لوگوں میں لوگوں کی طرح جیتے ہیں(دوسرا حصہ)

تحریر: عابد حسین قریشی

ہمارے معاشرتی رویّے عجب تنزلی کا شکار ہیں۔ نخوت، تکبّر، انا پرستی، ضد، ریاکاری، دکھاوا، منافقت، احساسِ تفاخر، خود نمائی اور خود پسندی ہمیں ایک اچھے خاصے پُرامن اور لبرل معاشرے سے ایک انتہا پسند اور بیمار معاشرے میں لے گئے ہیں۔ یہ بات سمجھنے سے بالا تر ہے کہ ایک گوشت پوست کا انسان غرور و تکبّر کس بل بوتے پر کرتا ہے۔ جو خود ایک سانس کا محتاج ہے جسکے پاس یہ گارنٹی نہیں کہ اگلا سانس آئے گا یا نہیں۔ وہ کیسے بڑی بڑی باتیں کر لیتا ہے۔ کیسے بلند و بانگ دعوے کر لیتا ہے۔ کیسے دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھتے ہوئے تکبّر، نخوت، گھمنڈ اور خود پسندی کے سارے زینے تیزی سے چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بھول جاتا ہے کہ جو دعوے اور منصوبے وہ بنا رہا ہے موت کی بے رحم لاٹھی اُسے انکی تکمیل کی مہلت بھی دے گی یا نہ۔ انسان وہ غافل منصوبہ ساز ہے جسکی ساری زندگی میں جو چیز اٹل اور حقیقت ہے وہ موت ہے مگر اُسکی منصوبہ بندی میں موت شامل ہی نہ ہے۔ اللہ تعالٰی کو انسان کا تکبّر، خود پسندی اور گھمنڈ پسند نہیں کہ تکبّر صرف اللہ کی ذات کو زیبا ہے۔ اسکے مقابلہ میں وہ انسان جو عجز و انکسار کا پیکر ہے۔ جو جھکا ہوا ہے۔ وہ زیادہ مرتبے پا جاتا ہے۔ جو لُطف و دلکشی، رعنائی و زیبائی عجز و نیاز میں ہے اور خضوع، خشوع اور افتسقار میں ہے وہ غرور، تکبّر و نخوت میں بھلا کہاں۔ جب انسان کی زندگی و موت، عزّت و ذلت، صحت و بیماری، غربت و ثروت اور عروج و زوال سب اللہ تعالٰی کے اختیار میں ہیں تو پھر ذاتی صلاحیتوں اور کھوکھلی خوبیوں پر گھمنڈ اور ناز کیسا۔

بدقسمتی سے ہماری اعلٰی معاشرتی اور اخلاقی اقدار اس بری طرح پامال ہوئی ہیں کہ لوگ دھوکہ، منافقت، ریاکاری، اور جھوٹ کے پردوں میں زندہ ہیں۔ معافی اور درگزر کا چلن کمیاب بلکہ نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ عدم برداشت، غصّہ، جھنجھلاہٹ، بدلہ لینے کی کوشش اور مخالف کی تذلیل و تحقیر ایک معمول بن گیا ہے۔ اس میں سوشل میڈیا بڑا بھیانک کردار ادا کر رہا ہے۔ اور ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ اب اخلاقیات کا معیار والدین اور اساتذہ جو کبھی بڑے مضبوط ادارے ہوا کرتے تھے سے انٹرنیٹ، فیس بُک، انسٹاگرام، ٹویٹر اور وٹس ایپ پر منتقل ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق اور بن دیکھے پیغامات آگے فارورڈ کیے جاتے ہیں جن سے بعض دفعہ بڑے خطرناک نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ تصنع و بناوٹ، سختی و دُرشتگی کے بغیر ہمارا لوگوں پر دبدبہ اور رُعب نہیں چلتا۔ دورانِ سروس ایک دوست نے ایک چھوٹا سا واقعہ سنایا جو معاشرہ کی منافقت اور ریاکاری کے کئی در کھول گیا۔ اُس دوست کے بقول وہ اپنے کسی اچھے تعلیم یافتہ اور با رسوخ دوست کے گھر بیٹھا تھا کہ باپ نے اپنے بیٹے کو ڈانٹا کہ میں نے اسے لاہور کے سب سے مہنگے اور اچھے سکول میں داخل کرایا ہے مگر وہ پڑھائی پر توجّہ نہ دیتا ہے۔ تو اُس teenager بچے کا جواب رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی تھا۔ جس طرح اُس نے اپنے باپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ “ آپ نے مجھے اچھے اور مہنگے سکول میں اس لیے داخل کرایا تاکہ آپ کا معاشرہ میں status بڑھے اور آپ لوگوں کو مرعوب کر سکیں کہ میرا بچہ فلاں سکول میں پڑھتا ہے۔” ہمارے خیال میں کسی معاشرہ کی منافقت، دکھاوا اور ریاکاری کی اس سے ابتر صورت کیا ہو گی۔ ظاہر ہے جب ہم نے تربیت کی بجائے تعلیم پر توجہ دینا شروع کی تو رزلٹ تو اسی قسم کا آنا تھا۔ افسوس اس مادی دنیا کی بے مصرف دوڑ میں ظاہری شان و شوکت اور احساسِ کمتری کو احساسِ برتری میں تبدیل کرنے کی ناکام کوشش میں ہم سب اپنی اخلاقی قدروں اور اعلٰی اور قابل رشک معاشرتی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ لبرل ازم کے نام پر مادر پدر آزادی کے نتائج بڑے بھیانک آنا شروع ہو گئے ہیں۔ معاشرہ کی بہتری کے لیے والدین اور اساتذہ کو اپنا رول ادا کرنا پڑے گا۔ قومیں اچھی انگریزی بولنے سے یا خوبصورت و دلکش ملبوسات زیبِ تن کرنے سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اُس کی مضبوط اور پائیدار اخلاقی روایات اور حُسن معاشرت میں پایا جاتا ہے۔

جس معاشرہ میں خوفِ خدا کی کمیابی اور بے حسّی اور بے مروتّی پنپ جائے وہاں اعلٰی معاشرتی اقدار کے خواب دیکھنا ویسے بھی ممکن نہیں ہوتا۔ ابھی عید کے روز لاہور کے ایک پوش علاقہ میں صرف فریج سے بلا اجازت کھانا کھانے پر امیر اور رئیس مالکان کا دو کمسن بہن بھائیوں گھریلو ملازمین پر مبیّنہ بہیمانہ تشددّ جسکے نتیجے میں ایک بچہ جان بحق بھی ہو گیا۔ جو نہ صرف ہماری اخلاقی گراوٹ کی غمازی کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ لوگ دولت سے امیر نہیں ہوتے بلکہ امیری کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں گھریلو ملازمین کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے، بے شمار واقعات دیکھے اور سُنے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جو لوگ ہمارے حُسن سلوک کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں وہی ہمارا نشانہ ستم کیوں بنتے ہیں۔ ہم بطور مسلمان اُس دینِ مبین کے پیروکار ہیں کہ جس میں غریب، مسکین، مسافر، قیدی اور یتیم کو کھانا کھلانے کی اتنی فضیلت بیان کی گئی ہے جسکا اگر قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح ادراک ہو جائے تو شاید ہماری عاقبت سنور جائے۔ یہ موضوع اتنا جامع اور وسیع ہے کہ اس پر انشااللہ آئیندہ ذرا تفصیل سے بات ہو گی۔ ہم نے شاید عبادت کو ہی بخشش اور مغفرت کے لیے کافی سمجھ رکھا ہے۔ معالات اور لوگوں سے حُسن سلوک شاید سب سے اہم ہیں۔ جنہیں ہم نے فراموش کر رکھا ہے۔ معاشرے کی افراط و تفریط نے غریب اور مسکین اور مجبور و بے کس کے حقوق سے ہمیں غافل کر رکھا ہے حالانکہ ظاہری دنیا سے رُخصت ہوتے وقت ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی زبان سے جو آخری الفاظ سنے گئے اُن میں ایک نماز اور دوسرا چھوٹے اور پسے ہوئے طبقہ کے ساتھ حُسن سلوک کی تلقین کی گئی تھی۔ اور یہ بھی ہمارے ہادی برحق نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ “تین چیزیں انسان کو ہلاک کر دینے والی ہیں۔ نفس کی وہ خواہش جسکی پیروی کی جائے۔ بُخل اور کنجوسی جسکی اطاعت کی جائے اور خود بینی کہ انسان اپنے نفس کو بہتر سمجھنے لگے اور فرمایا کہ یہ تیسری چیز سب سے مہلک ہے۔”

ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہم اس معاشرہ میں رہ رہے ہیں جہاں لوگ خود پسندی و خود بینی اور اپنی ذات کی نمود و نمائش کے اُس سرکش گھوڑے پر سوار ہیں جسکا انجام زوال اور تباہی ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں اس تنزلّی اور تباہی سے بچائے (آمین)۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر