تحریر: نذیر ڈھوکی
بلاشبہ عمران خان واقعی خوش قسمت ہیں پلے بوائے کی حیثیت سے کرکٹ کے زمانے میں بھرپور زندگی گذاری اس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا جب سیاست میں
لانے کیلئے ریاست کے تمام وسائل استعمال کیئے جائیں گے اور کھلاڑی کو کھیلنے کیلئے ملک دیا جائے گا،
جو لوگ عمران خان کو قریب سے جانتے ہیں کا کہنا ہے کہ ایک ضدی فطرت رکھنے والا شخص ہے وہ کرکٹ کے زمانے میں بھی ایک ڈکٹیٹر کی طرح تھے انتہائی مغرور
اور جوئا کھیلنے کی عادت تھی دولت کے حریس تھے انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ پیسہ دینے والا کون ہے ان کا مطلب صرف
پیسے سے تھا ، پاکستان کے دوسرے آمر جنرل پرویز مشرف نے جب ریفرنڈم کرایا تو وہ ان کے چیف پولنگ ایجنٹ اور سپوٹر تھے 2002
کے انتخابات میں صرف ایک نشست
پر کامیاب ہوئے تاہم پرویز مشرف نے بھی انہیں وزیراعظم بنانے کے
اہل نہیں سمجھا ۔ 2013 کے انتخابات میں عمران خان کی پارٹی کو بطور پریشر گروپ کے طور سامنے لایا گیا اور انہیں طاقتور بنانے کے لیے خیبر پختونخوا انہیں
جاگیردار کے طور تحفے میں دیا گیا۔
اس کے بعد پردہ نشینوں نے اپنے لاڈلے کی لالچی میڈیا کے ذریعے بھرپور مارکیٹنگ کروائی ، پھر یہ ہوا مختلف سیاسی پارٹیوں سے لوگ توڑ کر لاڈلے کے لشکر میں شامل کرنے کیلئے طاقت اور لالچ کا حربہ استعمال کیا گیا ، اس وقت عجب منظر تھا چاچے رحمتے کی طوطی بول رہی تھی ایک لاڈلے کو صادق اور امین کی سند دی گئی جبکہ باقی عوام میں مقبول سیاست دانوں کو خائن بناکر پیش کیا جاتا رہا ، تاہم طاقت کے بھرپور استعمال
کے بعد بھی لاڈلا اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ وزیراعظم بن سکے پھر جہانگیر ترین کے جہاز نے پرواز کی
اور لاڈلا وزیراعظم بن گیا ،لاڈلے کو
وزیراعظم تو بنایا گیا مگر ان کی سری عقل سے خالی تھی اور عقل بازار میں دستیاب نہیں تھا جو لاڈلے
کی سری میں ڈالا جا سکے ،لاڈلا نے ملک کو وہ حشر کیا جیسے پاگل کانچ کے گھر کا کرتا ہے ۔ لاڈلے کے
اس قدر ناز اٹھائے گئے کہ وہ مافیا کے ڈان بن کر سامنے آئے مجھے یہ کہنے میں کوئی نہیں کہ ان کا ڈومیسائل سپر اور زیادہ لاڈ نے ان
کی زبان لمبی اور بے لگام کردی ہے ۔
ان کا طرز عمل اور طریقہ واردات بھی مافیا کے ڈان کی طرح ہے لاڈلا تو ہے ہی وہ اپنے تخلیق کاروں کو گالی دے یا ان کی داڑھی نوچے کوئی لاڈلا جو ہے مگر سوال یہ ہے
کہ ملک کو آئین کے مطابق چلانا ہے
یا مافیا کے ڈان کی خواہش پر ؟



