zاسلام آباد (نیشنل ٹائمز)پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 گھنٹے سے تاخیر کا شکار ہے،اسپیکر اور اپوزیشن ارکان نے اجلاس کے آغاز سے پہلے مطالبات پورے کرنے کی شرط رکھ دی ہے۔پختونخوا کا 1332 ارب کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 16 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ اپوزیشن کے مطالبات پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک ہوگیا ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا ہے کہ تحریری معاہدے کے بعد ہی اسمبلی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ نے آئی جی پنجاب سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ بجٹ اجلاس میں شرکت کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اسمبلی پہنچ گئے ہیں تاہم اب تک اسمبلی کی کارروائی شروع نہیں ہوسکی ہے۔اپنے مطالبات پر مبنی ڈرافٹ تیارکرلیا ہے۔اسپیکر پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے، ارکان اسمبلی کااستحقاق مجروح کرنے پر آئی جی پولیس کو معافی مانگنی ہوگی۔اپوزیشن لیڈر سبطین خان نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری اسپیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوں، تحریری معاہدےکے بعد ہی اسمبلی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک، پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع نہ ہوسکا



