(قسط اول)
عابد حسین قریشی
گذشتہ روز ممتاز دانشور ڈاکٹر عارفہ سیّدہ زہرہ کی پُر مغز اور اثر انگیز گفتگو کا ویڈیو کلپ سماعت کرنے کا موقع ملا جس میں چونکا دینے والا فقرہ “ لوگوں میں لوگوں کی طرح جیتے ہیں” حاصلِ کلام تھا۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو حیرتوں کے کئی باب وا ہوئے کہ ہم جس complexed معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں تو لوگ جی ہی رہے ہیں صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے۔ ہمارے اکثر کام دکھاوے اور ریاکاری کی غمازّی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ دکھاوا، یہ خودپسندی، یہ انا پرستی، یہ دوسرے کو نیچا دکھانے کی حسرت شاید ہماری سرشت میں تھی کہ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے نکال دی۔ اب تو اس خودپسندی اور دکھاوے کی یہ لت نفس امّارہ کی سرکشی کا روپ دھار چکی ہے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جس ڈھٹائی سے اپنی خوبصورتی، خوش خوراکی، خوش پوشاکی اور دیگر کردہ ناکردہ کارناموں کی تشہیر کی جاتی ہے اُس میں کچھ بد ذوقی کا گمان بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ بات صرف خوبصورت، دیدہ زیب ڈیزائنز کے ملبوسات یا مرغّن اور فاسٹ فوڈ کی ورائٹی تک ہی محدود نہ رہی ہے۔ بلکہ اب تو لوگ چند گھنٹوں کا نومولود بچہ خشک ہونے سے پہلے فیس بُک پر پھینک دیتے ہیں۔ کسی مرنے والے کی موت کی خبر یا جنازہ کی تصویروں پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ میّت کی تصویر بھی ساتھ لگائی جاتی ہے۔ سالگرہ کی مبارک باد کی سمجھ تو آتی ہے۔ مگر ساتھ تحائف کی تصویر شیئر کرنا اور اُسے دھوم دھام سے مناتے ہوئے ویڈیوز اپ لوڈ کرنا اب ایک معمول بن گیا ہوا ہے۔ حتٰی کہ ہم تو قربانی کے جانور، پھر اُنکا گوشت اور اس گوشت سے بننے والی ڈشسز بھی کمال ڈھٹائی سے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ جو لوگ قربانی افورڈ نہیں کر سکتے اور جن کے گھروں میں عید پر بھی سبزی اور دال ہی بنتی ہے ان تصاویر اور ویڈیوز سے اُنکے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی۔
یہ ساری باتیں ہی قابلِ قبول ہو سکتی ہیں اور بظاہر ان پر اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر جس معاشرہ میں غربت اور افلاس جوبن پر ہوں اور لاکھوں نہیں اب تو کروڑوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہوں، جہاں دو وقت کے کھانے کے حصول کے لیے لوگ عزّتیں نیلام کرنے پر بھی مجبور ہوں۔ ایسے بے حس معاشرہ میں سوشل میڈیا پر عمدہ اور مرغّن کھانوں اور دیدہ زیب و دلکش ملبوسات کی تشہیر گناہ کے زمرہ میں آتا ہے۔ ایسا ہر کام جس سے آپکا پڑوسی، آپکا جاننے والا کوئی غریب اور نادار رشتہ دار احساس کمتری محسوس کرے، محروم طبقات کے دل پر ٹھیس اور چوٹ لگے۔ وہ لوگ جو ان عیاشیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے وہ اس طرح کی چیزیں دیکھنے کے بعد ان سے Inspire ہونے کی بجائے دل میں کڑھن اور بوجھ محسوس کریں۔ دکھ اور تکلیف کا احساس جاگزیں ہو وہاں ایسی چیزیں سوشل میڈیا پر لگانا انتہائی نامناسب ہے۔ اور محترمہ ڈاکٹر عارفہ سیّدہ صاحبہ کا یہ فقرہ کہ لوگوں میں لوگوں کی طرح جیتے ہیں اپنے معنی اور افادیت کھو دیتا ہے۔
نہایت اہم سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ کیا ہم ذہنی طور پر بیمار اور پسماندہ ہیں یا ہم احساس کمتری کے شدید اثرات کے اندر زندگی بسر کرتے ہیں۔ یا کوئی دیگر وجوہات بھی ہیں۔ انکا جائزہ بہت ضروری ہے۔ ہمارے خیال میں خود پسندی اور انا پرستی تکبّر کی ہی صورتیں ہیں۔ تکبّر نہ صرف رعونت اور غیر ضروری تفاخر و تکاثر پیدا کرتا ہے بلکہ نحوت کو بھی جنم دیتا ہے۔ یہ دوسروں کو کم تر اور اپنے آپ کو برتر سمجھنے کی غلط فہمی پیدا کر دیتا ہے۔ انسان ایک ایسے بھنور میں پھنس جاتا ہے جہاں اُسکی جاہلانہ نحوت فہم و خرد کے سارے چراغ بجھا دیتی ہے۔ انسان ہوائے نفس کی دست درازیوں سے صرف اُسی صورت محفوظ رہ سکتا ہے جب اُسکے اندر عاجزی و انکساری پیدا ہو۔ دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھنا شروع کر دے۔ مثبت رویّوں کے ساتھ دوسروں کے درد کو بھی اپنا درد سمجھےاور دکھاوے اور ریاکاری سے بچنے کی کوشش کرے۔ ہمارے دین میں تو دکھاوا اور ریاکاری کی عبادت کو بھی قبولیت حاصل نہیں۔ وہاں یہ سوشل میڈیا پر دوسرے لوگوں کے دل دکھانے اور منفی باتیں کس طرح شرفِ قبولیت حاصل کر سکتی ہیں۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے آقائے دو جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی زندگی کا ایسا واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جسے پڑھ کر نہ صرف ایمان تازہ ہوتا ہے بلکہ یتیموں اور بے کسوں کا خیال رکھنے کا جذبہ بھی کمال اشتیاق سے جنم لیتا ہے۔ ہوا یوں کہ ایک روز آقا کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم مسجدِ نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ ایک پریشان حال شخص مسجدِ نبوی میں داخل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم سے مخاطب ہو کر عرض کی یا رسول اللہ میرا بیٹا کل سے گم ہے۔ پریشان ہوں دعا فرمائیں مجھے مل جائے۔ اس سے پہلے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کچھ فرماتے ایک صحابی رضی اللہ عنہ گویا ہوئے کہ میں نے آج ہی تمہارا بیٹا ساتھ والی بستی میں لگے ایک میلے میں دیکھا ہے۔ وہ شخص فوری پلٹا اور دوڑ لگانے کو تھا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم نے اُسے روکا اور کہا کہ جب تو میلے میں جا کر اپنے بیٹے کو دیکھ لے تو اُسے اُس کے نام سے پکارنا۔ میرا بیٹا کہہ کر نہ پکارنا کہ ممکن ہے وہاں کچھ یتیم بچے بھی ہوں اور اُنہیں میرا بیٹا کہہ کر پکارنے والا کوئی نہ ہو اور اُن کے دلوں پر ٹھیس لگے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ جو کریم نبی صلی اللہ علیہ و آل وسلم اتنی باریکی میں جا کر بھی یتیم کے دلوں کی آس نہ ٹوٹنے دے اور اُن کی دل گرفتگی کا خیال کرے اُسکی امت یوں سرِ عام اپنے محروم طبقوں کی دل کھول کر عزت نفس کو مجروح کرے اور اُنکے احساس محرومی کو نہ صرف اجاگر کرے بلکہ اُسکا تمسخّر بھی اُڑائے۔ جس مذہب کے ہادی برحق صلی اللہ علیہ و آل وسلم کا یہ فرمان عالی شان ہو کہ گھر میں پھل کے چھلکے باہر گلی میں نہ پھینکو اور گھر میں گوشت کھا کر دروازہ کے باہر کھڑے ہو کر دانتوں میں خلال نہ کرو کہ مبادا تمہارے پڑوسی کا دل نہ دُکھے جو فروٹ اور گوشت کی نعمت سے محروم ہے۔ وہاں ہم کس ڈھٹائی سے محروم پسماندہ، بے بس و لاچار اور غریب و مسکین اور کم وسائل لوگوں کی دل آزاری بے دھڑک اور بے رحمی سے کر رہے ہیں۔ اس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔
(جاری ہے)



