بے شمار بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں کو شہید کرچکا ہے اور دس ہزار سے زائد فلسطینی عارضی کیمپوں اور اسکولوں میں پناہ گزین ہیں، نہ ان کے پاس غذائی اجناس پہنچ پارہی ہیں اور نہ ہی کوئی دوائی ان تک پہنچنے دی جارہی ہے مگر نہ کسی کو ان فلسطینیوں کی چیخیں اور آہیں سنائی دیتی ہیں اور نہ ہی ان کی اجتماعیں قبریں اور جنازے نظر آتے ہیں۔ عالم اسلام پر ایسی بے حسی اور مردنی چھائی ہوئی ہے کہ ان میں اجتماعیت، اتحاد اور اتفاق نام کی ڈھونڈنے سے بھی کوئی چیز نہیں ملتی۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کی گرتی لاشوں ، تڑپتے بچوں ، بلکتی مائوں اور دوسری جانب لاکھوں کی تعداد میں مسلم افواج ، ہتھیار ، ادارے اور حکمرانوں کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے ، آقا دو عالم ۖکی وہ حدیث یاد آتی ہے ، جب آپۖ نے فرمایا کہ کہ” ایک وقت آئے گا کہ دنیا کی قومیں تم پر ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے دعوت کا اہتمام کرنے والا کوئی شخص دستر خوان کے چنے جانے کے بعد مہمانوں سے کہتا ہے کہ آیئے تشریف لایئے کھانا تناول فرمایئے! اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حیران ہو کر پوچھا کہ مِن قِل نحن یومئِذ؟ حضور! کیا اس زمانے میں ہماری تعداد بہت کم رہ جائے گی؟ نبی اکرمۖ نے فرمایا: نہیں! بل انتم یومئِذ کثِیر ، ولکِنکم غثا کغثاِ السیل تعدادتوبہت ہوگی ( دو ارب کے قریب )لیکن تمہاری حیثیت جھاگ سے زیادہ نہ ہو گی۔( جیسے کسی جگہ اگر سیلاب آ جائے تو سیلاب میں پانی کے ریلے کے اوپر کچھ جھاڑ جھنکار ہوتا ہے کچھ جھاگ ہوتا ہےِ اس سے زائد تمہاری حیثیت نہیں ہو گی دنیا میں تمہاری اہمیت اس سے بڑھ کر نہ رہے گی. )صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پھر سوال کیا کہ حضور! ایسا کیوں ہو جائے گا؟ آپ ۖنے فرمایا: تمہارے اندر ایک بیماری پیدا ہو جائے گی جس کا نام وہن ہے. سوال کیا گیا: ما الوھن یا رسول اللہِ کہ حضور ! وہ وہن کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: حب الدنیا وکراھِی الموتِ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت یہ بیماری جب تم میں پیدا ہو جائے گی جب دنیا تمہاری محبت کا مرکز بن جائے گی اور موت سے تم دور بھاگنے لگو گے تو بہت بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود تم اقوامِ عالم کے لیے لقمہ تر بن جائو گے لیکن ظاہر بات ہے کہ کوئی اپنی درازی عمر کے باعث اللہ کی پکڑ سے بہرحال بچ نہیں سکے گا اسے بالآخر اپنے رب کی طرف لوٹنا ہی ہو گا اور وہاں اس کا حساب چکا دیا جائے گا۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر