تحریر: نذیر ڈھوکی
عظیم شاعر حضرت جوش ملیح آبادی نے بہت خوب فرمایا تھا
“انسانیت کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ”
آل رسول کے سکہ بند غلام ،شاعر اور ذاکر اہلیت شوکت رضا شوکت نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا
”
وطن کی بیٹی بتا گئی شوکت
حسین والے ہی ہمیشہ شہید ہوتے ہیں،”
اقتدارچھوڑ کر دبے پاؤں چھپ چھپ کر بھاگنے والے عمران خان
آج کل بھٹو بننے کی کوشش کر رہے ہیں ، آج اسلام آباد میں ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ بھٹو صاحب کا عدالتی قتل ہوا تھا،
بہت خوب صاحب ،، انہیں اب یاد آیا
کہ عالمی دہشت گرد اسامہ بن لادن
نے محترمہ بینظیر شہید کے خلاف کسی کی فنڈنگ کی تھی ، سوال یہ ہے کہ عمران خان خود جنرل حمید گل کی نرسری میں جمہوری آداب سیکھ رہے تھے ؟ عمران خان کا یہ
بیانیہ کہ ان کے خلاف امریکہ نے سازش کی تھی سوال یہ ہے کہ تم تھے کیا چیز کہ امریکہ تمہارے خلاف سازش کرتا ؟ ایک بیوقوف اور نالائق شخص کے بارے میں سوچنا نہ صرف امریکی تھنک ٹینک کیلئے وقت کا ضیا ہی تھا واشنگٹن انتظامیہ اتنی گئی گزری نہیں ہے کہ
ایک ایسے شخص کو قابل اہمیت سمجھے جس کی حیثیت ایک بے جان کٹھپتلی سے زیادہ نہیں ہے۔
میرے مضمون کا خلاصہ یہ ہی ہے کہاں راجا بھوجن کہاں گنگو تیلی،
کچھ خدا کا خوف کرو یار نیازی، ،،
بھٹو بننے کیلئے آٹھ سال کی عمر میں تاریخ کو کھنگال کر شاعر اور انقلابی بننا پڑتا ہے بھٹو کے والد نے
سندھ کو بمبئی سے الگ کیا تھا جبکہ تمہارا باپ اکرام اللہ نیازی کرپشن ثابت ہونے پر نوکری سے نکالا گیا تھا۔ بھٹو کے دوست ماوزی تنگ ،چیون لائی ،شاہ فیصل، شیخ زید بن سلطان، تھے ،بھٹو کے عاشق
یاسر عرفات اور دنیا بھر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے حریت پسند ہے ، بھٹو ایک فوجی آمر جنرل ایوب خان کے اقتدار کو ٹھوکر مار کر عوام میں آئے تھے ،تم جنرلوں کی بے بی بن کر سیاست میں آئے ،بھٹو کی قوت غریب، محنت کش ،طلبہ تھے
جبکہ عمران خان فارن ممنوعہ فنڈنگ کی فنڈنگ اور جمہوریت کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے لاڈلے بن کر سامنے آئے۔ بھٹو کچلے ہوئے طبقات کے لیڈر ہیں جبکہ عمران ٹیکس چوروں ذخیرہ اندوزی کرنے ،اور ضرورت زندگی کی اشیاء میں ملاوٹ کرکے پیسے کمانے والوں کے لیڈر ہیں، بھٹو نے بھارتی قبضے میں چلی گئی 25 ہزار مربع میل زمین واپس لے کر ارض وطن میں شامل کی اور 90 ہزار فوجی افسران اور جوانوں کو بھارتی جیلوں سے باوقار انداز میں رہا کرواکر وطن واپس لائے جبکہ عمران خان مقبوضہ کشمیر مودی کو دیدیا ۔ اس لیئے عمران خان کا بھٹو
سے موازنہ بنتا ہی نہیں ہے کہاں راجا بھوجن کہاں گنگو تیلی ۔



