اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) آصف علی زرداری نے عالمی یومِ آزادی صحافت (3 مئی 2026) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سچائی کے بغیر پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا اور اس سچائی کو سامنے لانے میں صحافیوں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور دنیا بھر کے صحافیوں، ایڈیٹرز اور میڈیا ورکرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سال کا موضوع “پرامن مستقبل کی تشکیل” اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ذمہ دار صحافت عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج آزادیٔ صحافت کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں، جن میں غلط معلومات (Misinformation) اور من گھڑت معلومات (Disinformation) سرفہرست ہیں، جو عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں اور جمہوری عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت جہاں مواقع فراہم کر رہی ہے وہیں اس کے غلط استعمال، بالخصوص ڈیپ فیک، نئے خطرات کو جنم دے رہے ہیں۔
اپنے پیغام میں آصف علی زرداری نے کہا کہ عالمی سطح پر صحافیوں کو ہراسانی، قانونی دباؤ اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بڑے ٹیکنالوجی ادارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بعض اوقات معلومات کے بہاؤ پر اثر انداز ہو کر رائے عامہ کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت ایک آئینی حق ہے، جس کی ضمانت آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 19-اے کے تحت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک آزاد اور خودمختار میڈیا ریاست کی مضبوطی کی علامت ہوتا ہے۔
صدر نے خبردار کیا کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے، اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ درستگی، توازن اور پیشہ ورانہ اصولوں کو ہر صورت برقرار رکھے۔ انہوں نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ جھوٹی خبروں کو مسترد کریں اور معتبر صحافت کا ساتھ دیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک ایسا معلوماتی نظام قائم کر سکتا ہے جو سچائی، شفافیت اور ذمہ داری پر مبنی ہو، جو نہ صرف جمہوریت بلکہ قومی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔



