تحریر نذیر ڈھوکی
الیکشن کمیشن کی طرف سے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے فیصلہ آنے کے بعد عمران خان بلکل بے نقاب ہو چکا ہے تاہم تواتر کے ساتھ جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتا جیسے ان وجود میں ہٹلر کے مشیر اطلاعات گوئبلز کی روح تحلیل ہوگئی ہے گوئبلز کی تھیوری یہ تھی کہ بار بار جھوٹ بولو تاکہ سچ دکھائی دینے لگے ۔ اور سچ بھی یہی ہے کہ عمران خان 2014 سے ایک ہی رٹی رٹائی تقریر کرتے ہیں کہ ان کے سارے مخألفین چور ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ماضی میں انہوں نے چودھری پرویز الٰہی کو سب سے
بڑا ڈاکو کہا تھا، اینکر حامد میر کے ٹاک شو میں انہوں نے کہا تھا کہ شیخ رشید کو وہ چپڑاسی بھی نہیں رکھوں گا، مگر اردو کے محاورے ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے صرف ایک ووٹ رکھنے والے شیخ رشید کو انہوں نے وزیر داخلہ بنایا تھا اب پنجاب کے بڑے ڈاکو پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر آعلی بناکر اپنے پنجاب اسمبلی کے ممبران کو چودھری پرویز الٰہی کے قدموں میں
ایسے ہی لیٹا دیا ہے جیسے کوئی قصاب بکروں کو لیٹا کر چھری پھیرتا ہے ۔ سندھی زبان میں محاورہ ہے کہ اونٹ اس وقت رو رہے تھے جب اس پر لادنے کیلئے بورے تیار ہو رہے تھے بلکل اس طرح
بچاری قوم کے کندھوں پر ایک نالائق کا بوجھ رکھدیا گیا ، میرا یہ
ماننا ہے کہ بے عیب ذات صرف اللہ پاک کی ہے ، اللہ نے جتنے نبی بھیجے جنم سے لیکر آخری سانس تک اپنے خالق سے رہنمائی حاصل کرتے رہے اس طرح صادق و امین کا
رتبہ محسن انسانیت آقائے دو جہاں کا جو اللہ کا آخری رسول ہے جس کی اولاد محصوم ہے بس ۔ ہاں اللہ پاک وقت بوقت اپنے بندوں میں خاص بندے بھی ضرور پیدا کرتا ہے
ان کی نشانی یہ ہے کہ ان کے مزار روشن رہتے ہیں خلق خدا ان کے مزار
پر جاکر اپنے دکھڑے پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ اللہ کے خاص بندے ہیں۔
ویسے آپس کی بات ہے کیا جسٹس
ثاقب کوئی خدائی فوجدار تھے کہ عمران خان کو صادق و امین کا سرٹیفکیٹ دے دیا ؟ تاریخ کے مجرم
جب منصف بن جائیں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو تا ہے ۔
پاکستان کے عوام گذشتہ 49 سال سے اس عمل کے منتظر تھے کہ ریاست کے ادارے صرف آئین پر عمل
کریں وہ نیوٹرل ہوں ملک کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمان کو کرنے
کے حق میں سر تسلیم خم کردیں ،
یہ خوشی کی بات ہے کہ ریاست کے
ادارے نیوٹرل ہو چکے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ عوام کو گمراہ کرنے
کے گناہ کا ازالہ کون کریگا؟ عمران خان نے نہ صرف قوم کو گمراہ کیا بلکہ کم سے کم دو نسلوں کی زبان بگاڑ دی ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ عمران خان اپنے گناہوں پر توبہ کرنے
کی بجائے شیطان کی طرح عوام کو گمراہ کرنے پر بضد ہیں کیونکہ ممنوعہ فنڈنگ کے اربوں روپے انہیں اس مشقت کیلئے ہی تو ملے تھے ۔



