تناؤ کی علامات اور ان کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)تناؤ کا سامنا ہم سب کو ہوتا ہے، یہاں تک کہ بچوں میں بھی اس کی علامات کو دیکھا جاسکتا ہے۔روزمرہ کی مصروف زندگی ہو، مالی معاملات کا انتظام یا کسی رشتے دار سے خراب تعلق، تناؤ کی وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ویسے تو معمولی تناؤ نقصان دہ نہیں بلکہ انسان کو حالات سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، مگر بہت زیادہ تناؤ شخصیت پر جسمانی اور ذہنی اعتبار سے منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے بلکہ مختلف امراض کا شکار بھی کرسکتا ہے۔تناؤ کو کنٹرول کرنے کا پہلا قدم اس کی علامات کو جاننا ہے مگر یہ کام کافی مشکل ہوتا ہے۔درحقیقت بیشتر افراد کو تناؤ کا علم اس وقت ہوتا ہے جب معاملہ زیادہ سنگین ہوچکا ہوتا ہے۔تناؤ کیا ہے؟تناؤ خطرناک یا مشکل حالات میں جسم کے ردعمل کا نام ہے، اب چاہے صورتحال حقیقی ہو یا خیالات تک محدود۔جب آپ کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو جسم میں ایک کیمیائی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو آپ کو نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔اسے اسٹریس ریسپانس بھی کہا جاتا ہے اور اس کے دوران دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، مسلز میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے، تیزی سے سانس لینے لگتے ہیں اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ہمارا جسم تناؤ کی معمولی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیزائن ہوا ہے مگر طویل المعیاد یا دائمی تناؤ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔تناؤ کی علامات تناؤ جسم کے تمام پہلوؤں پر اثرانداز ہوتا ہے، جذبات، رویے، سوچنے کی صلاحیت اور جسمانی صحت سب پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔البتہ لوگوں میں علامات مختلف ہوسکتی ہیں کیونکہ ہر ایک کا تناؤ سے نمٹنے کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔مگر عمومی علامات کافی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں۔جذباتی علامات بہت جلد غصہ آنا اور چڑچڑا پن۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت زیادہ جذباتی ہوجانا۔ذہن کو پرسکون رکھنے میں مشکلات کا سامنا۔اپنی ذات کو برا سمجھنا، تنہائی یا بے قدری کا احساس۔دیگر افراد سے دور رہنا۔جسمانی علاماتجسمانی توانائی میں کمی۔سردرد۔ہاضمے کے مسائل بشمول ہیضہ، قبض اور قے۔مسلز میں تکلیف یا تناؤ محسوس ہونا۔سینے میں تکلیف اور دل کا بہت تیزی سے دھڑکنا۔بے خوابی۔اکثر نزلہ زکام اور دیگر عام بیماریوں سے متاثر ہونا۔کپکپی، کانوں میں گھنٹیاں بجنا، ہاتھوں پیروں میں ٹھنڈے پسینے آنا۔ذہنی علامات مسلسل فکرمند رہنا۔ایک جیسے خیالات بہت تیزی سے بار بار ذہن میں ابھرنا۔فیصلہ کرنا مشکل ہونا۔قنوطی یا محض منفی پہلو کو دیکھنا۔رویوں کی علامات کھانے کی خواہش میں تبدیلی جیسے کچھ نہ کھانا یا بہت زیادہ کھانا۔ذمہ داریوں سے بچنا اور بہانے بازی کرنا۔سیگریٹ نوشی زیادہ کرنا۔ناخن چبانا، بیٹھے ہوئے بے قرار رہنا۔طویل المعیاد علامات کے نتائج کیا ہیں؟اگر کسی فرد کو مسلسل تناؤ کا سامنا ہو تو اس کو ذہنی صحت کے مسائل بشمول ڈپریشن، انزائٹی وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔اسی طرح امراض قلب، ہائی بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔موٹاپے، جلد اور بالوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ ہاضمے کے مختلف امراض کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔



  تازہ ترین   
شہباز شریف کی صدر زرداری سے ملاقات، پارٹی سطح پر مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
بھارت سے ساولکوٹ ڈیم پر تفصیلات طلب، پانی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: دفتر خارجہ
بانی پی ٹی آئی کی بینائی صرف 15 فیصد باقی ہے: بیرسٹر سلمان صفدر
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر