ہم سینچتے ہیں کشت سحر اپنے لہو سے

خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
صلاح الدین ایوبی ؒکے خلاف صلیبی تعاون سےنام نہاد خانقاہی تحریک اٹھی تو عالم اسلام کے اس بطل جلیل نے اپنے انٹیلی جنس چیف علی بن سفیان سے کہا کہ ’’ان سب کو کچل ڈالو ، میدان جنگ میں بر سر پیکار شمشیر بکف دشمن کو معاف کیا جاسکتا ہے ، لیکن اپنی افواج کے خلاف پروپگنڈا کرنے والا میرا بیٹا بھی ہو تو قابل معافی نہیں ۔ قومیں میدان میں دشمن سے لڑ کر تباہ نہیں ہوتیں بلکہ سازشی عناصر کی جانب سے قوم اور فوج کے درمیان دوریاں پیدا کردینے سے تباہ ہوتی ہیں اور پھر کبھی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتیں ۔‘‘تاریخ بتاتی ہے کہ پروپگنڈہ کا مہلک ہتھیار صلیب وہلال کے معرکوں میں صلاح الدین ؒکے خلاف پہلی بار جس سفاکیت سے استعمال کیا گیا تھا ، اب اس سے بھی فزوں تر قوت کے ساتھ یہی حربہ پاک افواج کے خلاف رو بہ عمل ہے ۔جسے ففتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے ۔ تکنیکی طور پر اس جنگ کی تعریف یہ ہے کہ پروپگنڈے کے زور سے اپنی قوم کو ہی فوج کے خلاف کھڑا کردیا جائے ،اور باہمی انتشار اور عدم اعتماد کی کیفیت پیدا کرکے ایسا عدم استحکام مسلط کردیا جائے کہ دشمن کچھ کئے بغیر ہی جیت جائے ، جیسا 1971 میں ڈھاکہ میں ہوا۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
ابھی گزشتہ برس یورپی یونین کے ایک ادارے نے ’’ فالس فائلز‘‘ کے نام سے پاکستان کے خلاف بھارتی نیٹ ورک پکڑا ہے ، جس میں ہزاروں کی تعداد میں ویب سائٹس ، میڈیا سیلز شامل پائے گئے ، پاکستان نے اگست 2020میں بھارتی علاقہ کرناٹک میں بھارت کا ایک بہت بڑا سوشل میڈیا سیٹ اپ بے نقاب کیا اور اقوام متحدہ میں تفصیلات جمع کروائیں ، اب تک بھارت اس کا جواب نہیں دے سکا ۔ان دونوں بھارتی سازشی مراکز کا بجٹ کروڑوں ڈالر تھا ،اور انہیں بھارت کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور امریکی انٹیلی جنس کی ٹیکنیکل مدد حاصل تھی ، یہاں سے روزانہ لاکھوں کی تعداد میں پاک افواج کے خلاف پوسٹیں اور ٹویٹس اردو زبان اور پاکستانی ناموں کے ساتھ سوشل میڈیا پر لانچ کی جاتی ہیں اور بے خبر سیاسی کارکن انہیں لے اڑتے ہیں ، اپنے ہی سر میں راکھ ڈالنے اور اپنے ہی دفاع کو کمزور کرنے ۔
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
یہ کل کے بچے کیا سمجھتے ہیں کہ وہ ان سے بے خبر ہیں ان کے پاس ان کا کوئی حل نہیں ؟ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ بے سمجھ سیاسی کارکن اپنے ہیں ، دشمن نہیں۔ ہمارا یہ مطلب نہیں کہ زباں بندی کردی جائے ، ایک ا ستعماری سناٹا مسلط کردیا جائے ، ایسا ممکن نہیں نہ ہی ہمارے اداروں سمیت کوئی یہ چاہتا ہے ۔ افواج کے سیاسی فیصلوں ، سیاسی کردار اور پسند نا پسند سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ، اور ہم بھی کرتے ہیں ، مزے کی بات یہ کہ مسلح افواج کے ادارے اس مثبت اعتراض یا اختلاف کو عزت دیتے ہیں ، قبول بھی کرتے ہیں ۔ لیکن توہین ، تضحیک ، الزام تراشی ،
