اثر خامہ: قاضی عبدالقدیر خاموش
یہ حب رسول ﷺہے کہ جس نے لخت لخت اور صد پارہ امت کو ایک بار پھر ایک لڑی میں پرو دیا ہے ، قیادت کا منصب ایک بار پھر وہ عرب لے گئے جو کل تک بھارتی فلموں کے رسیا اور ہند وعرب محبت کے نغمے گاتے تھے ، دہلی کی اک حرافہ کے توہین آمیز جملے نے امت کی روح کو جھنجھوڑ ڈالا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے عرب سے اٹھنے والی ’’ الا۔ رسول اللہ ‘‘کی صدا عالم اسلام کا نعرہ مستانہ بن گئی ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین میں قاتل مودی کو سینے سے لگایا جاتا رہا تھا، اس کے سینے پر عرب کے ریاستوں کے اعلیٰ ترین تمغے آویزاں کئے جاتے تھے ۔سعودیہ اور امارات دن رات ساری سرمایہ کاری اور محبت مودی کے مسلمان دشمن انڈیا پر نچھاور کرتے پائے گئے یہاں تک کشمیر بھی بھول گئے اور بھارتی مسلمانوں کا قتل عام بھی ۔ عرب حکومتوں میں اس پذیرائی نے مودی کی ہندوتوا کا دماغ گھمادیا اور اللہ کی منشاء غالب یوں آگئی کہ مودی کی لاڈلی اور ہندوتوا کی ترجمان نوپور شرما نے ناموس رسالت ﷺ پرہرزہ سرائی کر دی ، بی جے پی کا میڈیا مینیجر نیپرنوین جندال بھی کھل کر اسلام دشمن کے طور پر سامنے آگیا، اس پر معاملہ جب عرب دنیا تک پہنچا تو وہ رد عمل آیاجو عشاق رسول کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے ۔ یہ عوامی ردعمل مصر، سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت میں بائیکاٹ انڈیا مہم کے آغاز سے ہوا اور صرف چار گھنٹے میں دنیا کا سوشل میڈیا ’’ الا۔الرسول۔ یا مودی ‘‘(اے مودی، ہمیں اپنے رسول پاک ﷺکے سوا کچھ نہیں چاہیے) سے گونج اٹھا ۔ آج چوتھا دن ہے کہ یہ نعرہ ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ اللہ جزائے خیر سے نوازے مفتی اعظم عمان احمد بن حمد الخلیلی کو جس نے نہ معلوم کس خلوص کے ساتھ عرب دنیا سے اپیل کی کہ جس معاملہ پر بھارتی مسلمان ایک ہفتے سے مار کھا رہے تھے4گھنٹے میں چہار دانگ عالم گونج اٹھا،اور عرب بازاروں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایسی فقیدالمثال مہم سامنے آئی کہ مودی بھی ششدر رہا گیا ۔ عوامی رد عمل کا ریلا اس قدر شدید تھا کہ قطر، کویت، ایران اور پاکستان نے بھارتی سفیروں کو طلب کرکے وضاحت طلب کی ہے۔ سالوں سے خوابیدہ او آئی سی نے بھی آنکھیں کھولیں اور بھارت کو دن میں تارے دکھا ڈالے ۔ پاک فوج کو البتہ امت مسلمہ کی واحد فوج ہونے کا یہ اعزاز حاصل رہا کہ اس نے بطور ادارہ حب رسول ﷺ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے بھارت کو للکارا۔
ہے عشقِ محمدﷺ کا دستور جداگانہ
جینے کی علامت ہے سرکار ﷺ پہ مر جانا
پورا عالم اسلام سراپا احتجاج ہے، کل تک اس توہین پر کمزور بھارتی مسلمانوں کے احتجاج کا مذاق اڑانے اور انہیں سبق سکھا دینے کے نعرے لگانے والا بھارتی میڈیا اب مودی کا گریبان پکڑ رہا ہے کہ اس نے دنیا بھر میں بھارت کے مفادات کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ سفارتی ماہرین سر بگریباں ہیں کہ اس ایک واقعہ کے رد عمل میں بھارت کو جو سفارتی اور تجارتی جھٹکا لگا ہے ، اس کا ازالہ کم ازکم نصف صدی تک نہ ہوپائے گا۔
سچ کہا تھا ، اقبال ؒ نے کہ :
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی
گجرات کے قصائی کے نام سے شہرت پانے والے بی جے پی کے انتہا پسند اور خونیں نظریات کے حامل نیم خواندہ لیڈر نرندر مودی کے 2014میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کو ایک خالص انتہا پسند ہندو ریاست بنانے کے اعلان کے نتیجہ میں ریاستی سر پرستی میں مسلمانوں کے خلاف منظم انداز میں پرتشدد کارروائیوں اور نفرت پھیلانے کی مہم جاری ہے ، جس میں ان کی شہریت کو متنازع بنانا، ان کی املاک کو تباہ کرنا ، مسلم روایات اور اسلامی شعائر پردہ اور دیگر پر قدغن لگانا ، مختلف مجہول حوالوں کی بنیاد پر مساجد کو شہید کرنا اور گائو کشی کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کرنا شامل ہے۔لیکن اب یہ مہم پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی تک آن پہنچی ہے، جو کسی قیمت پر قابل برداشت نہیں ہے ۔مسلمان مر تو سکتاہے مگر توہین رسالت برداشت نہیں کرسکتا ، یہی وجہ ہے کہ کل تک بھارت سے دوستی کا دم بھرنے والا عرب خطہ توہین کے اس ایک واقعہ پر بھارت کے لئے نفرت کا استعارہ اور جلتا ہوا انگارہ بن چکا ہے ، جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ غیرت مسلم کوکسی قیمت پر ناموس رسالت پر آنچ آناگوارا نہیں ۔ صرف مسلمان ہی نہیں ، رحمۃ اللعالمین ﷺ کی شان ، صفات اور محبت سے سرشار وہ غیر مسلم بھی ہیں ، جن کے دماغوں میں مودی جیسی اسلام دشمنی نہیں بھری ہوئی ، بھارت ہی کے سکھ شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی نے کیا خوب کہا :ـ
نام لیوا ہیں محمدﷺکے پرستار تو ہیں یعنی مجبور پئے احمد مختارﷺ تو ہیں
عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں
پیارے نبی آقا دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کے لئے مسلمانوں کی محبت ، ہر چیز پر مقدم ہے اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کی عزت ، حرمت اور ناموس کے لئے ہر مسلمان اپنی جان ، مال ، اولاد سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے۔ مودی سرکار کو چاہئے کہ وہ انگاروں سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے مسلمان سب کچھ برداشت کرلیں گے،لیکن آقا ﷺکی ذات مبارک کے حوالہ سے توہین کاشائبہ بھی برداشت نہیں کریں گے۔جن بھارتی مسلمانوں کو معاشی ،اور سیاسی طور پر مودی قریب المرگ سمجھ رہا ہے ، اس راکھ کے ڈھیر میں بھی ایسی چنگاریاں نکلیں گی کہ توہین کرنے والوں کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ۔ایک مسلمان کی زندگی میں نبی کریمﷺ کی غلامی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے ’’غلامی‘‘ کے باوجود بھرپور احتجاج کرکے یہ ثابت کر دیا ہےکہ حب رسول ﷺ کے معاملہ میں وہ کسی دبائو اور جبر کا شکار ہونے کو تیار نہیں ، دوسری جانب عرب اور پوری امت کے مسلمانوں نے بھی ثابت کردیا ہے کہ مسلمان بھارت کا ہو یا عرب کا اس آتش عشق میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ۔
جفاء جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفاء ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت کا کچھ مزا ہی نہیں
بھارتی مسلمانوں پر تشدد ڈھا کر نریندر مودی یہ سمجھا تھا کہ ملعونہ نپور شرما کی گستاخی کا معاملہ دب جائے گا، لیکن بھارتی عشاق رسولﷺ کی قربانی رنگ لے آئی اور عشق مصطفیﷺ کی خوشبو ساری سرحدات کو روندتی ہوئی عرب و عجم تک پھیل گئی اور بی جے پی کی گستاخ ملعونہ کے خلاف او آئی سی ، سعودی عرب، قطر، کویت تک احتجاج پھیل گیا۔ اس مرتبہ عرب ممالک نے انڈیا بائیکاٹ مہم شروع کرکےبھارتی مفادات پر جو کاری ضرب لگائی ہے اس سےمودی بھی سٹپٹا کر رہ گیا ہے اب تو وہ گستاخی کی مرتکب اپنی چہیتی سے لاتعلقی کا اعلان تک کرنے پر آگیا ہے ۔لیکن ہمارے خیال میں صرف اس بات پر خوش نہیں ہوجانا چاہئے کہ مودی گستاخی سے لاتعلقی کا اعلان کر رہا ہے۔عالم اسلام کو اس پرایک دو ٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا ۔وقت کی اس آواز کو سننا ہو گا کہ اپنی اقدار اور ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر رنگ ونسل کی قید سے آزاد اور متحد ہوکر اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا سیکھیں ۔ یہ طے کرنا ہوگا کہ جہاں بھی، جو بھی ملک اسلامو فوبیا کو سپورٹ کرےحکومتی فیصلوں سے علی الرغم امۃ اس کا معاشی بائیکاٹ کرے اور اس وقت تک پیچھے نہ ہٹے جب تک فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کرلی جائے ۔ اقوام متحدہ کو بھی اب اس معاملہ پر تشویش ہوگئی ہے ، لہذا لازم ہے کہ او آئی سی جس نے جھرجھری تو لی ہے ، باقاعدہ زندہ ہوجائے اور امت مسلمہ کے رد عمل کو اپنی قوت بناتے ہوئے اس مسئلہ کے مستقل حل کی جانب پیش رفت کرے ۔ مسلم حکومتوں خصوصاً او آئی سی کو چاہئے کہ اسلامو فوبیا کی طرح توہین ناموس رسالت کا معاملہ بھی اقوام متحدہ میں لے جایا جائے اور توہین انبیاء کو عالمی سطح پر جرم قراردلوانے کے لئے تمام مسلم ممالک کو سفارتی طور پر متحد ہوکر ایک بلاک کی صورت جنگ لڑی جائے ۔ اس معاملہ میں چین اور روس جیسے بڑے ممالک بھی عالم اسلام کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں ۔بھارت کو یہ باور کروانا ضروری ہے کہ جب تک ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کر کے قرار واقعی سزا نہیں دی جاتی یہی سمجھا جائے گا کہ یہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا بھارتی حکومت کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ایک طویل عرصہ کے بعدمسلم امۃ نے منظم انداز میں اجتماعی رد عمل دیا ہے ، جس میں حکومتوں سے زیادہ عوام کا عمل دخل ہے ۔ عالم اسلام کل 10جون کو عالمی یوم حرمت رسول منا رہا ہے ، ہمیں اس میں اپنی بساط کے مطابق بھرپور شرکت کرنی چاہئے ۔
سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہؑ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیدا
کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہمسفر پیدا



