تحریر نذیر ڈھوکی
چیئرمین پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری فروری سے 8 مارچ تک
مزار قائد کراچی تک عمران خان کو
للکارتے رہے کہ تم بہادر ہو تو ہمارا مقابلہ کرو ورنہ استعفے دیکر گھر چلے جاو۔ کوئی مانیں یا نہ مانے مگر
حقیقت یہ ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی مارچ کرکے سیاسی جمود کو توڑ دیا اور پھر ایک ماہ میں خود کو آمر سمجھنے والے دو نمبر ٹائیگر نیازی کو ڈھیر کردیا، میڈیا پر دسترس رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ بھٹو کے نواسے اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بیٹے نے عملی طور سیاسی میں میں تمام سینیئر سیاستدانوں کو کئی میل پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پی ڈی ایم کے خالق بھی وہ تھے اور
قومی اسمبلی میں متعدہ حزب اختلاف کے روح رواں بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان چاہے کتنے بھی نالائق ہوں یا بیوقوف ہوں مگر
اتنے بھی نہیں تھے کہ قومی اسمبلی میں لائی جانے والی عدم اعتماد کی تحریک کے نتائج سے غافل تھے ، وہ تو کہتے تھے کہ میں ہار نہیں مانتا آخری بال تک کھیلوں گا ، مگر ہوا کیا؟ اپنے 140 بال چھوڑ کر وکٹیں اور بال لیکر میدان چھوڑ کر بھاگ گئے عمران خان کے اس عمل سے چیئرمین کا یہ بیانیہ سچ ثابت ہوا کہ یہ جعلی خان ہے ،بزدل ہے ،جھوٹا ہے ۔ در اصل حقیقت بھی یہ ہی ہے تین اپریل کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو کرائے کے ٹارگٹ کلر کے طور استعمال کیا جس نے قومی اسمبلی پر خود کش حملہ کیا اس سے قبل انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو آئین سے انحراف کرنے کی مشق کرائی تھی جس کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو چکی تھی ۔ عیار نیازی نے اپنے ٹائیگر عارف علوی کے ہاتھوں قومی اسمبلی تحلیل کروائی
یہ تمام کام انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں ہوئے جس کا انجام سپریم کورٹ میں ہوا فاضل عدالت نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو بتی بناکر جعلی خان کی مٹھی میں تھما دی ۔ قومی اسمبلی بحال ہو چکی ہے
اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ بھی ہو رہی ہے۔ جہاں تک ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے حوالے سے عدالت عظمی کے تاریخ ساز فیصلے کا تعلق ہے تو
سچ یہ ہے کہ عدالت عظمی نے کئی دہائیوں سے جاری نظریہ ضرورت کی تعفن زدہ لاش کو دفن کر دیا ہے۔
قوم کے لیئے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے مقدس آئین کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور باور کرایا ہے آئین ہی سپریم ہے، آئین ہی مقدس ہے اور آئین ہی ملک اور قوم کی بقا کیلئے آب حیات ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں جب سپریم کورٹ کے
7 اپریل کے فیصلے کو سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا تو حوالہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بھی ضرور رقم ہوگا ایک نوجوان سیاسی قائد نے آئین کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیئے تاریخی اور بےمثال کردار ادا
کیا ،