دشمن کے الفاظ کے لئے اپنے قلم وزبان کو وقف کرنا یہ ناقابل برداشت ہے ، اداروں کے لئے بھی اور معاشرے کے لئے بھی ۔ اپنی افواج کے خلاف کھڑے ہونا کیا ہے ، اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ سابق بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کا ایک بیان ہے کہ ’’پاکستانی فوج کو کشمیر سے دور رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پاکستانی عوام کے ساتھ الجھا دیا جائے۔ اس میں بھارت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی عوام میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو پیسے کے عوض اپنی فوج اور ملک کے خلاف سب کچھ کرنے کے لئےتیار ہو جائینگے۔ ‘‘ بھارتی جرنیل کے الفاظ پاکستانی قوم کے منہ پر طمانچہ کے مترادف نہیں ؟۔ فوج اور وطن کیخلاف کام کرنیوالے لوگ غدار کہلاتے ہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بکرم سنگھ زیادہ غلط بھی نہیں ہے۔کیوں کہ یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہی ہے کہ پاک فوج کے خلاف پاکستان کے اندر ہی سے ایک ایسی خطرناک مہم چلا دی گئی ہے جو ملکی سلامتی کے لیے کے خلاف دشمن کی مہم کا حصہ لگتی ہے، اور یہ بات افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ پاکستان میں تحفظ اور بقا کی ضمانت پاکستان آرمی کے مخالفین کی کمی نہیں ہے۔ جو کہ اکثر مغربی ایجنڈ ا پر عمل پیرا ہو کر افواج پاکستان اور دیگر اداروں پر تابر توڑ حملے کرتے رہتے ہیں۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ فوج کا وجود ملکی سلامتی کے لازم ہے ، اور جہاں فوجیں نہیں ہوتیں ، یا کمزور ہوتی ہیں تو وہاں کیا عالم ہوتا ہے ، اسے جاننے کی خاطر زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ، عالم اسلام کی صورتحال پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے ، جو اس وقت خون آشام ہنگاموں کی لپیٹ میں ہے، لاکھوں مسلمان لقمہ اجل بن چکے ہیں اور جو زندہ ہیں، ان کی حالت مردوں سے بھی بدتر ہے۔ استعمار نے عراق، لیبیا، یمن، شام، مصر جیسے ہنستے بستے اور متمول مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ہے ، کیا یہ حملہ ہم پر نہیں ہوا تھا ، دہشت گردوں کے لشکر ہمارے لئے تیار نہ ہوئے تھے ؟ انہیں کس نے روکا ، یہ پاک افواج کے افسرو جوان ہی تھے جو سینہ سپر ہوئے اور 80ہزارجانوں کی قربانی دے کر انہوں نے شہروں کا سکون ، اور شہریوں کی نیند کو بحال کیا اور آج بھی ملک کے چاروں طرف سے لپکنے والی دشمنی اور دہشت گردی کی آگ کا مقابلہ کون کر رہا ہے ؟ یہ روزانہ خاکی پیرہن پر اپنے لہو کی سرخی سجائے ، قبر وں میں اترنے والے کون ہیں ؟وہ کون ہیں جو صدا لگاتے ہیں کہ
سو جاؤ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں
شہر کے باسی کو گردشِ لیل ونہار میں کیا معلوم کہ جون میں بھی سیڈل پوسٹ (سیاچن) برف سے ڈھکی ہوتی ہے۔ جب برفانی طوفان (بلیزرز) طیش پہ مائل ہوں تو اگلو (دھات کے بنے گول فوجی بنکر) تک کو اپنے نیچے نگل لیتے ہیں۔ جاڑے میں آمدورفت اور مواصلات منجمد ہو جاتے ہیں۔ جہاں پانی پینے سے پہلے پانی بنانا ضروری ہے۔ سو برف پگھلائی جاتی ہے۔ وہاں ہفتوں سورج اپنا چہرہ نہیں دکھاتا۔ ہر جانب کریوس (گہری، اندھی اور اندھیری کھائی) منہ کھولے ہانپ رہی ہے۔اہل خانہ سے تو کیا، موسمی حالات مہینوں اپنے بیس کیمپ سے قطع تعلق رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ پھر بھی تنومندی سے وہاں ڈٹے بیٹھے ہیں۔ میرے لیے! تمہارے لیے! کسی کو کیا معلوم کہ شمالی وزیرستان یا بلوچستان میں جب آئی-ای-ڈی (خودکار دھماکہ خیز مواد، جو کہ دہشتگرد مسلح افواج کے خلاف استعمال کرتے ہیں) دھاڑتی ہے تو بارودی اجسام کتنے ٹکروں میں تقسیم ہو کر ادھر اُدھر بکھرتے ہیں۔ جب باقی ساتھی ان ٹکڑوں کو چنتے ہیں، تو ان پہ کیا بیتتی ہے؟ جی! میرے لیے، تمہارے لیے۔یہ پھڑپھڑاتا ہیلی کاپٹر دیکھنے میں کتنا رومانوی لگتا ہے۔ لیکن جب کبھی اپنے ہی مدار میں تین سو ساٹھ کے زاویے پہ گھومتا ہوا زمین کا بوسہ لے لے تو خود سمیت اپنے سواروں کو بھون ڈالتا ہے۔ وہ برق رفتار ٹینک گر راکٹ لانچر کا نشانہ بن جائے تو اپنے اندر ایک آتشیں بھٹی سجا لیتا ہے۔ کچھ لوگ راضی با رضا جلتے ہیں۔ میرے لیے! تمہارے لیے! اور ہم ہی اگر ان پر پر گالی اچھالیں جو ہمارے کل پر اپنا آج قربان کر رہے ہیں تو ، ہم سے زیادہ بددیانت اور نا شکرا پھر کون ہوا ؟
” شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے بڑی زرخیز ہوتی ہے بہت شاداب ہوتی ہے
جہاں سے غازیانِ ملتِ بیضا گزرتے ہیں وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے ”
ایک ایسے دور میں جب عالم اسلام میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے، پاکستان کے 23کروڑ سے زائد عوام سکون سے زندگی گزارتے ہیں اور رات کو سکون سے سوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ دشمنوں کے درمیاں ، سازشوں کے منجدھار میں، بدقسمتی سے ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں کرپشن اور لوٹ مار کا دور دورہ ہے۔ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری نے عام شہریوں کی مت مار کر رکھ دی ہے۔ سیاستدان بے دریغ ملکی سرمایہ لوٹ کر باہر کے ممالک میں منتقل کرتے آئے ہیں، یہاں تک کہ اس ملک کی اشرافیہ پاکستان کے بجائے بیرون ملک میں علاج کروانے کو ترجیح دیتی ہے۔ ان حالات میں ایک سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ وہ کون سی طاقت ہے جو دشمن کے ہر حربے، ہتکھنڈے اور وار کو ناکام بنائے ہوئے ہے؟ تو وہ ہماری بہادر افواج ہیں جو خشکی، بحری اور فضائی، تینوں محاذوں پر اس ارض پاک کی حفاظت کرنے میں مصروف ہیں۔
فقط اِس جرم میں کہلائے گنہ گار کہ ہم ہر ناموسِ وطن، جامہ تن مانگتے ہیں
لمحہ بھر کو تو لبھا جاتے ہیں نعرے، لیکن ہم تو اے اہلِ وطن، دردِ وطن مانگتے ہیں



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر