امریکا نے پاکستان اور بھارت کو اپنے تعلقات معمول پر لانے کیلئے براہ راست مذاکرات کرنے کا مشورہ دیدیا

واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کے فیصلے پر تبصرے سے انکار کیا، تاہم اس کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کو تعلقات معمول پر لانے کے لیے براہ راست مذاکرات کرنے چاہیے۔مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اس پیشرفت سے متعلق سوال پر کہا کہ ‘میں خاص طور پر اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا، میں یہ کہوں گا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان تشویش کے امور پر براہ راست مذاکرات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ 31 مارچ کو اقتتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اسلام آباد میں اعلان کیا تھا کہ وہ نجی شعبے کو بھارت سے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔کمیٹی نے جون سے بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی تھی۔تاہم یکم اپریل کو وفاقی کابینہ نے اس وقت تک بھارت سے تجارت کرنے کے ای سی سی کے فیصلے کو مؤخر کردیا تھا جب تک نئی دہلی اپنے آئین کا آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتا، جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت دیتا ہے۔پاکستان نے نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد اگست 2019 میں بھارت سے دوطرفہ تجارت معطل کردی تھی۔بھارت سے تجارت بحال کرنے کا حالیہ فیصلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیز فائر پر اتفاق کے بعد سامنے آیا تھا۔اس اقدام نے ان امیدوں کو دوبارہ زندہ کردیا تھا کہ جوہری طاقت رکھنے والے دونوں پڑوسی ممالک تعلقات معمول پر لانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات لینا شروع کریں گے۔سال 19-2018 میں پاکستان اور بھارت نے صرف 49 کروڑ 48 لاکھ ڈالر سے زائد کی باہمی تجارت کی تھی جس کا زیادہ تر حصہ بھارت کے فائدے میں رہا تھا۔محکمہ خارجہ کی بریفنگ میں نیڈ پرائس نے بائیڈن انتظامیہ کی اس خواہش پر بھی زور دیا کہ امریکا، افغانستان سے فوجی انخلا چاہتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا واشنگٹن اس کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر عمل کرے گا یا نہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے گزشتہ سال فروری میں طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے مطابق واشنگٹن کو یکم مئی تک افغانستان سے فوجی انخلا مکمل کرنا ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے بھی اس معاہدے کو قبول کیا تھا لیکن وہ ڈیڈ لائن پر عملدرآمد میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔نیڈ پرائس نے کہا کہ ‘ہم تنازع کے ذمہ دارانہ خاتمے کے لیے پرعزم ہیں جس میں ہماری فوج کا انخلا بھی شامل ہے لیکن یہ اس یقین دہانی کے بغیر نہیں ہوگا کہ افغانستان دوبارہ کبھی امریکا یا اس کے اتحادیوں کے خلاف دہشت گردوں کے حملوں کے لیے لانچ پیڈ نہیں بنے گا۔



  تازہ ترین   
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ذخائر بڑھانے کی ہدایت
آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء
پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار
کل سے بارشوں کا نیا طاقتور سپیل داخل ہونے کا امکان، سیلاب کا خدشہ
امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج
میر پور ڈویژن کے انتخابات: ن لیگ 7 نشستوں پر کامیاب، پیپلزپارٹی کی 4 سیٹیں
حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ
میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر